قومی اسمبلی کا یوٹیوب چینل بند نہیں کیا گیا، ترجمان قومی اسمبلی کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
اسلام آباد:
قومی اسمبلی کے ترجمان نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کا یوٹیوب چینل بند نہیں کیا گیا، اس حوالے سے زیرگردش خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
ترجمان قومی اسمبلی نے وضاحتی بیان میں کہا کہ سوشل میڈیا سرور ڈاؤن ہونے کی وجہ سے تکنیکی مسائل تھے تاہم تکنیکی مسئلہ حل ہوگیا تھا جس کے بعد چینل آپریشنل ہوگیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی کارروائی، تقاریر قومی اسمبلی کے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کر دی گئی ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ چینل کی بندش کے حوالے سے من گھڑت خبر چلائی گئیں اور خبر نشر یا شائع کرنے سے قبل قومی اسمبلی سیکریٹریٹ یا ترجمان کا مؤقف نہیں لیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔