پاک فوج حماس کیخلاف استعمال نہیں ہوگی، عسکری ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260124-01-23
سلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک )سیکورٹی ذرائع نے امریکی صدر کے بورڈ آف پیس میں شمولیت پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے 8 بڑے ممالک کے ساتھ مل کر بورڈ میں شرکت کا فیصلہ کیا، پاک فوج حماس کو غیر مسلح کرنے یا فلسطین سمیت کسی مسلمان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ عسکری ذرائع نے اسلام آباد میں سینئر صحافیوں کو بتایا کہ پاکستان نے غزہ امن بورڈ میں شرکت کا فیصلہ8 بڑے اسلامی ممالک سے مشاورت کے بعد بہت سوچ سمجھ کر کیا۔ عسکری ذرائع نے کہا کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی سے صرف امریکا ہی روک سکتا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ غزہ امن بورڈ کے تحت پاکستان کی فوج حماس کوغیر مسلح کرنے یا فلسطین سمیت کسی مسلمان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ عسکری ذرائع نے کہا کہ جہاں چین ہو وہاں ہمیں فکر نہیں ہوتی اور جہاں ہم ہوں وہاں چین کو فکر نہیں ہوتی، ہماری دوستی ہے، برطانیہ، یورپ سب امریکا کے اتحادی ہیں، انہوں نے اپنے فیصلے خودکرنے ہیں۔ عسکری ذرائع نے کہا کہ معرکہ حق میں تمام فیصلے وزیراعظم نے کیے، بس فوج نے اپنی ان پٹ دی، 7 مئی کو بھارتی ڈی جی ملٹری آپریشنز کا میسج آیا ہم نے جو جواب دیا اس سے انہیں آگ لگ گئی تھی، پاکستانی فوج کا اپنا ایک فیصلہ ہے کہ ہم نے کیسے جواب دینا ہے اور ہم نے دیا۔عسکری ذرائع نے کہا کہ ملک سے دہشت گردی تب ختم ہوگی جب نیت ٹھیک ہو گی، نیشنل ایکشن پلان کا پہلا نکتہ فوجی آپریشن ہے جو کر رہے ہیں، بلوچستان میں سب سے زیادہ آپریشنز ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ کورکمانڈر کے ساتھ ملکر کام کر رہے ہیں، پختونخوا کی پولیس بہت بہادر ہے تاہم اسے اگر فری ہینڈ دیا جائے تو ہی وہ کام کرسکتی ہے۔ عسکری ذرائع نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورننس بہتر نہیں چل رہی۔ عسکری ذرائع نے کہا کہ طالبان کو بتایا ہے کہ ہم معافی نہیں دیں گے، ہمیں انہیں ٹھیک کرنا ہے۔ خیبرپختونخوا کی انسداد دہشت گردی عدالتوں میں اس وقت 2 ہزار 968 کیسز زیر التواء ہیں، صرف 3 سال میں ملک بھر میں677 اور کے پی میں621 کیسز پر التوا دیا گیا۔ ایک سوال کے جواب عسکری ذرائع نے استفسار کیا کہ کے پی کے میں آپریشن نہ کریں توکیا صوبے کو نور ولی محسود کے حوالے کر دیں؟ ۔ ادھرپاکستان تحریک انصاف نے غزہ پیس بورڈمیں پاکستان کی شمولیت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ واپس لے اور عوامی ریفرنڈم کرائے، پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہکیا فلسطینی اس حل کو قبول کرتے ہیں؟ کیا اس غزہ پیس بورڈ میں فلسطینیوں کی کوئی نمائندگی ہے؟ پروگرام سینٹر اسٹیج میں گفتگو کرتے ہوئے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ ہم پاکستان کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہیں اور غزہ پیس بورڈ پر ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے، ہمارے سیکرٹری جنرل اس پر آن بورڈ ہیں، ہم نے وزیر اعظم کے غزہ پیس بورڈ پر دستخط کرنے تک اپنا بیان جاری نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ وزیر اعظم کے ماضی کے ٹوئیٹس کو میں نے دوبارہ شیئر کیا، آج صرف اپنی حکومت کو عالمی سطح پر منوانے کے لیے اتنا آگے چلے گئے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ کیا فلسطینی اس حل کو قبول کرتے ہیں؟ کیا اس غزہ پیس بورڈ میں فلسطینیوں کی کوئی نمائندگی ہے؟۔ شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ جو فلسطینیوں کو قابل قبول نہیں وہ پی ٹی آئی کو بھی قابل قبول نہیں ہے۔ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کہا کہ معاملے کو پارلیمنٹ میں لے کر آتے، حکومت نے بورڈ میں شمولیت سے قبل عوام اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا ہے ، یہ اپنے لائے گئے نظام کی ہی بے توقیر کر رہے ہیں، ہم نے تو ریفرنڈم کا بھی کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے حوالے سے قائداعظم کے بیانات سب کے سامنے ہیں، فلسطین کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کا بیان بھی واضح ہے، ہم آفیشلی طور پر مطالبہ کرتے ہیں حکومت غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ واپس لے۔ شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بیٹھے بٹھائے نئی یو این بنا لی ہے، حکومت کی توجیہات ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہیں، بہت سے اسلامی ملک تو پہلے ہی اسرائیل کو تسلیم کرتے ہیں، پاسپورٹ پر جب ہم نے اسرائیل کے حوالے سے جملہ لکھا تھا کیا وہ جذبات میں آ کر لکھا ؟ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے نام پر کئی جماعتیں ساری زندگی سیاست کرتی رہی ہیں، اپوزیشن کا فلسطین کے حوالے سے مؤقف واضح ہے، اپوزیشن لیڈر بھی ا س مؤقف کو سامنے رکھیں گے، اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کو اس پر کھل کر بات کرنی چاہیے، اچکزئی صاحب کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اپوزیشن کا مؤقف سامنے رکھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عسکری ذرائع نے کہا کہ غزہ پیس بورڈ میں انہوں نے کہا کہ شیخ وقاص اکرم کے حوالے سے میں شمولیت فلسطین کے کرتے ہیں کا فیصلہ
پڑھیں:
سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
حکومتِ پنجاب نے سیکیورٹی خدشات(security risk) کے پیشِ نظر دفعہ 144 کے تحت پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کھلے مقامات پر ڈرون کے استعمال پر پابندی برقرار رہے گی۔
مزید پڑھیں:واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرونز کے محدود استعمال کی اجازت ہو گی تاہم اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمے داری منتظمین پر عائد ہو گی۔