فیض حمید کے بھائی کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر عدالتی فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
فیض حمید کے بھائی کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر عدالتی فیصلہ محفوظ WhatsAppFacebookTwitter 0 24 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد:(آئی پی ایس)
فیض حمید کے بھائی نجف حمید کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید کی ضمانت منسوخ کرنے سے متعلق ایف آئی اے کی درخواست پر سماعت اسپیشل جج سینٹرل شاہ رخ ارجمند نے کی۔ سماعت کے موقع پر نجف حمید اپنے وکیل میاں علی اشفاق کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔
دوران سماعت پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ ریکارڈ ریاست کا تھا جس میں ردوبدل کیا گیا۔ پراسیکیوٹر کے مطابق اگر شکایت کنندہ کے ساتھ معاملات طے پا بھی جائیں تو ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ مزید تفتیش کے لیے نجف حمید کی کسٹڈی درکار ہے۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ نجف حمید کی ضمانت خارج کی جائے۔
دفاع کی جانب سے ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وکالتی تاریخ کا یہ انوکھا کیس ہے کہ تفتیشی آفیسر خود شکایت کنندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیس کے اصل شکایت کنندہ نے عدالت میں پیش ہو کر بیان دیا تھا کہ اس کے معاملات طے پا گئے ہیں اور شکایت کنندہ نے عدالت میں اپنا بیان حلفی بھی جمع کروایا تھا۔
ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق کا کہنا تھا کہ تفتیشی آفیسر کو اس کیس میں پارٹی کیسے تصور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ڈی جی ایف آئی اے اور وزارت داخلہ کو تفتیشی آفیسر کے خلاف کارروائی کے لیے لکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شکایت کنندہ کا اسٹیٹس تبدیل نہیں ہو سکتا جب کہ ایف آئی آر بھی وہی ہو۔ عدالت نے اپنے حکم میں لکھا تھا کہ شکایت کنندہ نے عدالت میں پیش ہو کر بیان دیا کہ اس کا معاملہ طے پا گیا ہے۔ عدالتی حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ شکایت کنندہ کیس کو مزید نہیں چلانا چاہتا۔
دفاعی وکیل نے مزید کہا کہ 16 سال میں اگر تفتیش نہیں ہو سکی تو اب کیا تفتیش کی جائے گی۔ اس کیس میں سرکاری زمین کا کوئی معاملہ بھی شامل نہیں ہے۔ ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق کے مطابق ایف آئی اے نے درخواست میں لکھا ہے کہ انہیں ضمانت کا علم نہیں تھا، حالانکہ عدالتی حکم نامے کے مطابق ضمانت کے وقت اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل عدالت میں موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی حکم نامے میں یہ بھی درج ہے کہ اے ڈی لیگل نے ضمانت کی مخالفت کی تھی، لہٰذا ایف آئی اے کی جانب سے ضمانت خارج کرنے کی درخواست کو خارج کیا جائے۔
عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر نجف حمید کی ضمانت خارج کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمران خان تعاون نہیں کررہے، این سی سی آئی اے کی رپورٹ عدالت میں پیش عمران خان تعاون نہیں کررہے، این سی سی آئی اے کی رپورٹ عدالت میں پیش غزہ امن بورڈ میں شمولیت فلسطینیوں پر جاری مظالم کو رکوانے کیلئے کی، احسن اقبال پاکستان کی موثر اور مضبوط معاشی پالیسیوں کا عالمی سطح پر اعتراف پاکستان نے ایران کیخلاف غیر منصفانہ قرارداد پر ووٹنگ کا مطالبہ کرکے جرأت مندانہ اقدام کیا، ایرانی سفیر سانحہ گل پلازہ: خالد مقبول صدیقی کا وزیر اعظم کو خط، آزاد کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ ایران امریکا کشیدگی: برطانیہ نے قطر میں لڑاکا طیارے تعینات کردیےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فیض حمید کے بھائی نجف حمید کی ضمانت میاں علی اشفاق عدالت میں پیش کی درخواست پر شکایت کنندہ فیصلہ محفوظ ایف آئی اے آئی اے کی نے عدالت انہوں نے کے مطابق کہا کہ تھا کہ
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔