نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف جامعہ کراچی میں احتجاجی ریلی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
سیکریٹری جنرل کراچی یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن ڈاکٹر معروف بن رؤف نے اپنے خطاب میں طلباء کے شعور اور جرات مندانہ موقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ جامعات ہمیشہ سے حق و انصاف کی آواز رہی ہیں اور آج کے طلباء فلسطین کے مسئلے پر واضح اور مضبوط مؤقف رکھتے ہیں۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف جامعہ کراچی میں احتجاجی ریلی
نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف جامعہ کراچی میں احتجاجی ریلی
نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف جامعہ کراچی میں احتجاجی ریلی
نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف جامعہ کراچی میں احتجاجی ریلی
نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف جامعہ کراچی میں احتجاجی ریلی
نام نہاد بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کیخلاف جامعہ کراچی میں احتجاجی ریلی
اسلام ٹائمز۔ آئی ایس او پاکستان کے زیرِ اہتمام ملک بھر میں جاری برائت از استعمار مہم کے سلسلے میں طلباء الائنس جامعہ کراچی کے تحت پوائنٹ ٹرمینل سے فارمیسی چوک تک ایک پُرامن احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ یہ ریلی نام نہاد "غزہ امن معاہدے" کے خلاف منعقد کی گئی، جس میں بڑی تعداد میں طلباء و طالبات نے جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کی۔ احتجاجی ریلی کا مقصد فلسطین کے مظلوم عوام سے اظہارِ یکجہتی، غزہ پر جاری صہیونی جارحیت کی مذمت اور عالمی استعمار خصوصاً امریکی سامراج کی دوغلی پالیسیوں کو بے نقاب کرنا تھا۔ شرکائے ریلی نے فلسطین کے حق میں اور استعمار کے خلاف پُراثر نعرے لگائے اور پلے کارڈز و بینرز کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ ریلی میں نام نہاد غزہ امن معاہدے میں پاکستان کی کسی بھی سطح پر شرکت یا حمایت کی سخت مخالفت کی گئی۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ فلسطین کے مظلوم عوام کے حق میں واضح اور دوٹوک رہا ہے، لہٰذا کسی ایسے معاہدے کا حصہ بننا جو صہیونی مظالم کو تقویت دے، قومی اور اخلاقی اصولوں کے منافی ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فلسطین کے
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔