پاکستان کی موثر اور مضبوط معاشی پالیسیوں کا عالمی سطح پر اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
پاکستانی حکومت کی طرف سے معاشی بہتری کیلئے کی جانے والی کوششوں کا آئی ایم ایف نے بھی اعتراف کرلیا۔
ڈیوس عالمی اقتصادی فورم میں میڈیا سے گفتگو میں آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے جب بھی کسی کام کا بیڑہ اٹھایا تو پھر وہ کرکے دکھایا۔
کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان ملک کی بہتری کیلئے مشکل مگر ضروری اصلاحات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت نے سنجیدگی سے اصلاحات کو اپنایا اور اسکے ثمرات سامنے آنا شروع ہو گئے۔
کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ بجٹ کے کڑے نظم وضبط کے نتیجے میں عوام کی بہتری کیلئے وسائل میسر ہورہے ہیں۔ ہمارا پاکستان کے ساتھ کافی عرصے سے نہایت تعمیری اور مثبت رابطہ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبصرین کے نزدیک آئی ایم ایف سربراہ کی توثیق سے ثابت ہوا کہ پاکستان درست معاشی راستے پر گامزن ہے۔ آئی ایم ایف کے علاوہ دیگر عالمی مالیاتی ادارے بھی پاکستان کی کامیاب معاشی پالیسیوں کا اعتراف کرچکے۔
حکومتی کوششوں کے نتیجے میں زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ،افراط زر اورشرح سود میں کمی آرہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف نے کہا کہ
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔