خاموش ضمیر، داغدار سفارت کاری
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کچھ فیصلے محض پالیسی نہیں بدلتے، وہ قوموں کے چہرے بدل دیتے ہیں۔ پاکستان کا نام نہاد ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں شامل ہونا بھی ایسا ہی ایک فیصلہ ہے۔ ایک ایسا لمحہ جس نے ہماری قومی شناخت کے آئینے کو دھندلا دیا ہے۔ یہ محض ایک سفارتی موڑ نہیں، بلکہ ہماری اخلاقی حیثیت کا کھلا دیوالیہ پن ہے۔ آج سے ہم وہ ملک نہیں رہے جو عالمی فورمز پر مظلوم کی آواز بن کر کھڑا ہوتا تھا؛ آج ہم اس ڈھانچے کا حصہ بن چکے ہیں جس کے ہاتھ غزہ کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔
یہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ آخر ہے کیا؟ جنگ کے بعد کی تعمیر ِ نو کے خوش نما نعروں کے پیچھے دراصل ایک Post War Control Mechanism کھڑا ہے۔ ایک ایسا انتظامی فریم ورک جو امن کے نام پر فلسطینی سیاست، مزاحمت اور خودمختاری کو منجمد کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ اس بورڈ میں فیصلہ سازی ان قوتوں کے ہاتھ میں ہے جو جنگ کے دوران اسرائیلی بیانیے کی پشت پناہی کرتی رہیں، جبکہ خود فلسطینی عوام جنہوں نے تباہی سہی اس عمل میں حاشیے پر دھکیل دیے گئے۔ یہ امن نہیں، سیاسی انجینئرنگ ہے؛ یہ تعمیر ِ نو نہیں، کنٹرول کی توسیع ہے۔ یہ سچ اب کسی پردے میں نہیں رہا کہ مسلم دنیا کے وہ حکمران، جنہیں بیت اللہ اور مسجد ِ اقصیٰ جیسے مقدس مقامات کی اخلاقی ذمے داری وراثت میں ملی تھی، اپنے بنیادی فریضے سے روگرداں ہو چکے ہیں۔ مسجد ِ اقصیٰ محض اینٹ پتھر نہیں؛ یہ انبیاء کی میراث، امت کی پہچان اور تاریخ ِ مزاحمت کی علامت ہے۔ مگر آج وہ جل رہی ہے، غزہ لہو میں نہا رہا ہے، اور امت کے خود ساختہ قائدین خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ یہ سفارتی کمزوری نہیں، اخلاقی زوال ہے، وہ زوال جو ضمیر کو مصلحت کے نیچے دفن کر دیتا ہے۔
جب پاکستان کا نمائندہ اس بورڈ میں اپنی نشست سنبھالتا ہوگا، تو کیا غزہ کے ملبے تلے دبی لاشیں اس کے سامنے نہیں آئیں گی؟ کیا قائداعظم محمد علی جناحؒ کے فلسطین کے حق میں دوٹوک بیانات ضمیر پر بوجھ نہیں بنیں گے؟ شاید نہیں کیونکہ جب ’’قومی مفاد‘‘ کی نئی تشریح کی جاتی ہے تو ضمیر کو پہلے ہی مفلوج کر دیا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایک اعلان تھا: ہم نے اصول چھوڑ دیے، ہم نے مظلوم کا ساتھ چھوڑ دیا، اور ہم نے اپنے نظریے کو مصلحت کی میز پر رکھ دیا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ اس فیصلے سے متصادم ہے۔ 1947 سے آج تک، پاکستان نے فلسطین کے مسئلے پر اصولی موقف اپنایا؛ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی روایت، او آئی سی میں فعال کردار، اور اقوامِ متحدہ میں حق ِ خود ارادیت کی حمایت؛ یہ سب ہماری سفارتی شناخت کے ستون تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اسلامی سربراہ کانفرنس ہو یا بعد کے ادوار میں فلسطینی کاز کی وکالت، پاکستان کی آواز واضح رہی۔ آج سوال یہ نہیں کہ دنیا بدل گئی؛ سوال یہ ہے کہ ہم کیوں بدلے؟
’’قومی مفاد‘‘ کی نئی تعریف یہاں مرکزی مسئلہ ہے۔ کیا معاشی دباؤ اخلاقی سرنڈر کا جواز بن سکتا ہے؟ کیا آئی ایم ایف، ایف اے ٹی ایف یا عالمی طاقتوں کی ناراضی سے بچنے کے لیے اصولوں کو گروی رکھ دینا دانشمندی ہے؟ اگر قومی مفاد کی قیمت ضمیر ہو، تو وہ مفاد نہیں خرید و فروخت ہے۔ ریاستیں وقتی ریلیف کے عوض وقتی فیصلے کر سکتی ہیں، مگر تاریخ میں سرخرو وہی ہوتی ہیں جو دباؤ کے باوجود اصول پر قائم رہیں۔ بیانات میں تشویش، دعاؤں میں فلسطین، اور عملی اقدامات میں ظالم کے بیانیے کی تکمیل؛ یہی وہ منافقت ہے جسے آج ’’حقیقت پسندی‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔ قاتل کو ہتھیار اور مظلوم کو ہاتھ باندھ کر قربان گاہ میں کھڑا کر دینا کسی امن منصوبے کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ فلسطینی مزاحمت؛ خصوصاً حماس کو غیر مسلح کرنے کی کوشش دراصل ظلم کے خلاف آخری دیوار گرانے کی سازش ہے۔ تاریخ گواہ ہے: الجزائر، ویتنام اور جنوبی افریقا میں مزاحمت ختم ہونے سے پہلے قبضہ ختم ہوا۔ مزاحمت کے بغیر امن نہیں آتا؛ قبضہ پکا ہوتا ہے۔ یہاں بین الاقوامی قانون بھی سوال کے کٹہرے میں ہے۔ اقوامِ متحدہ کا چارٹر، حق ِ خود ارادیت، جنگی جرائم کے قوانین، آئی سی سی اور آئی سی جے یہ سب کس لیے ہیں؟ اگر قابض پر کوئی شرط نہیں، مگر مظلوم کو غیر مسلح ہونا ہے، تو یہ قانون نہیں، انتخابی انصاف ہے۔ نیتن یاہو کے جرائم کو ’’جنگ‘‘ کہہ کر دھونا اور فلسطینی دفاع کو ’’دہشت گردی‘‘ کہنا ایک منظم بیانیہ ہے اور بدقسمتی سے ہم اسی بیانیے کے ساتھ بیٹھ گئے ہیں۔
مسلم دنیا کی قیادت کی اجتماعی ناکامی بھی عیاں ہے۔ ابراہیم معاہدوں کے بعد اسرائیل کے ساتھ تجارت، سفارتی گرمجوشی اور میڈیا کی خاموشی یہ سب اس زوال کی علامتیں ہیں۔ ترکی اور ملائیشیا نے کم از کم یہ واضح کیا کہ وہ اسرائیل نواز ڈھانچے کا حصہ نہیں بنیں گے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ عالمی سیاست میں اخلاقیات ابھی سانس لے سکتی ہیں۔ ہم نے کیا کیا؟ ہم نے اپنی تاریخ، اپنے نظریے اور اپنے ضمیر کو ممکنہ مراعات کے عوض فروخت کر دیا۔ اس فیصلے کا ایک اور پہلو بھی ہے: عوام اور ریاست کے درمیان بڑھتی خلیج۔ پاکستانی عوام سڑکوں پر، سوشل میڈیا پر، بائیکاٹ کی صورت فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مگر ریاستی فیصلہ اس اجتماعی ضمیر سے کٹا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ جب ریاست عوام کے اخلاقی احساس سے جدا ہو جائے تو بحران محض خارجی نہیں رہتا داخلی بن جاتا ہے۔
اب ذرا خود سے چند سوال کیجیے: ہم آج کشمیریوں کو کس منہ سے حق ِ خود ارادیت کا سبق دیں گے؟ اقوامِ متحدہ میں اخلاقی تقریریں کیسے کریں گے؟ او آئی سی میں یکجہتی کی بات کس جرأت سے کریں گے؟ ہمارے مخالف ہمیں ایک جملے میں خاموش کرا دیں گے: ’’تم خود اْس بورڈ میں بیٹھے ہو جو فلسطینی حق ِ خود ارادیت کو کچلتا ہے‘‘۔ اسکولوں میں پڑھایا جانے والا نظریۂ پاکستان اگر اصولوں سے خالی ہو جائے تو محض رسمی دلاسہ رہ جاتا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو کیا جواب دیں گے جب وہ پوچھیں گے: ’’اگر ہم فلسطین کے ساتھ تھے، تو ہمارے نمائندے وہاں کیوں بیٹھے ہیں جہاں فلسطینیوں کا مستقبل ان کی مرضی کے بغیر طے ہو رہا ہے؟‘‘ کیا ہم کہیں گے: ’’قومی مفادات بدل جاتے ہیں‘‘؟ یا یہ کہ: ’’یہ بڑی سیاست ہے؟‘‘ بڑی سیاست اگر چھوٹی اخلاقیات مانگے تو وہ سیاست نہیں، سمجھوتا ہے۔
دو برس تک غزہ نے ایسی قربانیاں دیں جن کی مثال جدید تاریخ میں کم ملتی ہے۔ بچے، عورتیں، بوڑھے، صحافی حتیٰ کہ جانور بھی بھوک سے مرتے دکھائی دیے۔ شاید اس لیے نہیں کہ دنیا جاگے، بلکہ اس لیے کہ ایک دن یہ منظر دیکھے جائیں: غزہ کے خون پر سفارتی معاہدے لکھے جائیں۔ اب ہماری خارجہ پالیسی کا نیا چہرہ واضح ہے ہم مظلوموں کے وکیل نہیں، طاقتوروں کے شراکت دار ہیں؛ ہمارے بیانیے میں اصول نہیں، مفاد پرستی مرکزی نکتہ ہے۔ جب پاکستانی نمائندہ اس بورڈ میں بیٹھے گا، تو ہر فلسطینی بچے کے چہرے پر ابھرنے والا سوالیہ نشان دراصل پاکستان کے نظریاتی وجود پر سوال ہوگا۔ ہم نے نہ صرف فلسطین کو، بلکہ خود کو بھی دھوکا دیا ہے۔ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ ہماری آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ اور سب سے بڑھ کر ہمارا اپنا ضمیر ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔ قومیں سرحدوں سے نہیں، اصولوں سے پہچانی جاتی ہیں اور اگر اصول ہاتھ سے نکل جائیں تو ہاتھ داغدار، اور ضمیر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتا ہے۔
میر بابر مشتاق
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خود ارادیت فلسطین کے قومی مفاد جاتا ہے کے ساتھ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔