کراچی (سٹاف رپورٹر+نوائے وقت رپورٹ+ این این آئی) ترجمان بلاول ہائوس و رکن سندھ اسمبلی سریندر ولاسائی نے وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے سے متعلق بیان پر سخت ردعمل دیا ہے۔ ترجمان بلاول ہائوس نے کہا کہ مصطفیٰ کمال کو سیاسی طور نیند میں چلنے کی بیماری ہے۔ جس کی حیثیت کونسلر کی نہ ہو اسے وفاقی وزیر بنایا جائے گا تو اس کے پائوں زمین پر ہوں گے نہ ہوش سلامت۔ سریندر ولاسائی نے کہا کہ مصطفیٰ کمال دوسروں کی انگلی پکڑ کر چلنے والا وہ سیاسی چھوٹو ہے جس کہ سیاست اپنی ہے نہ سوچ۔ اگر حادثات کی بنیاد پر شہروں کو وفاق کے حوالے کرنا درست ہوتا تو لاہور کب کا اسلام آباد کے کنٹرول میں ہوتا۔ ترجمان نے کہا کہ لاہور میں الفتح شاپنگ مال کو دو بار، حفیظ سینٹر کو تین بار اور پیس کو دو بار آگ لگی لیکن شاپنگ مالز میں آتشزدگی کے مذکورہ واقعات کے بعد کسی نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ لاہور کو وفاق کے حوالے کیا جائے۔ دوسری طرف گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ پر ایک ہفتہ بعد بھی سیاست اور بلیم گیم ہورہا ہے، سازشیں ہورہی ہیں۔ واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔گورنر ہائوس میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ کامران ٹیسوری کہا کہ قابل افسوس بات ہے کہ لواحقین کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے سیاسی بیانات دے کر نمک چھڑکا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی فیملیز موجود ہیں، لواحقین کی آہیں اور سسکیاں رک نہیں رہیں۔ ہم بولیں گے تو میسج آئے گا کہ آپ نہیں بولیں آپ کا اختیار نہیں، آپ کی کرسی ہل جائے گی، سن لو میں کمزور نہیں جو تمہارے ڈرانے یا دھمکانے سے رک جائوں گا۔ گورنر سندھ نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر مطالبہ کروں گا کہ اس واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔ انہوں نے کہاکہ ٹیکس بھی دیں، جانیں بھی دین اور پھر تمہاری دھمکیاں بھی سہیں یہ نہیں چلے گا۔ میں نے تو فیصلہ کرلیا ہے، اب عوام کو فیصلہ کرنا ہے، یہ نہیں ہوگا کہ نہ انصاف دیں گے، نہ زخموں پر مرہم رکھیں گے۔ خدارا لواحقین کی بد دعائوں سے ڈریں۔ انہوں نے کہا کراچی معاشی حب اور خوشیاں بانٹنے والا شہر ہے۔ لوگ گھر سے باہر نکلتے ہوئے ڈر رہے ہیں، شہر جل رہا ہے۔ لوگ غریب ہوگئے ہیں، خدا کا خوف کرو، اس شہر کو سب نے کھالیا ہے، اب بس کرو۔ ادھر وفاقی وزیرصحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ صوبے اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں تو وفاق کو مداخلت کا اختیار ہے۔ وزیراعظم نے آئینی ترمیم کی بات قبول کی ہے۔ جس ایم کیو ایم کے پیپلز پارٹی والے طعنے دیتے ہیں اس کے بانی کے ذاتی مسئلے یہ خود حل کرتے تھے۔ ایم کیو ایم کے پاس اس وقت وہ طاقت نہیں کہ پورے نظام سے ٹکرا جائے۔ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما مصطفی کمال نے کہا کہ مثالیں موجود ہیں اہم شہروں کو علاقائی سطح پر صوبوں کے حوالے نہیں کیا جاتا ہے۔ کراچی میں پے درپے واقعات ہوتے ہیں۔ ہم وزیراعظم سے بات کریں گے۔ پیپلزپارٹی سندھ میں 18 سال سے حکمرانی کررہی ہے۔ ہم وزیراعظم سے آئینی ترمیم کی بات کررہے ہیں جو انہوں نے قبول کی ہے۔ وزیراعظم فلور پر کہہ چکے کہ ایم کیو ایم کی آئینی ترمیم کیلئے میں پی پی کو راضی کروں گا۔ آج کے حالات نے ثابت کردیا ایم کیو ایم کا 18ویں ترمیم کو سپورٹ کرنا غلط فیصلہ تھا۔ دنیا چاند پر جارہی ہے اور کراچی کے بچے گٹر میں گر رہے ہیں۔ یہ طعنے دیتے ہیں کہ عمارت ایسے ہی بن گئی تو آپ نے کیوں نہیں توڑا۔ مصطفی کمال نے کہا کہ ہمیں ماضی کے واقعات کے طعنے دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے خود کیا کیا ہے؟۔ حادثات کے بعد سندھ حکومت اگلے حادثے کا انتظار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا پنجاب کا ہر وزیر اعلی لاہور کو اون کرتا ہے۔ سندھ کا وزیر اعلی کراچی کو اون نہیں کرتا۔ ہمیں پیپلز پارٹی سے کوئی امید نہیں رہی۔ سندھ میں کرپشن اور رشوت کی وجہ سے کام نہیں ہورہا۔وفاقی وزیر صحت اور ایم کیو ایم کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے ٹی وی گفتگو میں کہا ہے کہ اگر ایم کیو ایم کی وزارتیں لیکر کراچی کو بچایا جا سکتا ہے تو ہم فوری طور پر استعفا دینے پر تیار ہیں ۔ دوسر طرف چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھا ہے خط میں انہں نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاق و سانحہ گل پلازہ انکوائری کمیشن کے نام سے اعلیٰ سطح کی غیر جانبدارانہ اور شفاف کمیشن تشکیل دے اسٹیٹ بنک ، نیسپاک سمیت دیگر کو شامل کیا جائے وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا ایم کیو ایم وفاقی وزیر نے کہا کہ کے حوالے کمال نے ایم کی

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس