مصطفٰی کمال سیاسی چھوٹو، بلاول ہاؤس: ٹیکس اور جانیں دیں، دھمکیاں بھی سنیں یہ نہیں ہو گا، کامران ٹیسوری
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
کراچی (سٹاف رپورٹر+نوائے وقت رپورٹ+ این این آئی) ترجمان بلاول ہائوس و رکن سندھ اسمبلی سریندر ولاسائی نے وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے سے متعلق بیان پر سخت ردعمل دیا ہے۔ ترجمان بلاول ہائوس نے کہا کہ مصطفیٰ کمال کو سیاسی طور نیند میں چلنے کی بیماری ہے۔ جس کی حیثیت کونسلر کی نہ ہو اسے وفاقی وزیر بنایا جائے گا تو اس کے پائوں زمین پر ہوں گے نہ ہوش سلامت۔ سریندر ولاسائی نے کہا کہ مصطفیٰ کمال دوسروں کی انگلی پکڑ کر چلنے والا وہ سیاسی چھوٹو ہے جس کہ سیاست اپنی ہے نہ سوچ۔ اگر حادثات کی بنیاد پر شہروں کو وفاق کے حوالے کرنا درست ہوتا تو لاہور کب کا اسلام آباد کے کنٹرول میں ہوتا۔ ترجمان نے کہا کہ لاہور میں الفتح شاپنگ مال کو دو بار، حفیظ سینٹر کو تین بار اور پیس کو دو بار آگ لگی لیکن شاپنگ مالز میں آتشزدگی کے مذکورہ واقعات کے بعد کسی نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ لاہور کو وفاق کے حوالے کیا جائے۔ دوسری طرف گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ پر ایک ہفتہ بعد بھی سیاست اور بلیم گیم ہورہا ہے، سازشیں ہورہی ہیں۔ واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔گورنر ہائوس میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ کامران ٹیسوری کہا کہ قابل افسوس بات ہے کہ لواحقین کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے سیاسی بیانات دے کر نمک چھڑکا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی فیملیز موجود ہیں، لواحقین کی آہیں اور سسکیاں رک نہیں رہیں۔ ہم بولیں گے تو میسج آئے گا کہ آپ نہیں بولیں آپ کا اختیار نہیں، آپ کی کرسی ہل جائے گی، سن لو میں کمزور نہیں جو تمہارے ڈرانے یا دھمکانے سے رک جائوں گا۔ گورنر سندھ نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر مطالبہ کروں گا کہ اس واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔ انہوں نے کہاکہ ٹیکس بھی دیں، جانیں بھی دین اور پھر تمہاری دھمکیاں بھی سہیں یہ نہیں چلے گا۔ میں نے تو فیصلہ کرلیا ہے، اب عوام کو فیصلہ کرنا ہے، یہ نہیں ہوگا کہ نہ انصاف دیں گے، نہ زخموں پر مرہم رکھیں گے۔ خدارا لواحقین کی بد دعائوں سے ڈریں۔ انہوں نے کہا کراچی معاشی حب اور خوشیاں بانٹنے والا شہر ہے۔ لوگ گھر سے باہر نکلتے ہوئے ڈر رہے ہیں، شہر جل رہا ہے۔ لوگ غریب ہوگئے ہیں، خدا کا خوف کرو، اس شہر کو سب نے کھالیا ہے، اب بس کرو۔ ادھر وفاقی وزیرصحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ صوبے اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں تو وفاق کو مداخلت کا اختیار ہے۔ وزیراعظم نے آئینی ترمیم کی بات قبول کی ہے۔ جس ایم کیو ایم کے پیپلز پارٹی والے طعنے دیتے ہیں اس کے بانی کے ذاتی مسئلے یہ خود حل کرتے تھے۔ ایم کیو ایم کے پاس اس وقت وہ طاقت نہیں کہ پورے نظام سے ٹکرا جائے۔ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر رہنما مصطفی کمال نے کہا کہ مثالیں موجود ہیں اہم شہروں کو علاقائی سطح پر صوبوں کے حوالے نہیں کیا جاتا ہے۔ کراچی میں پے درپے واقعات ہوتے ہیں۔ ہم وزیراعظم سے بات کریں گے۔ پیپلزپارٹی سندھ میں 18 سال سے حکمرانی کررہی ہے۔ ہم وزیراعظم سے آئینی ترمیم کی بات کررہے ہیں جو انہوں نے قبول کی ہے۔ وزیراعظم فلور پر کہہ چکے کہ ایم کیو ایم کی آئینی ترمیم کیلئے میں پی پی کو راضی کروں گا۔ آج کے حالات نے ثابت کردیا ایم کیو ایم کا 18ویں ترمیم کو سپورٹ کرنا غلط فیصلہ تھا۔ دنیا چاند پر جارہی ہے اور کراچی کے بچے گٹر میں گر رہے ہیں۔ یہ طعنے دیتے ہیں کہ عمارت ایسے ہی بن گئی تو آپ نے کیوں نہیں توڑا۔ مصطفی کمال نے کہا کہ ہمیں ماضی کے واقعات کے طعنے دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے خود کیا کیا ہے؟۔ حادثات کے بعد سندھ حکومت اگلے حادثے کا انتظار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا پنجاب کا ہر وزیر اعلی لاہور کو اون کرتا ہے۔ سندھ کا وزیر اعلی کراچی کو اون نہیں کرتا۔ ہمیں پیپلز پارٹی سے کوئی امید نہیں رہی۔ سندھ میں کرپشن اور رشوت کی وجہ سے کام نہیں ہورہا۔وفاقی وزیر صحت اور ایم کیو ایم کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے ٹی وی گفتگو میں کہا ہے کہ اگر ایم کیو ایم کی وزارتیں لیکر کراچی کو بچایا جا سکتا ہے تو ہم فوری طور پر استعفا دینے پر تیار ہیں ۔ دوسر طرف چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھا ہے خط میں انہں نے مطالبہ کیا ہے کہ وفاق و سانحہ گل پلازہ انکوائری کمیشن کے نام سے اعلیٰ سطح کی غیر جانبدارانہ اور شفاف کمیشن تشکیل دے اسٹیٹ بنک ، نیسپاک سمیت دیگر کو شامل کیا جائے وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا ایم کیو ایم وفاقی وزیر نے کہا کہ کے حوالے کمال نے ایم کی
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔