ویب ڈیسک :وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات خیبرپختونخوا اختیار ولی خان نے الزام عائد کیا ہے کہ صوبے میں سرکاری وسائل، فنڈز اور مشینری کو منظم انداز میں ریاست کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ مخصوص سیاسی طبقہ حکومتی مراعات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کی زندگیوں میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

 انہوں نے واضح کیا کہ عوام کے حقِ زندگی اور آزاد نقل و حرکت پر کسی کو ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور اگر سڑکیں یا ریلوے بند کی گئیں تو عوامی طاقت سے انہیں کھلوایا جائے گا۔

پنجاب میں ”اپنا کھیت،ا پنا روزگار پروگرام“ شروع کرنے کا فیصلہ

  اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا کہ ہم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی بھی ایسی کال کو مسترد کریں گے جس کا مقصد عام شہریوں کو یرغمال بنانا ہو۔

 انہوں نے خیبرپختونخوا کے عوام سے اپیل کی کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کے وزرا، مشیران، ارکانِ اسمبلی، سینیٹرز یا پارٹی عہدیداران میں سے کوئی سڑکیں بند کرنے یا ریاستی نظام مفلوج کرنے کی کوشش کرے تو عوام خود ایسی کارروائیوں کو ناکام بنائیں۔

 حکومت نے مری میں سیاحوں کیلئےنئی سہولت متعارف کروادی

  اختیار ولی خان کا کہنا تھا کہ جلسے جلوس کرنا ہر جماعت کا حق ہے، لیکن سرکاری وسائل اور عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے سیاست چمکانا ناقابلِ قبول ہے۔

 انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے حالیہ ہزارہ دورے کے دوران سرکاری گاڑیوں اور سرکاری پٹرول کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جس پر لاکھوں روپے خرچ کیے گئے، جبکہ عوام کو بنیادی سہولیات میسر نہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہری پور، کانگڑا، ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں ہونے والی سرگرمیوں میں عوامی دلچسپی نہ ہونے کے برابر تھی، اور جلسوں میں لوگوں کو سرکاری وسائل کے ذریعے ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل کیا گیا،ان کے مطابق تین سے ساڑھے تین سو گاڑیوں میں سرکاری پٹرول بھروایا گیا، جو براہِ راست عوام کے پیسوں کا ضیاع ہے۔

بینائی سے محروم افراد کو خصوصی افراد کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ 

 اختیار ولی خان نے کہا کہ یہ سرکاری وسائل، سرکاری فنڈنگ اور ریاستی مشینری کا کھلا غلط استعمال ہے، جو ریاست کے مفاد کے خلاف ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آئین اور قانون کو مذاق بنا دیا گیا ہے کہ سزا یافتہ افراد کی رہائی کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے شعبے پر 363 ارب روپے خرچ کرنے کے دعوے کیے گئے، مگر اس کے باوجود 60 فیصد طلبہ امتحانات میں ناکام ہو گئے، جو تعلیمی نظام کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس مثالی پولیس نظام کا کریڈٹ لیا جاتا تھا، آج وہ مکمل طور پر سیاسی دباؤ کا شکار ہے، پولیس سے اختیارات واپس لے کر پوسٹنگ اور ٹرانسفرز وزرا، مشیروں اور ارکانِ اسمبلی کی مرضی سے کی جا رہی ہیں۔

پرائیویٹ سکولوں کی کتابوں اور یونیفارم کی زبردستی فروخت پر پابندی عائد

 اختیار ولی خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تمام ادارے سیاسی مداخلت کی زد میں ہیں، سیکرٹریوں کی تعیناتیاں اور وزارتیں مبینہ طور پر فروخت کی جا رہی ہیں، اور صوبہ ایک کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے، انہوں نے سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ واحد صوبائی حکومت ہے جس کے دور میں منشیات کی اسمگلنگ سرکاری سرپرستی میں ہو رہی ہے۔

انہوں نے وادی تیراہ آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ساڑھے 4 ارب روپے حاصل کیے گئے، جن میں سے ڈیڑھ ارب روپے تاحال تقسیم نہیں کیے گئے، جبکہ تین ارب روپے مبینہ طور پر فوڈ اسٹریٹ موومنٹ کے لیے مختص کر دیے گئے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا گزشتہ 13 برس سے مسلسل تباہی اور زوال کی طرف جا رہا ہے۔

 آن لائن گیم سے شادی تک: جرمن ڈاکٹر نے پاکستانی نوجوان سے شادی کر لی

  اختیار ولی خان نے کہا کہ حالیہ ٹی وی پروگرامز میں حکومتی نمائندوں کے بیانات افسوسناک ہیں، جن میں یہ تاثر دیا گیا کہ صوبے کے عوام کو تعلیم، صحت، روزگار، سڑکیں، اسکالرشپس یا ترقی درکار نہیں، بلکہ وہ صرف نعروں تک محدود ہو چکے ہیں، یہ خیبرپختونخوا کے عوام کی توہین ہے۔ 
انہوں نے زور دیا کہ صوبے کے عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ 28 تاریخ کو دی گئی شدت پسندی، انتشار اور شرارت پر مبنی کال کو مل کر ناکام بنانا ہے۔

 اختیار ولی خان نے کہا کہ وہ خود عوام کے ساتھ کھڑے ہوں گے، تاجروں، طلبہ، مزدوروں، کسانوں اور دکانداروں سے رابطہ کریں گے اور انہیں باور کرائیں گے کہ اب گمراہ کن سیاست کا حصہ بننے کی ضرورت نہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب خیبرپختونخوا ترقی کے سفر میں دوسرے نمبر پر ہوا کرتا تھا، لیکن آج دیگر صوبوں سے موازنہ کیا جائے تو صوبہ بدترین درجہ بندی کی طرف جا چکا ہے، جس کی ذمہ داری موجودہ طرزِ حکمرانی پر عائد ہوتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے

سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔

دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاق

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے

واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔

نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگ

نئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔

میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔

الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی

’میٹا‘  نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔

یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔

’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرول

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔

یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد