افغان مہاجرین یورپ کیلیے سکیورٹی رسک، سویڈن کا یورپی ممالک سے ایکشن لینے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
افغان مہاجرین کی غیر قانونی سرگرمیاں اور جرائم یورپی ممالک کے لیے سنگین سکیورٹی خطرہ بن گئیں۔
جرمنی، ایران اور ترکیہ کے بعد سویڈن نے بھی افغان مہاجرین کو ملک چھوڑنے کا الٹی میٹم جاری کر دیا۔ سویڈن کے وزیر برائے امیگریشن کا افغان مہاجرین سے متعلق سخت موقف سامنے آگیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سویڈن نے یورپی یونین سے افغان مہاجرین کے لیے دستاویزات کا مشترکہ نظام مانگ لیا۔ سویڈش وزیر نے واضح کردیا کہ جرائم پیشہ افغان مہاجرین کو یورپ میں رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
سویڈش وزیر برائے امیگریشن کا کہنا تھا کہ جرائم میں ملوث افغان مہاجرین ہماری سوسائٹی کا ہرگز حصہ نہیں بن سکتے۔
انہوں نے کہا کہ جرائم میں ملوث افغان مہاجرین کو ہر قیمت پر ملک بدر کیا جائے گا۔ جرائم پیشہ اور غیر قانونی افغان مہاجرین کی فوری ملک بدری پر تمام یورپی ممالک بھی متفق ہیں۔
سویڈش وزیر نے یورپی ممالک کو افغان مہاجرین کو ایک جگہ جمع کر کے چارٹر فلائٹس کے ذریعے ملک بدر کرنے کی تجویز بھی دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افغان مہاجرین کو یورپی ممالک
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔