ڈی آئی خان، امن کمیٹی کے سربراہ کے گھر پر خودکش دھماکا، 5 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈی آئی خان(مانیٹرنگ ڈیسک)خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں قریشی موڑ کے قریب امن کمیٹی کے سربراہ نور عالم محسود کے گھر میں شادی کے تقریب کے دوران دھماکا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہوگئے۔ ریسکیو 1122 خیبرپختونخوا کے ترجمان بلال احمد فیضی نے بتایا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں قریشی موڑ کے قریب مبینہ دھماکے کی اطلاع پرریسکیو1122 کی 7 ایمبولینسز، فائر ویکل اور ڈیزاسٹر ویکل نے موقع پر امدادی کاروائیاں شروع کیں۔انہوں نے بتایا کہ ریسکیو1122 نے اب تک 5 افراد کے جسد خاکی اور 10 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈی پی او صاحبزادہ سجاد احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکا امن کمیٹی کے رہنماؤں کے گھر میں منعقدہ شادی کی تقریب میں ہوا، زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ڈی پی او نے بتایا کہ خودکش حملہ آور کا سر مل گیا ہے۔پولیس کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں امن کمیٹی کے ممبر نور عالم محسود کے گھر میں خودکش دھماکا ہوا اور اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوع پر روانہ کردی گئی۔پولیس نے بتایا کہ خودکش دھماکے کے وقت گھر میں شادی کی تقریب جاری تھی اور دھماکے میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ڈیرہ پولیس نے بتایا کہ دھماکا کے وقت امن کمیٹی کے متعدد ارکان موجود تھے اور ابتدائی طور پر 5 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے۔آر پی او ڈیرہ سید اشفاق انور نے بتایا کہ شادی کی تقریب کے دوران دھماکا ہوا اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ڈی آئی خان میں بم دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے دھماکے پر آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کی اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور سیکیورٹی اداروں کو واقعے کی فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کی نشان دہی کی ہدایت کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈیرہ اسماعیل خان امن کمیٹی کے نے بتایا کہ زخمیوں کو گھر میں کے گھر
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :