سوالوں کے جواب دینے کے بجائے وزیراعلیٰ سندھ عوام کو گمراہ کر رہے ہیں، فاروق ستار
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازا پر اٹھنے والے اہم سوالات کے واضح جواب دینے کے بجائے وزیراعلیٰ سندھ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ اصل مسئلے سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ سانحہ گل پلازا پر سنگین نوعیت کے سوالات موجود ہیں، لیکن پوچھا کچھ اور جا رہا ہے اور جواب کچھ اور دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کوئی قیاس آرائی نہیں کی بلکہ صرف سوالات اٹھائے ہیں، جن کے جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گل پلازہ کے واقعے کو 18ویں ترمیم سے جوڑنا سمجھ سے باہر ہے، ہر دکاندار کو 5، 5 لاکھ روپے دیں گے، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
انہوں نے کہا کہ حتمی تحقیقات کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ آگ کیسے لگی، مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سانحے کے 20 سے 22 گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر کیوں پہنچے۔ اسی طرح میئر کراچی بھی 23 گھنٹے بعد وہاں پہنچے، اور تنقید کے بعد بتایا گیا کہ وہ اسلام آباد میں تھے۔
فاروق ستار کا کہنا تھا کہ جب آپ تقریباً ایک دن بعد حادثے کے مقام پر پہنچے اور عوام کے ردعمل کو دیکھا تو تب جا کر واقعے کی سنگینی کا اندازہ ہوا۔ اصل سوالات یہ ہیں کہ ان تاخیروں کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور ان کا جواب کون دے گا۔
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ عمارت لیز پر تھی تو کیا اس لیز کو کبھی چیلنج کیا گیا؟ کیا لیز میں یہ لکھا تھا کہ آگ لگنے کی صورت میں اسے بجھایا نہیں جائے گا؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ شہر میں کتنے فائر ٹینڈرز درست حالت میں ہیں اور کتنے خراب ہیں، اور گزشتہ 18 برسوں میں کتنے نئے فائر اسٹیشنز قائم کیے گئے۔ یہ سوالات ہیں اور ان کا جواب بھی انہی 18 سالوں کی حکمرانی میں دینا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:فاروق ستار کا سازش کے تحت ایم کیو ایم کو دیوار سے لگانے کا الزام
فاروق ستار نے کہا کہ جب حکومت سے سوال کیا جائے تو فوراً کہا جاتا ہے کہ سانحے پر سیاست نہ کریں، مگر یہ بھی تو پوچھا جانا چاہیے کہ وزیراعلیٰ کہاں تھے اور وزرا کی اتنی بڑی تعداد کہاں غائب تھی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ 2008 سے سندھ کے وسائل پر قابض رہنے والوں سے سوال ہے کہ مزید کتنی عمارتوں کے جلنے کا انتظار کیا جا رہا ہے، اور کب تک صرف متاثرہ عمارتوں اور پلاٹوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا رہے گا۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر فاروق ستار نے کہا کہ وہ وقت آ رہا ہے جب وزیراعلیٰ سندھ کا احتساب کیا جائے گا، کیونکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکامی پر مزید خاموشی ممکن نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایم کیو ایم فاروق ستار کراچی مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم فاروق ستار کراچی مراد علی شاہ وزیراعلی سندھ
پڑھیں:
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی بھرپور حمایت سے بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں اپنے منطقی انجام تک جاری رہیں گی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا، جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے قومی اتحاد، استحکام اور ثابت قدمی کی اہمیت پر زور دیا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے اور یہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت، باہمت اور ثابت قدم عوام ہی اس صوبے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا مقصد صوبے کی سماجی اور معاشی ترقی کو یقینی بنانا، عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے تعاون سے بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی یہی مشترکہ کاوشیں صوبے میں پائیدار امن کی بنیاد بنیں گی۔
انہوں نے اس موقع پر کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے اور یہ کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک بلا تعطل جاری رہیں گی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ہر قسم کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی اور ملکی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہیں گی۔