فیض حمید کے بھائی کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر عدالتی فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
فیض حمید کے بھائی نجف حمید کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید کی ضمانت منسوخ کرنے سے متعلق ایف آئی اے کی درخواست پر سماعت اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کی۔ سماعت کے موقع پر نجف حمید اپنے وکیل میاں علی اشفاق کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
دوران سماعت پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ ریکارڈ ریاست کا تھا جس میں ردوبدل کیا گیا۔ پراسیکیوٹر کے مطابق اگر شکایت کنندہ کے ساتھ معاملات طے پا بھی جائیں تو ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ مزید تفتیش کے لیے نجف حمید کی کسٹڈی درکار ہے۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ نجف حمید کی ضمانت خارج کی جائے۔
دفاع کی جانب سے ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وکالتی تاریخ کا یہ انوکھا کیس ہے کہ تفتیشی آفیسر خود شکایت کنندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیس کے اصل شکایت کنندہ نے عدالت میں پیش ہو کر بیان دیا تھا کہ اس کے معاملات طے پا گئے ہیں اور شکایت کنندہ نے عدالت میں اپنا بیان حلفی بھی جمع کروایا تھا۔
ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق کا کہنا تھا کہ تفتیشی آفیسر کو اس کیس میں پارٹی کیسے تصور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ڈی جی ایف آئی اے اور وزارت داخلہ کو تفتیشی آفیسر کے خلاف کارروائی کے لیے لکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شکایت کنندہ کا اسٹیٹس تبدیل نہیں ہو سکتا جب کہ ایف آئی آر بھی وہی ہو۔ عدالت نے اپنے حکم میں لکھا تھا کہ شکایت کنندہ نے عدالت میں پیش ہو کر بیان دیا کہ اس کا معاملہ طے پا گیا ہے۔ عدالتی حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ شکایت کنندہ کیس کو مزید نہیں چلانا چاہتا۔
دفاعی وکیل نے مزید کہا کہ 16 سال میں اگر تفتیش نہیں ہو سکی تو اب کیا تفتیش کی جائے گی۔ اس کیس میں سرکاری زمین کا کوئی معاملہ بھی شامل نہیں ہے۔ ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق کے مطابق ایف آئی اے نے درخواست میں لکھا ہے کہ انہیں ضمانت کا علم نہیں تھا، حالانکہ عدالتی حکم نامے کے مطابق ضمانت کے وقت اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل عدالت میں موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی حکم نامے میں یہ بھی درج ہے کہ اے ڈی لیگل نے ضمانت کی مخالفت کی تھی، لہٰذا ایف آئی اے کی جانب سے ضمانت خارج کرنے کی درخواست کو خارج کیا جائے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر نجف حمید کی ضمانت خارج کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نجف حمید کی ضمانت میاں علی اشفاق کی درخواست پر شکایت کنندہ ایف آئی اے عدالت میں نے عدالت انہوں نے کے مطابق تھا کہ کہا کہ
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔