data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈی آئی خان(مانیٹرنگ ڈیسک)خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں قریشی موڑ کے قریب امن کمیٹی کے سربراہ نور عالم محسود کے گھر میں شادی کے تقریب کے دوران دھماکا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہوگئے۔ ریسکیو 1122 خیبرپختونخوا کے ترجمان بلال احمد فیضی نے بتایا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں قریشی موڑ کے قریب مبینہ دھماکے کی اطلاع پرریسکیو1122 کی 7 ایمبولینسز، فائر ویکل اور ڈیزاسٹر ویکل نے موقع پر امدادی کاروائیاں شروع کیں۔انہوں نے بتایا کہ ریسکیو1122 نے اب تک 5 افراد کے جسد خاکی اور 10 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈی پی او صاحبزادہ سجاد احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکا امن کمیٹی کے رہنماؤں کے گھر میں منعقدہ شادی کی تقریب میں ہوا، زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ڈی پی او نے بتایا کہ خودکش حملہ آور کا سر مل گیا ہے۔پولیس کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں امن کمیٹی کے ممبر نور عالم محسود کے گھر میں خودکش دھماکا ہوا اور اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوع پر روانہ کردی گئی۔پولیس نے بتایا کہ خودکش دھماکے کے وقت گھر میں شادی کی تقریب جاری تھی اور دھماکے میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ڈیرہ پولیس نے بتایا کہ دھماکا کے وقت امن کمیٹی کے متعدد ارکان موجود تھے اور ابتدائی طور پر 5 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے۔آر پی او ڈیرہ سید اشفاق انور نے بتایا کہ شادی کی تقریب کے دوران دھماکا ہوا اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ڈی آئی خان میں بم دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے دھماکے پر آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کی اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور سیکیورٹی اداروں کو واقعے کی فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کی نشان دہی کی ہدایت کردی۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ڈیرہ اسماعیل خان امن کمیٹی کے نے بتایا کہ زخمیوں کو گھر میں کے گھر

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں