افغان طالبان رجیم: اختلافات شدید ہوگئے، خانہ جنگی کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
افغان طالبان رجیم میں اختلافات کے باعث خانہ جنگی کا خدشہ پیدا ہو گیا، امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ نے لیک آڈیو کے حوالے سے پردہ اٹھا دیا۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق طالبان سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوند زادہ نے حکومت کے اندر باہمی سازشوں اور ٹکراؤ کا اعتراف کر لیا، لیک آڈیو میں متنبہ کیا کہ اختلافات جاری رہے تو اماراتِ اسلامیہ کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
دی ڈپلومیٹ کے مطابق کابل اور قندھار دھڑوں کے درمیان تصادم کھل کر سامنے آ گیا، اتحاد محض دعوؤں تک محدود ہے، طالبان وزیر مہاجرین خلیل الرحمان حقانی کی ہلاکت کے بعد حقانی نیٹ ورک اور قندھار قیادت میں کشیدگی شدید ہو چکی۔
حکام نے افغانستان بھر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کرنے کا حکم دے دیا، قندھار سے آیا، کابل دھڑے نے حکم ماننے سے انکار کر دیا، کابل قیادت کا انٹرنیٹ بحال کرنا سپریم لیڈر کے خلاف بغاوت قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔