Jasarat News:
2026-06-02@23:53:10 GMT

پاکستان کے غزہ امن بورڈ چارٹر پر دستخط!

اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حکومت نے تو مجلس شوریٰ کے ایوان بالا سینیٹ یا ایوان زیریں، قومی اسمبلی کو اعتماد میں لینے اور ان ایوانوں میں معاملہ کو زیر بحث لانے کی ضرورت محسوس نہیں کی البتہ حزب اختلاف کے قائدین نے ’’غزہ امن بورڈ‘‘ میں پاکستان کی شمولیت کا مسئلہ قومی اسمبلی میں اٹھایا ہے جمعرات کے روز جب ایوان زیریں کا اجلاس شروع ہوا تو حزب اختلاف کے رہنمائوں نے ’’امن بورڈ‘‘ میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کرتے ہوئے معاہدے کی شرائط پبلک کرنے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کر دیا۔ مولانا فضل الرحمن نے اس فیصلے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آمریت طاقت اور دولت کا اتحاد ہو چکا ہے، قاتلوں کے ہاتھوں امن کی امید اپنے آپ کو بیوقوف بنانے کے مترادف ہے، ہمارے وزیر اعظم شہباز شریف 70 ہزار فلسطینیوں کے قاتل نیتن یاہو کے ساتھ بیٹھ کر امن پر مشاورت کر رہے ہوں گے؟ قائد اعظم نے اسرائیل کو ناجائز بچہ قرار دیا۔ بتایا جائے ایوان تو دور کی بات کیا کابینہ کو بھی اعتماد میں لیا گیا؟ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ٹرمپ اقوام متحدہ کے متبادل اپنی مرضی کا فورم نہیں بنا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا فلسطین میں ہم امن دینے جا رہے ہیں اور اپنے ملک میں امن نہیں، اپنے ملک کے اضلاع کے اضلاع مسلح گروہوں کے پاس ہیں، اپنی فورسز اپنی پوسٹیں خالی کر کے مسلح گروہوں کے حوالے کر رہی ہیں۔ ٹانک، بنوں، لکی مروت، ڈی آئی خان سمیت کئی علاقوں میں ٹھیکیداروں سے بھتا لیا جاتا ہے۔ ہمیں دو صوبوں کے حوالے سے اپنے ارادے تو بتا دو۔ سرکاری افسر، سرمایہ کار بھتا دیکر اپنی زندگیاں محفوظ بنا رہے ہیں۔ ہمارے آئین کی کوئی حیثیت نہیں رہ گئی۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے سوال اٹھایا کہ وفاقی کابینہ اور پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر بورڈ آف پیس میں شمولیت کیوں اختیار کی گئی؟ وزیر اعظم شہباز شریف نے بغیر سوچے سمجھے اس کو قبول کر لیا ہے۔ پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ کیا حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے ہماری فورسز جائیں گی؟ وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت غزہ کی تعمیر نو کرے گا۔ تمام فیصلے امت مسلمہ اور قومی مفاد کو دیکھ کر کیے جاتے ہیں۔ غزہ کی تعمیر نو اور مستقل فائر بندی کی وجہ سے پاکستان نے بورڈ آف پیس میں جانے کا فیصلہ کیا۔ پارلیمان کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔ حزب اختلاف کے رہنمائوں نے قومی اسمبلی میں نہایت اہم نکات اٹھائے ہیں، حکومت پر لازم تھا کہ وہ امن بورڈ کا حصہ بننے سے قبل قومی اسمبلی ہی میں اس معاملہ کو زیر بحث نہ لاتی بلکہ کل جماعتی کانفرنس بلا کر مجلس شوریٰ کے اندر اور باہر کی جماعتوں کو مشاورت کا حصہ بناتی اور پھر قومی رائے عامہ کی روشنی میں اس اہم مسئلہ پر پیش رفت کی جاتی مگر حکومت کے ارباب اقتدار و اختیار اور فیصلہ سازوں نے قوم کو اعتماد میں لینے کے بجائے امریکی صدر کی خوشنودی کو ترجیح دی ہے۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے قومی اسمبلی میں بحث کے دوران حکومتی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے اپنی بات کو اس جملے پر ختم کیا کہ پارلیمان کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ اب اگر ایسا کیا بھی جاتا ہے تو اس کا فائدہ کیا ہو گا۔ اب جب کہ وزیر اعظم نے فلسطینیوں کے قاتل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مسکراہٹوں کا تبادلہ کرتے ہوئے غزہ امن بورڈ کے چارٹر پر دستخط کر دیے ہیں اور پاکستان اس بورڈ کا باضابطہ رکن بن چکا ہے تو اس معاملہ کو قومی اسمبلی میں زیر بحث لانے کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہو گا کہ ’’گیا ہے سانپ نکل اب لکیر پیٹا کر…!‘‘ ادھر ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم کے ڈونلڈ ٹرمپ کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کیے گئے۔ دستخط کرنے والے ممالک میں پاکستان، امریکا، قطر، سعودی عرب، ترکیہ، متحدہ عرب، امارات، اردن، ازبکستان، قازقستان، آرمینیا، آذربائیجان، ارجنٹائن، بلغاریہ، انڈونیشیا، ہنگری، کوسوو، پیرا گوئے، اور منگولیا شامل ہیں۔ پاکستان کی طرف سے وزیر اعظم شہباز شریف نے چارٹر پر دستخط کیے۔ دستخطوں کی اس تقریب سے خطاب کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر اپنے عزائم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حماس کو لازمی طور پر غیر مسلح ہونا ہو گا ورنہ ہم حماس کو ختم کر دیں گے۔ پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے امریکی صدر کے اس ظالمانہ اور آمرانہ اعلان کو خندہ پیشانی سے سنا اور مسکراتے رہے۔ گویا یہ محض خیال آرائی یا مفروضہ نہیں کہ غزہ کے مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم اور جرأت مندانہ مزاحمت کی فعال و موثر تحریک حماس کو نہتا کر کے، ہاتھ پائوں باندھ کر اسرائیل کے آگے ڈال دینا اور فلسطینی مسلمانوں کو مکمل طور پر صہیونی ریاست کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا امریکا اور اس کے امن بورڈ کا بنیادی ایجنڈا ہے اور پاکستان اس کام میں امریکا اور اسرائیل کا اتحادی اور معاون و مدد گار ہو گا۔ کیا ہمارے ارباب اقتدار و اختیار بتا سکتے ہیں کہ پاکستان اسی لیے وجود میں لایا گیا تھا کہ وہ مظلوم و مجبور، بے بس و بے کس مسلمان بھائیوں کی نسل کشی میں کفار کی ظالم و جابر قوتوں کے آلۂ کار کا کردار ادا کرے۔ بانیان پاکستان، ملک کے موجودہ حکمرانوں کے اس کردار پر کس قدر پریشان اور رنجیدہ بلکہ شرمسار ہوں گے؟؟ امریکا اور اس کے لے پالک اسرائیل نے اپنے عزائم کو صرف اعلانات تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں کسی تاخیر کے بغیر عملی شکل دینا بھی شروع کر دی ہے چنانچہ ایک جانب اگر امن بورڈ دستاویزات پر دستخط ہو رہے تھے تو دوسری جانب اسی وقت واشنگٹن اور تل ابیب میں فلسطینیوں اور حماس سمیت چھے تنظیموں کے خلاف نئے اقدامات پر کام جاری تھا۔ اسی روز امریکا نے حماس اور خفیہ فنڈنگ نیٹ ورکس پر مختلف النوع پابندیاں عائد کر دیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے غیر ملکی اثاثوں کو کنٹرول کرنے والے دفتر کے ذریعے حماس کے غیر منافع بخش تنظیموںکے ساتھ مبینہ خفیہ روابط کو نشانہ بنایا جو فلسطینی شہریوں کو طبی خدمات فراہم کرتی ہیں مگر امریکا کا الزام ہے کہ یہ درحقیقت حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کو مدد دیتی ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک متنازع اور سخت قانون منظور کر لیا ہے جس کے تحت فلسطینیوں کو اسرائیلی تعلیمی اداروں میں بطور استاد یا کسی بھی قسم کی ملازمت کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ اس قانون کو انسانی حقوق کی تنظیموں، فلسطینی قیادت اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ یہ قانون اکثریتی ووٹوں سے منظور کیا گیا، جس کا مقصد مبینہ طور پر ’’ریاستی سلامتی‘‘ اور ’’نصاب تعلیم کے تحفظ‘‘ کو قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام درحقیقت فلسطینیوں کو تعلیمی، سماجی اور معاشی طور پر مزید الگ تھلگ کرنے کی کوشش ہے۔ امریکا کے اتحادی ہمارے حکمرانوں نے حماس اور فلسطینی مسلمانوں کے خلاف ان تازہ اقدامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ سوال یہ ہے کہ مستقبل قریب میں اس نوع کے مسلمان کش مزید سخت اقدامات میں پاکستان کے مقتدر اور فیصلہ ساز حلقے ’’امن بورڈ‘‘ پر دستخط کنندگان کی حیثیت سے امریکا اور اسرائیل کی مزاحمت کریں گے یا عملی معاونت پر مجبور ہوں گے؟؟

اداریہ سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: قومی اسمبلی میں چارٹر پر دستخط امریکا اور اس کو اعتماد میں پارلیمان کو بورڈ ا ف پیس میں پاکستان شہباز شریف کرتے ہوئے حماس کو

پڑھیں:

ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔

امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔

امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔

پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار