نگران وزیر تعلیم بہادر علی خان کا دورہ چلاس، سکولوں کا تفصیلی معائنہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
نگران صوبائی وزیر تعلیم و قانون نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خالی آسامیوں پر اساتذہ کی بروقت بھرتی، نامکمل اسکول عمارتوں کی تکمیل، اور بعض تعمیر شدہ اسکولوں کی عمارتوں کی حوالگی (ہینڈنگ ٹیکنگ) سے متعلق مسائل کے حل کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نگران صوبائی وزیر تعلیم و قانون گلگت بلتستان بہادر علی خان اپنے دورۂ دیامر کے پہلے روز چلاس پہنچ گئے۔ چلاس آمد پر ڈائریکٹر ایجوکیشن دیامر، استور فقیر اللہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن دیامر رحیم اللہ نے ان کا استقبال کیا۔ دورے کے دوران نگران وزیر تعلیم نے چلاس میں مختلف سرکاری اسکولوں کا تفصیلی معائنہ کیا اور دیامر استور ڈویژن کی مجموعی تعلیمی صورتحال پر جامع بریفنگ حاصل کی۔ اس موقع پر انہوں نے تعلیمی نظام کو مزید مؤثر معیاری اور ہم عصر تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے متعدد اہم ہدایات جاری کیں۔ نگران وزیر تعلیم نے پرائمری اسکولوں میں اساتذہ کی مناسب اور بروقت تعیناتی، بچیوں کے داخلوں میں نمایاں اضافہ، کلسٹر بیسڈ اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، سرکاری اسکولوں میں ابتدائی بچپن تعلیم (ECD) کلاسز کے آغاز، ای سی ڈی کے لیے خواتین اساتذہ کی تعیناتی اور ان کی خصوصی تربیت کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
اس کے علاوہ انہوں نے سرکاری اسکولوں میں بی ای سی (BEC) اور کنٹیجنٹ اساتذہ کے لیے فوری تربیتی پروگرامز کے آغاز، تدریس و تعلم کے معیار میں بہتری، اور تعلیمی ماحول کو مزید سازگار اور فعال بنانے پر خصوصی زور دیا۔ نگران صوبائی وزیر تعلیم و قانون نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خالی آسامیوں پر اساتذہ کی بروقت بھرتی، نامکمل اسکول عمارتوں کی تکمیل، اور بعض تعمیر شدہ اسکولوں کی عمارتوں کی حوالگی (ہینڈنگ ٹیکنگ) سے متعلق مسائل کے حل کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔ مزید برآں، انہوں نے دیامر اور استور اضلاع میں تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری اور اسکول امپروومنٹ پروگرامز کے فروغ کے لیے اندرونی و بیرونی وسائل، بالخصوص ڈونر فنڈنگ کے ذریعے مالی وسائل کی فراہمی کو یقینی بنانے کی بھی یقین دہانی کرائی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وزیر تعلیم عمارتوں کی اساتذہ کی کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔