Jasarat News:
2026-07-24@11:48:58 GMT

پاکستان کے غزہ امن بورڈ چارٹر پر دستخط!

اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حکومت نے تو مجلس شوریٰ کے ایوان بالا سینیٹ یا ایوان زیریں، قومی اسمبلی کو اعتماد میں لینے اور ان ایوانوں میں معاملہ کو زیر بحث لانے کی ضرورت محسوس نہیں کی البتہ حزب اختلاف کے قائدین نے ’’غزہ امن بورڈ‘‘ میں پاکستان کی شمولیت کا مسئلہ قومی اسمبلی میں اٹھایا ہے جمعرات کے روز جب ایوان زیریں کا اجلاس شروع ہوا تو حزب اختلاف کے رہنمائوں نے ’’امن بورڈ‘‘ میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کرتے ہوئے معاہدے کی شرائط پبلک کرنے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کر دیا۔ مولانا فضل الرحمن نے اس فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آمریت طاقت اور دولت کا اتحاد ہو چکا ہے، قاتلوں کے ہاتھوں امن کی امید اپنے آپ کو بیوقوف بنانے کے مترادف ہے، ہمارے وزیر اعظم شہباز شریف 70 ہزار فلسطینیوں کے قاتل نیتن یاہو کے ساتھ بیٹھ کر امن پر مشاورت کر رہے ہوں گے؟ قائد اعظم نے اسرائیل کو ناجائز بچہ قرار دیا۔ بتایا جائے ایوان تو دور کی بات کیا کابینہ کو بھی اعتماد میں لیا گیا؟ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ٹرمپ اقوام متحدہ کے متبادل اپنی مرضی کا فورم نہیں بنا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا فلسطین میں ہم امن دینے جا رہے ہیں اور اپنے ملک میں امن نہیں، اپنے ملک کے اضلاع کے اضلاع مسلح گروہوں کے پاس ہیں، اپنی فورسز اپنی پوسٹیں خالی کر کے مسلح گروہوں کے حوالے کر رہی ہیں۔ ٹانک، بنوں، لکی مروت، ڈی آئی خان سمیت کئی علاقوں میں ٹھیکیداروں سے بھتا لیا جاتا ہے۔ ہمیں دو صوبوں کے حوالے سے اپنے ارادے تو بتا دو۔ سرکاری افسر، سرمایہ کار بھتا دیکر اپنی زندگیاں محفوظ بنا رہے ہیں۔ ہمارے آئین کی کوئی حیثیت نہیں رہ گئی۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے سوال اٹھایا کہ وفاقی کابینہ اور پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر بورڈ آف پیس میں شمولیت کیوں اختیار کی گئی؟ وزیر اعظم شہباز شریف نے بغیر سوچے سمجھے اس کو قبول کر لیا ہے۔ پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ کیا حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے ہماری فورسز جائیں گی؟ وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت غزہ کی تعمیر نو کرے گا۔ تمام فیصلے امت مسلمہ اور قومی مفاد کو دیکھ کر کیے جاتے ہیں۔ غزہ کی تعمیر نو اور مستقل فائر بندی کی وجہ سے پاکستان نے بورڈ آف پیس میں جانے کا فیصلہ کیا۔ پارلیمان کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔ حزب اختلاف کے رہنمائوں نے قومی اسمبلی میں نہایت اہم نکات اٹھائے ہیں، حکومت پر لازم تھا کہ وہ امن بورڈ کا حصہ بننے سے قبل قومی اسمبلی ہی میں اس معاملہ کو زیر بحث نہ لاتی بلکہ کل جماعتی کانفرنس بلا کر مجلس شوریٰ کے اندر اور باہر کی جماعتوں کو مشاورت کا حصہ بناتی اور پھر قومی رائے عامہ کی روشنی میں اس اہم مسئلہ پر پیش رفت کی جاتی مگر حکومت کے ارباب اقتدار و اختیار اور فیصلہ سازوں نے قوم کو اعتماد میں لینے کے بجائے امریکی صدر کی خوشنودی کو ترجیح دی ہے۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے قومی اسمبلی میں بحث کے دوران حکومتی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے اپنی بات کو اس جملے پر ختم کیا کہ پارلیمان کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اب اگر ایسا کیا بھی جاتا ہے تو اس کا فائدہ کیا ہو گا۔ اب جب کہ وزیر اعظم نے فلسطینیوں کے قاتل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مسکراہٹوں کا تبادلہ کرتے ہوئے غزہ امن بورڈ کے چارٹر پر دستخط کر دیے ہیں اور پاکستان اس بورڈ کا باضابطہ رکن بن چکا ہے تو اس معاملہ کو قومی اسمبلی میں زیر بحث لانے کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہو گا کہ ’’گیا ہے سانپ نکل اب لکیر پیٹا کر…!‘‘ ادھر ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم کے ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کیے گئے۔ دستخط کرنے والے ممالک میں پاکستان، امریکا، قطر، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب، امارات، اردن، ازبکستان، قازقستان، آرمینیا، آذربائیجان، ارجنٹائن، بلغاریہ، انڈونیشیا، ہنگری، کوسوو، پیرا گوئے، اور منگولیا شامل ہیں۔ پاکستان کی طرف سے وزیر اعظم شہباز شریف نے چارٹر پر دستخط کیے۔ دستخطوں کی اس تقریب سے خطاب کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر اپنے عزائم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حماس کو لازمی طور پر غیر مسلح ہونا ہو گا ورنہ ہم حماس کو ختم کر دیں گے۔ پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے امریکی صدر کے اس ظالمانہ اور آمرانہ اعلان کو خندہ پیشانی سے سنا اور مسکراتے رہے۔ گویا یہ محض خیال آرائی یا مفروضہ نہیں کہ غزہ کے مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم اور جرأت مندانہ مزاحمت کی فعال و موثر تحریک حماس کو نہتا کر کے، ہاتھ پائوں باندھ کر اسرائیل کے آگے ڈال دینا اور فلسطینی مسلمانوں کو مکمل طور پر صہیونی ریاست کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا امریکا اور اس کے امن بورڈ کا بنیادی ایجنڈا ہے اور پاکستان اس کام میں امریکا اور اسرائیل کا اتحادی اور معاون و مدد گار ہو گا۔ کیا ہمارے ارباب اقتدار و اختیار بتا سکتے ہیں کہ پاکستان اسی لیے وجود میں لایا گیا تھا کہ وہ مظلوم و مجبور، بے بس و بے کس مسلمان بھائیوں کی نسل کشی میں کفار کی ظالم و جابر قوتوں کے آلۂ کار کا کردار ادا کرے۔ بانیان پاکستان، ملک کے موجودہ حکمرانوں کے اس کردار پر کس قدر پریشان اور رنجیدہ بلکہ شرمسار ہوں گے؟؟ امریکا اور اس کے لے پالک اسرائیل نے اپنے عزائم کو صرف اعلانات تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں کسی تاخیر کے بغیر عملی شکل دینا بھی شروع کر دی ہے چنانچہ ایک جانب اگر امن بورڈ دستاویزات پر دستخط ہو رہے تھے تو دوسری جانب اسی وقت واشنگٹن اور تل ابیب میں فلسطینیوں اور حماس سمیت چھے تنظیموں کے خلاف نئے اقدامات پر کام جاری تھا۔ اسی روز امریکا نے حماس اور خفیہ فنڈنگ نیٹ ورکس پر مختلف النوع پابندیاں عائد کر دیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے غیر ملکی اثاثوں کو کنٹرول کرنے والے دفتر کے ذریعے حماس کے غیر منافع بخش تنظیموںکے ساتھ مبینہ خفیہ روابط کو نشانہ بنایا جو فلسطینی شہریوں کو طبی خدمات فراہم کرتی ہیں مگر امریکا کا الزام ہے کہ یہ درحقیقت حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کو مدد دیتی ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک متنازع اور سخت قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت فلسطینیوں کو اسرائیلی تعلیمی اداروں میں بطور استاد یا کسی بھی قسم کی ملازمت کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ اس قانون کو انسانی حقوق کی تنظیموں، فلسطینی قیادت اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ یہ قانون اکثریتی ووٹوں سے منظور کیا گیا، جس کا مقصد مبینہ طور پر ’’ریاستی سلامتی‘‘ اور ’’نصاب تعلیم کے تحفظ‘‘ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام درحقیقت فلسطینیوں کو تعلیمی، سماجی اور معاشی طور پر مزید الگ تھلگ کرنے کی کوشش ہے۔ امریکا کے اتحادی ہمارے حکمرانوں نے حماس اور فلسطینی مسلمانوں کے خلاف ان تازہ اقدامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ سوال یہ ہے کہ مستقبل قریب میں اس نوع کے مسلمان کش مزید سخت اقدامات میں پاکستان کے مقتدر اور فیصلہ ساز حلقے ’’امن بورڈ‘‘ پر دستخط کنندگان کی حیثیت سے امریکا اور اسرائیل کی مزاحمت کریں گے یا عملی معاونت پر مجبور ہوں گے؟؟

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: قومی اسمبلی میں چارٹر پر دستخط امریکا اور اس کو اعتماد میں پارلیمان کو بورڈ ا ف پیس میں پاکستان شہباز شریف کرتے ہوئے حماس کو

پڑھیں:

امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز

امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔

نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق

نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔

پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کی

امریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔

Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9

— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026

ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔

نمائش 5 روز تک جاری رہے گی

‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔

امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔

امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زور

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔

أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.

شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu

— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔

لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔

ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زور

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔

امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔

اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم

متعلقہ مضامین

  • پاپ کوئین میڈونا کی شاندار واپسی، ’کنفیشنز 2‘ بل بورڈ 200 پر نمبر ون
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد
  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی