تصویر،اسکرین گریب

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ سوالات کے جوابات دینے کے بجائے وزیراعلیٰ سندھ لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ سانحہ گل پلازا پر سنگین نوعیت کے سوالات ہیں۔ پوچھا کچھ اور جارہا ہے اور جواب کچھ اور دیا جارہا ہے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ حتمی تحقیقات کے بعد معلوم ہوگا کہ آگ کیسے لگی۔ ہم نے کوئی قیاس آرائی نہیں کی، ہم نے سوال کیا کہ وزیراعلیٰ سندھ سانحے کے 20، 22 گھنٹے کے بعد گل پلازا پہنچے، اس تاخیر کا بتائیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ تقریباً ایک دن کے بعد حادثے کے مقام پر پہنچے، میئر کراچی 23 گھنٹے کے بعد گل پلازا پہنچے، تنقید ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ وہ اسلام آباد میں ہیں، آپ نے آنے کے بعد جب لوگوں کا رویہ دیکھا تو سنگینی کا پتہ چلا۔

حکومت سندھ کا گل پلازہ گراکر دوبارہ تعمیر کرنے کا اعلان

کراچی حکومت سندھ کا گل پلازہ گراکر دوبارہ تعمیر.

..

فاروق ستار نے کہا کہ اصل سوالات یہ ہیں، ان سوالات کے جوابات دیں۔ آپ واقعے کی سنگینی سے توجہ ہٹا رہے ہیں۔ ہر سوال کا جواب ہے مگر آپ خود کو بچا رہے ہو، چلیں مان لیا کہ لیز ہوئی تو کیا یہ لیز چیلنج ہوئی؟ کیا لیز میں لکھا تھا کہ آگ لگے تو بجھایا نہیں جائے گا؟

فاروق ستار نے کہا کہ پوچھا گیا کہ کتنے فائر ٹینڈرز ٹھیک ہیں، کتنے خراب ہیں؟ یہ پوچھا گیا کہ 18 سالوں میں آپ نے کتنے فائر اسٹیشنز بنائے؟ یہ سوال ہے، اب 18 سال کا جواب دینا ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنما نے کہا کہ آپ سے سوال ہو تو آپ کہتے ہیں سانحے پر سیاست نہ کریں۔ یہ بھی نہ پوچھیں کہ وزیراعلیٰ کہاں تھے، وزراء کی اتنی بڑی تعداد کہاں تھی۔

فاروق ستار بولے کہ 2008 سے پورے سندھ کے وسائل پر آپ قابض ہو، کتنی اور عمارتوں کے جلنے کا انتظار کر رہے ہو؟ پھر ان کے پلاٹوں کا ڈیٹا نکالو گے۔

ایم کیو ایم رہنما نے یہ بھی کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ وہ وقت آرہا ہے آپ کا احتساب کیا جائے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: فاروق ستار نے کہا نے کہا کہ کے بعد

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن