خیبرپختونخوا میں سرکاری وسائل ریاست کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں: اختیار ولی خان
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک :وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات خیبرپختونخوا اختیار ولی خان نے الزام عائد کیا ہے کہ صوبے میں سرکاری وسائل، فنڈز اور مشینری کو منظم انداز میں ریاست کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ مخصوص سیاسی طبقہ حکومتی مراعات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کی زندگیوں میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ عوام کے حقِ زندگی اور آزاد نقل و حرکت پر کسی کو ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور اگر سڑکیں یا ریلوے بند کی گئیں تو عوامی طاقت سے انہیں کھلوایا جائے گا۔
پنجاب میں ”اپنا کھیت،ا پنا روزگار پروگرام“ شروع کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اختیار ولی خان نے کہا کہ ہم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی بھی ایسی کال کو مسترد کریں گے جس کا مقصد عام شہریوں کو یرغمال بنانا ہو۔
انہوں نے خیبرپختونخوا کے عوام سے اپیل کی کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کے وزرا، مشیران، ارکانِ اسمبلی، سینیٹرز یا پارٹی عہدیداران میں سے کوئی سڑکیں بند کرنے یا ریاستی نظام مفلوج کرنے کی کوشش کرے تو عوام خود ایسی کارروائیوں کو ناکام بنائیں۔
حکومت نے مری میں سیاحوں کیلئےنئی سہولت متعارف کروادی
اختیار ولی خان کا کہنا تھا کہ جلسے جلوس کرنا ہر جماعت کا حق ہے، لیکن سرکاری وسائل اور عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے سیاست چمکانا ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے حالیہ ہزارہ دورے کے دوران سرکاری گاڑیوں اور سرکاری پٹرول کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جس پر لاکھوں روپے خرچ کیے گئے، جبکہ عوام کو بنیادی سہولیات میسر نہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہری پور، کانگڑا، ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں ہونے والی سرگرمیوں میں عوامی دلچسپی نہ ہونے کے برابر تھی، اور جلسوں میں لوگوں کو سرکاری وسائل کے ذریعے ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل کیا گیا،ان کے مطابق تین سے ساڑھے تین سو گاڑیوں میں سرکاری پٹرول بھروایا گیا، جو براہِ راست عوام کے پیسوں کا ضیاع ہے۔
بینائی سے محروم افراد کو خصوصی افراد کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ
اختیار ولی خان نے کہا کہ یہ سرکاری وسائل، سرکاری فنڈنگ اور ریاستی مشینری کا کھلا غلط استعمال ہے، جو ریاست کے مفاد کے خلاف ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آئین اور قانون کو مذاق بنا دیا گیا ہے کہ سزا یافتہ افراد کی رہائی کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے شعبے پر 363 ارب روپے خرچ کرنے کے دعوے کیے گئے، مگر اس کے باوجود 60 فیصد طلبہ امتحانات میں ناکام ہو گئے، جو تعلیمی نظام کی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس مثالی پولیس نظام کا کریڈٹ لیا جاتا تھا، آج وہ مکمل طور پر سیاسی دباؤ کا شکار ہے، پولیس سے اختیارات واپس لے کر پوسٹنگ اور ٹرانسفرز وزرا، مشیروں اور ارکانِ اسمبلی کی مرضی سے کی جا رہی ہیں۔
پرائیویٹ سکولوں کی کتابوں اور یونیفارم کی زبردستی فروخت پر پابندی عائد
اختیار ولی خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تمام ادارے سیاسی مداخلت کی زد میں ہیں، سیکرٹریوں کی تعیناتیاں اور وزارتیں مبینہ طور پر فروخت کی جا رہی ہیں، اور صوبہ ایک کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے، انہوں نے سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ واحد صوبائی حکومت ہے جس کے دور میں منشیات کی اسمگلنگ سرکاری سرپرستی میں ہو رہی ہے۔
انہوں نے وادی تیراہ آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ساڑھے 4 ارب روپے حاصل کیے گئے، جن میں سے ڈیڑھ ارب روپے تاحال تقسیم نہیں کیے گئے، جبکہ تین ارب روپے مبینہ طور پر فوڈ اسٹریٹ موومنٹ کے لیے مختص کر دیے گئے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا گزشتہ 13 برس سے مسلسل تباہی اور زوال کی طرف جا رہا ہے۔
آن لائن گیم سے شادی تک: جرمن ڈاکٹر نے پاکستانی نوجوان سے شادی کر لی
اختیار ولی خان نے کہا کہ حالیہ ٹی وی پروگرامز میں حکومتی نمائندوں کے بیانات افسوسناک ہیں، جن میں یہ تاثر دیا گیا کہ صوبے کے عوام کو تعلیم، صحت، روزگار، سڑکیں، اسکالرشپس یا ترقی درکار نہیں، بلکہ وہ صرف نعروں تک محدود ہو چکے ہیں، یہ خیبرپختونخوا کے عوام کی توہین ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ صوبے کے عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ 28 تاریخ کو دی گئی شدت پسندی، انتشار اور شرارت پر مبنی کال کو مل کر ناکام بنانا ہے۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ وہ خود عوام کے ساتھ کھڑے ہوں گے، تاجروں، طلبہ، مزدوروں، کسانوں اور دکانداروں سے رابطہ کریں گے اور انہیں باور کرائیں گے کہ اب گمراہ کن سیاست کا حصہ بننے کی ضرورت نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب خیبرپختونخوا ترقی کے سفر میں دوسرے نمبر پر ہوا کرتا تھا، لیکن آج دیگر صوبوں سے موازنہ کیا جائے تو صوبہ بدترین درجہ بندی کی طرف جا چکا ہے، جس کی ذمہ داری موجودہ طرزِ حکمرانی پر عائد ہوتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔