اگر وزارتیں چھوڑنے سےکراچی بچتا ہے تو فوراً مستعفی ہونےکو تیار ہیں: مصطفیٰ کمال
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وفاقی وزیرِ صحت اور ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ اگر وزارتوں سے دستبردار ہو کر کراچی کو بچایا جا سکتا ہے تو وہ فوری طور پر استعفا دینے کے لیے تیار ہیں۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ انہیں ماضی کے واقعات پر طعنے دیے جا رہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ دوسروں نے خود کیا کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ ہر حادثے کے بعد سندھ حکومت اصلاحات کے بجائے اگلے سانحے کا انتظار کرتی ہے۔ کراچی میں رشوت اور کرپشن کے باعث کام رکا ہوا ہے اور اب پیپلز پارٹی سے کسی بہتری کی امید باقی نہیں رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کا ہر وزیراعلیٰ لاہور کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے، جبکہ سندھ کا ہر وزیراعلیٰ کراچی سے لاتعلقی اختیار کرتا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کے وجود کو تسلیم نہیں کیا جا رہا اور پارٹی کے پاس اس وقت اتنی طاقت نہیں کہ پورے نظام سے ٹکرا سکے۔
دوسری جانب صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے مصطفیٰ کمال کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے قول و فعل میں واضح تضاد ہے۔ ان کے مطابق 2013 سے 2018 کے دوران وفاقی حکومت نے سندھ کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں صرف 2 سے 3 فیصد ترقیاتی فنڈز دیے۔ ناصر حسین شاہ نے یہ بھی کہا کہ مصطفیٰ کمال خود ماضی میں تسلیم کر چکے ہیں کہ بطور ناظم کراچی انہیں سب سے زیادہ فنڈز صدر آصف علی زرداری کے دور میں ملے تھے، جبکہ اب کراچی میں ترقیاتی کاموں میں بہتری آ رہی ہے اور آئندہ مزید بہتری متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔