جعل سازوں نے گل پلازہ سانحے کو بھی کمائی کا ذریعہ بنالیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260124-01-3
کراچی (اسٹاف رپورٹر)جعل سازوں نے گل پلازہ سانحے کو بھی کمائی کا ذریعہ بنالیا ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر جھوٹے پیغامات بھیجے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق سانحہ گل پلازہ ایک دل دہلا دینے والا افسوسناک واقعے کے بعد چند بے ضمیر ،مفاد پرست جعل سازوں نے اس سانحے کو بھی کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے۔گل پلازہ متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر جھوٹے پیغامات بھیجے جارہے ہیں جن میں لوگوں سے مدد کی اپیل کی جارہی ہے اور دکانیں جل جانے کے جھوٹے دعوے بھی کیے جارہے ہیں۔گل پلازہ کے باہر بھی بعض افراد نے جھوٹے دعوے کر کے انتظامیہ اور عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ متعلقہ حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے فراڈ میں ملوث افراد کو قانون کے شکنجے میں لے لیا ہے اور تحقیقات جاری ہے۔ایک کروڑ معاوضے کے اعلان کے بعد بہت سارے دعوے دار سامنے آئی ، ایک کم عمر بچے ٹک ٹاک پر لائیک کے لئے جھوٹا دعوی کیا کہ میرا بھائی اس سانحے میں لاپتہ ہے، جس کے بعد بچے نے معذرت کی جبکہ ایک خاتون بھی منظر عام پر آئیں اور جھوٹے دعوی کئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گل پلازہ
پڑھیں:
کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔