نگران وزیر غلام عباس نے یو ایس ایف کی مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دیہی اور پہاڑی علاقوں میں ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں بھی یو ایس ایف کے ماڈل کو اپنانے سے علاقے کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان میں جدید انٹرنیٹ اور ٹیلی کام سہولیات کے فروغ کے لیے نگران وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و اطلاعات غلام عباس نے یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) کے ہیڈ آفس کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ادارے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر چوہدری مدثر نوید سے تفصیلی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران سی ای او یو ایس ایف نے نگران وزیر کو یو ایس ایف کے کردار، کارکردگی اور پاکستان کے چاروں صوبوں میں جاری منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ یو ایس ایف ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جس سے عوام کو تعلیم، صحت اور روزگار کے بہتر مواقع میسر آ رہے ہیں۔ نگران وزیر غلام عباس نے یو ایس ایف کی مجموعی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دیہی اور پہاڑی علاقوں میں ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں بھی یو ایس ایف کے ماڈل کو اپنانے سے علاقے کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان ایک ٹیکس فری زون ہے، جس کی وجہ سے آئی ٹی کمپنیوں، اسٹارٹ اپس اور فری لانسرز کے لیے یہاں سرمایہ کاری اور روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ نگران وزیر کے مطابق بہتر اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی دستیابی سے نہ صرف آئی ٹی سیکٹر کو فروغ ملے گا بلکہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ غلام عباس نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی گلگت بلتستان کو قومی اور عالمی سطح پر ڈیجیٹل دنیا سے جوڑنے میں مدد دے گی اور یہ علاقہ مستقبل میں ایک اہم ڈیجیٹل مرکز بن سکتا ہے۔ ملاقات کے اختتام پر نگران وزیر اور سی ای او یو ایس ایف نے گلگت بلتستان میں انٹرنیٹ اور ٹیلی کام سہولیات کو مزید بہتر بنانے، نئے منصوبوں پر کام کرنے اور عوام کو جدید ٹیکنالوجی کے ثمرات پہنچانے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گلگت بلتستان میں غلام عباس نے یو ایس ایف انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع