غزہ امن بورڈ میں شمولیت سے پاکستان نے فلسطینیوں کے مؤقف کا حق ادا کیا، طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعظم فلسطینی عوام کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور فلسطین میں پائیدار امن کے قیام کے لیے عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں، غزہ امن بورڈ میں شمولیت سے پاکستان نے فلسطینیوں کے مؤقف کا حق ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کر دیے
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ فلسطینی عوام اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ اسرائیلی جارحیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ صرف فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہے بلکہ عالمی برادری میں بھی اس مسئلے پر ایک مضبوط آواز کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے، پاکستان نے فلسطینیوں کے مؤقف کا حق ادا کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ غزہ میں جاری صورتحال کے تناظر میں کئی اسلامی ممالک نے ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ امن بورڈ میں شمولیت اختیار کی ہے، جس کا مقصد خطے میں جنگ بندی اور امن کے امکانات کو آگے بڑھانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم وطن واپسی پر غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کے حوالے سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے، رانا ثنااللہ
وزیر مملکت داخلہ کے مطابق پاکستان فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ اور مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کے لیے سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی سطح پر امن کی کوششوں میں فعال کردار ادا کیا جاتا رہے گا۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم وطن واپسی پر غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کے حوالے سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے۔
رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کے بہادر لوگوں نے اتنا ظلم برداشت کر کے اپنا وجود برقرار رکھا، فلسطینیوں پر بارود برسایا جا رہا تھا، 8 اسلامی ممالک نے جنگ بندی کے لیے کوشش کی، پاکستان بھی اس میں شامل تھا، پاکستان کو شامل ہونا بھی چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان طلال چوہدری غزہ امن بورڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان طلال چوہدری فلسطینیوں کے طلال چوہدری کے مؤقف ادا کیا کے لیے نے کہا
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔