بی این پی کے سخت پالیسی کے متحمل نہیں، سابق وزیر احسان شاہ نے راہیں جدا کر لیں
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
تربت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیر احسان شاہ نے اپنی سابقہ جماعت پاکستان نیشنل پارٹی عوامی کو دوبارہ بحال کرتے ہوئے بی این پی سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ اسلام ٹائمز۔ سابق صوبائی وزیر و سابق سینیٹر سید احسان شاہ نے بلوچستان نیشنل پارٹی سے علیحدہ ہو کر اپنی جماعت پاکستان نیشنل پارٹی عوامی کو واپس بحال، جبکہ پارٹی عہدے، تنظیم، جھنڈا اور دفتر انضمام سے قبل کی پوزیشن پر بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آج پارٹی آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان نیشنل پارٹی عوامی کو بحال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آج سے پی این پی عوامی انضمام سے قبل کی پوزیشن پر بحال ہے۔ پارٹی عہدیداران، جھنڈا اور پارٹی ادارے سابق پوزیشن پر بحال کر دئیے جاتے ہیں۔ ہم نے بلوچستان اور بلوچ قوم کے مفاد میں اڑھائی سال قبل بی این پی کے ساتھ انضمام کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ بی این پی یا سردار اختر مینگل کے ساتھ کوئی رنجش اور اختلاف نہیں، مگر ہم وہاں فٹ نہیں ہوسکے کیونکہ ہمارے کارکنان کا مزاج اور تربیت مختلف ہے۔ بی این پی کی سخت لائن اور پالیسیوں کے مطابق چلنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ تاہم سردار اختر اور پارٹی کے ساتھ ہمارے تعلقات میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں پڑے گا اور عزت و احترام کا رشتہ قائم و دائم رہے گا۔ پاکستان نیشنل پارٹی عوامی کے کارکنان اور ہمدرد و خیرخواہ سوشل میڈیا پر بی این پی کے حوالے سے کسی قسم کے منفی کمنٹس، اشتعال انگیزی یا جذباتی لہجہ کے استعمال سے گریز کریں۔ سیاسی لائن کی علیحدگی کے باوجود ہمارے تعلقات پہلے کی طرح قائم ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان نیشنل پارٹی عوامی کرتے ہوئے بی این پی
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔