گل پلازہ کی عمارت سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ جاری، اہم انکشافات سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
کراچی گل پلازہ کی عمارت سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ سندھ حکومت کے سامنے پیش کر دی گئی، جس میں زمین کی ملکیت، لیز اور تعمیرات کے حوالے سے کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ کے واقعے کو 18ویں ترمیم سے جوڑنا سمجھ سے باہر ہے، ہر دکاندار کو 5، 5 لاکھ روپے دیں گے، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
رپورٹ کے مطابق گل پلازہ کی زمین ابتدا میں کے ایم سی کی ملکیت تھی، جسے 1883 میں ٹرام سروس کے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی کو 99 سالہ لیز پر دیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنیکا کمپنی نے 1979 سے اس زمین پر نظریں رکھنا شروع کیں جبکہ 1983 میں زمین کی 99 سالہ لیز کی مدت ختم ہو گئی۔
رپورٹ کے مطابق لیز ختم ہونے سے ایک ماہ قبل زمین جنیکا نامی گروپ نے خرید لی، تاہم لیز ختم ہونے کے باوجود اس زمین پر تعمیرات کا آغاز کردیا گیا۔ مزید انکشاف ہوا ہے کہ گل پلازہ کی زمین بعد ازاں ایم کیو ایم کے دور میں سابق میئر کراچی فاروق ستار کی میئرشپ کے دوران جنیکا کمپنی کو دوبارہ 99 سال کے لیے لیز پر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ
تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کے ایم سی کی زمین گل پلازہ کے لیے 3 نومبر 1991 کو لیز پر دی گئی، جس پر سابق میئر کراچی فاروق ستار کے دستخط موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ زمین 3 روپے فی گز کے انتہائی کم کرائے پر لیز کی گئی۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ گل پلازہ کی تعمیرات کے ایم سی کی جانب سے بغیر باقاعدہ لیز کے 1883 سے 1990 تک جاری رہیں۔ بعد ازاں 1991 میں ایم کیو ایم کے میئر فاروق ستار نے زمین کی لیز کی منظوری دی۔
رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں 2003 میں تعمیر کیے گئے اضافی فلور کو بھی ریگولرائز کردیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آرٹس کونسل کراچی میں سانحہ گل پلازہ کے شہداء کی یاد میں دعائیہ تقریب، شمعیں روشن
سندھ حکومت کو پیش کی گئی اس رپورٹ میں گل پلازہ سے متعلق متعدد قانونی اور انتظامی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آتشزدگی بے ضابطگیاں رپورٹ سندھ حکومت عمارت کراچی کے ایم سی گل پلازہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا تشزدگی بے ضابطگیاں رپورٹ سندھ حکومت کراچی کے ایم سی گل پلازہ رپورٹ کے مطابق گل پلازہ کی رپورٹ میں کے ایم سی یہ بھی کے لیے
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔