سانھہ گل پلازہ ؛ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار؛24 گھنٹے میں مقدمہ درج کرنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
سٹی 42: گل پلازہ کی زمین کب، کس نے اور کس کو الاٹ کی؟ حکومتی ابتدائی رپورٹ تیار ہوگئی ۔
سانحہ گل پلازہ کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آگئے۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گل پلازہ کی زمین کے ایم سی کی ملکیت تھی۔ گل پلازہ کی زمین 1883 میں ٹرام سروس کیلئے ایسٹ انڈیا کمپنی کو 99 سال لیز پر دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق جینیکا کمپنی نے 1979 سے زمین پر نظریں رکھنا شروع کیں۔ ریکارڈ میں انکشاف نے کہا 1983 میں زمین کی 99 سالہ لیز ختم ہو گئی۔
پنجاب میں ”اپنا کھیت،ا پنا روزگار پروگرام“ شروع کرنے کا فیصلہ
رپورٹ میں بتایا گیا کہ لیز ختم ہونے سے ایک ماہ قبل زمین جینیکا نامی گروپ نے خرید لی۔جماعت اسلامی کے میئر عبدالستار افغانی کے دور میں زمین کا تبادلہ ہوا۔ جماعت اسلامی کے میئر عبدالستار افغانی 1979 سے 1987 تک میئر رہے۔ عبدالستار افغانی کے دور میں ختم لیز کے باوجود تعمیرات شروع ہوئیں۔ لیز ختم ہونے کے باوجود گل پلازہ کی عمارت کی تعمیر شروع کر دی گئی۔ بغیر لیز گل پلازہ کی تعمیرات سات سال تک جاری رہیں۔ گل پلازہ کی زمین ایم کیو ایم کے میئر فاروق ستار کے دور میں لیز پر دی گئی۔ کے ایم سی کی زمین گل پلازہ کیلئے 3 نومبر 1991 کو الاٹ کی گئی۔ گل پلازہ کی لیز پر سابق میئر کراچی فاروق ستار کے دستخط موجود ہیں ۔ کے ایم سی کی زمین گل پلازہ کیلئے صرف تین روپے فی گز کرائے پر لیز کی گئی۔؎ رپورٹ کے مطابق 1991 میں فاروق ستار نے زمین کی باضابطہ لیز دی۔ 2003 میں گل پلازہ کے اضافی فلور ریگولرائز کئے گئے، اضافی فلور کی منظوری جماعت اسلامی کے میئر نعمت اللہ خان کے دور میں دی گئی ۔
حکومت نے مری میں سیاحوں کیلئےنئی سہولت متعارف کروادی
گل پلازہ سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد
گل پلازہ سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد 71 ہو گئی ۔16افراد کی لاشیں ڈی این اے کی مدد سے شناخت کرلی۔سانحے میں 65 سے زائد افراد ابھی بھی لاپتہ ہیں ۔ عمارت میں ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے ۔ تاجر برادری نے سانحے پر اجلاس بلا لیا۔تاجروں نے گل پلازہ آپریشن جلد مکمل کرنے کی اپیل کی ہے ۔ْ تاجر برادری نے سانحے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کردیا ۔
بینائی سے محروم افراد کو خصوصی افراد کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ
چیئرمین ہول سیل اینڈ گروسری نے کہا کراچی کو ایک سال کے لیے فیلڈ مارشل کے حوالے کیا جائے۔ متاثرہ افراد کے خاندانوں کی بحالی ممکن بنائے ۔تمام تاجروں کی مکمل بحالی تک ساتھ رہوں گا۔
سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت
پرائیویٹ سکولوں کی کتابوں اور یونیفارم کی زبردستی فروخت پر پابندی عائد
سانحہ گل پلازہ کا مقدمہ آئندہ 24 گھنٹے میں درج ہونے کا امکان ہے ۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی آر نا معلوم ملزمان کے خلاف درج کی جائے گی۔ وزیر داخلہ ضیاالحسن لنجار نے کہا مقدمہ سرکاری مدعیت میں درج ہوگا۔مقدمے میں دہشت گردی کے دفعات شامل ہوں گے۔ وزیر داخلہ سندھ نے آئی جی سندھ کو احکامات دیدیئے ہیں۔
آن لائن گیم سے شادی تک: جرمن ڈاکٹر نے پاکستانی نوجوان سے شادی کر لی
آئی جی سندھ کو کچھ ہدایات دیدی ہیں۔ مقدمہ درج کرنے کا حکم وزیر اعلی سندھ نے دیدیا ۔وزیر اعلی سندھ نے سندھ اسمبلی میں مقدمہ درج کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ریسکیو آپریشن میں سنگین غفلت
ریسکیو آپریشن اور ملبہ اٹھانے کے عمل کے دوران سنگین غفلت کا مظاہرہ ہوا۔ ملبہ لے جانے والے ڈمپر سے انسانی باقیات سڑک پر گر گئیں۔لوگوں نے سڑک پر گرنے والی انسانی باقیات کو سول اسپتال منتقل کردیا ۔ملبے تلے لوگوں کی باقیات کے باعث انتظامیہ محتاط انداز میں سرچ آپریشن کا دعویٰ کرہی تھی۔ملبہ لے جانے والے ڈمپر سے انسانی باقیات کی برآمد گی نے انتظامی احتیاط کی قلعی کھول دی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: گل پلازہ حکومتی ابتدائی رپورٹ گل پلازہ گل پلازہ گل پلازہ لیز ریکارڈ انکشاف لیز لیز لیز لیز گل پلازہ لیز گل پلازہ گل پلازہ لیز گل پلازہ گل پلازہ لیز گل پلازہ لیز لیز گل پلازہ گل پلازہ گل پلازہ تاجر گل پلازہ تاجر بحالی بحالی گل پلازہ گل پلازہ انسانی باقیات انسانی باقیات انسانی باقیات گل پلازہ کی زمین کے دور میں افراد کی کے مطابق کرنے کا کے میئر
پڑھیں:
ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
فائل فوٹو۔ولیکا اسپتال کراچی میں ایچ آئی وی کا ایک اور نیا کیس رپورٹ ہوا ہے۔ اسپتال حکام کے مطابق 18 ماہ کے بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے۔
اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 95 ہوگئی ہے۔
بچے کے والد کے مطابق 18 ماہ کا عبد الصمد دسمبر 2025 میں ولیکا اسپتال میں زیر علاج تھا، مسلسل طبیعت خراب رہنے پر بچے کا ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروایا۔
والد کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کروانے پر بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔ میرے 5 بچے ہیں، باقی بچوں کے بھی ٹیسٹ کروائیں گے۔
اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی سے اب تک 9 بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔