کراچی ایڈیٹر کلب کے وفد کی ایرانی قونصل جنرل اکبر عیسیٰ زادہ سے ملاقات کا احوال
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: ملاقات کے دوران ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ 94 فیصد اسرائیل سے وابستہ ذرائع سے پروپیگنڈہ آرہا تھا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ میڈیا کو کس طرح استعمال کرتے ہیں، لوگوں کو ایسا لگتا تھا کہ یہ ایران کی نیوز ایجنسی سے آرہا ہے، مگر ایسا نہیں تھا، اسرائیل کی پشت پناہی انہیں حاصل ہے، میں یہ تائید کروں گا کہ میڈیا کہاں سے خبریں لے رہا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اور ایران کے میڈیا آپس میں مل جائیں تاکہ درست خبر آپ تک پہنچ سکے تاکہ اسرائیلی میڈیا سے نمٹا جاسکے۔ رپورٹ: میثم عابدی
کراچی میں تعینات ایران کے نئے قونصل جنرل اکبر عیسیٰ زادہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کو شکست کے بارے میں ایران نے کھل کر پاکستان کی حمایت کی تھی۔ ایران میں حالیہ پیشرفت پر ایران کی حکومت نے عوام کے ساتھ مکمل ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان اور ایران کی دوستی اب سے نہیں برسوں پرانی ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے کراچی ایڈیٹر کلب کے ایک وفد سے قونصلیٹ آفس میں ملاقات کے دوران کیا۔ وفد میں کلب کے صدر مبشر میر، سیکریٹری جنرل منظر نقوی، سینئر نائب صدر کرنل مختار بٹ، فنانس سیکریٹری نعیم الدین، اقبال جمیل، منصور بخاری، نعیم طاہر، زیڈ ایچ خرم ودیگر نے شرکت کی۔ اس موقع پر ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ ایران کے خلاف مسلط کردہ بارہ روزہ جنگ کے دوران پاکستان کی جانب سے بھرپور حمایت اور تعاون کی یقین دہانی پر ہم پاکستان اور ان کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں، ہم بھی پاکستان کا ایسے حالات میں بھرپور ساتھ دیں گے، اس وقت دنیا میں اخبارات کس طرح پبلش کیے جارہے ہیں، موجودہ زمانے میں ایران کے حالات کا میڈیا جو کچھ ہم دے رہے تھے، لیکن اندر کی جانب سے اس کے برعکس پروپیگنڈہ آرہا ہے، الجزیرہ غلط تھا۔
ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ 94 فیصد اسرائیل سے وابستہ ذرائع سے پروپیگنڈہ آرہا تھا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ میڈیا کو کس طرح استعمال کرتے ہیں، لوگوں کو ایسا لگتا تھا کہ یہ ایران کی نیوز ایجنسی سے آرہا ہے، مگر ایسا نہیں تھا، اسرائیل کی پشت پناہی انہیں حاصل ہے، میں یہ تائید کروں گا کہ میڈیا کہاں سے خبریں لے رہا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان اور ایران کے میڈیا آپس میں مل جائیں تاکہ درست خبر آپ تک پہنچ سکے تاکہ اسرائیلی میڈیا سے نمٹا جاسکے، آج سندھ کے ایک وزیر سے ملاقات ہوئی جب ہم ان کے دفتر گئے تو ان کے دفتر کے باہر مظاہرہ ہورہا تھا، وزیر سے ملاقات ہوئی تو ان سے میں نے ملت ایران کی جانب سے گل پلازہ کے سانحہ پر افسوس کا اظہار کیا، ایران کے موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو لوگ معاشی مسائل کی وجہ سے بھی اور امریکہ کی جانب سے کی گئی پابندیوں کی وجہ تھی جو کہ حل کیا گیا، 8 سے 10 جنوری تک ایران کے خلاف جو لوگ تھے انہوں نے ایران کے خلاف حملہ کرنے کا کہا گیا تھا، جس میں املاک کو نقصان پہنچایا گیا، اس کے ساتھ ساتھ امریکہ نے حملے کی دھمکی دی اور کہا کہ ان کے ساتھ ہیں، موساد کے ایجنڈے کو بھڑکایا گیا۔
ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ اس میں جو اور مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے گئے تھے، کہا گیا کہ یہاں روز ہوتا ہے یہ تاثر دیا گیا، اب عوام نے حکومت کا ساتھ دیا اور حالات پر قابو پایا، وہاں پر خانہ جنگی نہیں ہے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ہیں، ہمیں نظام جمہوریت اسلامی کا حکومت کے نظام کی حمایت کی گئی جس میں لاکھوں لوگ تھے، اُسے مغربی میڈیا نے نہیں دکھایا، ٹرمپ سازش رچانا چاہتے ہیاں تاکہ ایران کو نقصان پہنچایا جاسکے، ان تمام اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ ہماری پسندیدہ ڈیل کو اپنایا جائے، انرجی کے ذرائع پر ہمارا قبضہ ہو۔ جمہوری اسلامی نظام کا اصل مقصد یہ ہے کہ کہ ہزاروں شیعہ جن کے خون سے یہ نظام قائم ہو، ایران یہ نہیں چاہے گا کہ ان کا خون ضائع ہو، اس صورتحال کا حل یہ ہے کہ تمام اسلام ممالک ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہوجائیں، سیاسی تعلیمی اور ہر میدان میں اسلامی ممالک متہد ہوجائیں تو ایک اسلامی اتحاد قائم ہوگا، جس سے اسرائیلی سازشیں اپنے انجام تک پہنچیں گی۔
اس موقع پر کراچی ایڈیٹر کلب کے صدر مبشر میر نے کلب کی کارکردگی، اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے قونصل جنرل کو بتایا کہ کلب تقریباً دس سال سے قائم ہے، میڈیا تھنک ٹینک کے طور پر کراچی میں کام کررہا ہے، ہم نے ایک سو کے قریب نشستیں کی ہیں، ہماری حکومت کے ساتھ اور یونیورسٹیوں کے ساتھ بھی نشست رہی ہیں، ہم کوشش کرتے ہیں کہ نیشنل ایشوز پر روشنی ڈالی جائے تاکہ زیادہ بہتر طریقے سے ان ایشوز کو سمجھا جاسکے، ہم اس بات کا ادراک کرتے ہیں کہ پاک ایران تعلقات تاریخی ہیں، یہ تعلقات بہت پرانے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہمارے سفارتی تعلقات دونوں ممالک کے بہترین ہیں، ہم ایک دوسرے کے برادر بھی ہیں اور پڑوسی بھی، اس حوالے سے دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں، آج کے حالات میں پاکستان اور ایران میں جنگی کیفیت میں ہیں۔
مبشر میر نے کہا کہ پاکستان کا بھارت اور ایران کا بھی اسرائیل سے جنگی حالات ہیں، دونوں ممالک نے کھل کر ایک دوسرے کی حمایت کی، ہم آپ کے اس لیے بھی شکر گذار ہیں کہ جو موجودہ حالات ہیں، خاص طور پر ایران کے حالات پر دکھ ہے ہمیں آپ نے اچھے موقع پر KEC کو مدعو کیا، پاک ایران میڈیا کے تعلقات بہت مضبوط ہیں، ہم چاہیں گے کہ کراچی ایڈیٹر کلب اور دیگر اداروں کے روابط آپ کے توسط سے بڑھیں تاکہ میڈیا کے روابط میں زیادہ شفافیت ہو تاکہ غلط نیوز پھیلانے والوں سے چھٹکارا حاصل ہوسکے، اور ان کا مقابلہ بھی کیا جاسکے، ایران کی ڈپلومیسی اور ہماری ڈپلومیٹک کا مرکز یہ ہے کہ ہم اپنے ہمسایہ ممالک کیساتھ تعلقات کو بہتر اور مضبوط بنانا ہماری ترجیحات میں شامل ہیں، خاص طور پر اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اکیڈمک کلچرل اور معاشی میدان میں اپنے تعلقات کو بہتر بنایا جائے، جمہوری اسلامی پاکستان کو خاص اہمیت دینے کے قائل ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ایران میں ٹیکس نظام کو مزید بہتر بنایا جائے، امپورٹ کے حوالے سے بھی ٹیکس نظام میں اصلاحات کریں گے تاکہ ایران میں قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے دفاعی اور اقتصادی نظام کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔
آزادی اظہار کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے اس وقت سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کو کنٹرول کیا گیا اور کوئی غلط انفارمیشن دنیا میں نہ پھیلے بہت جلد یہ پابندیاں بھی دور ہوجائیں گی۔ میں آپ کو یہ بتادوں کہ ایران میں میڈیا کے ادارے آزاد ہیاں، اگر کوئی شخص نیشنل سیکورٹی کے خلاف بات کرے یا نقصان پہنچارہا ہو، اس کے لیے فوری اقدامات کیے جاتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں کہ ایران میں پھانسیاں ہوتی ہیں، خواتین کو تو میں نہیں جانتا کہ آپ کا کیا اس میں نظریہ ہے، میں یہ کہوں گا کہ ایک بڑا طبقہ ایران کی نیشنل سیکورٹی کی جاسوسی کرتا ہے تو یا ڈرگ مافیا سے ملا ہوا ہے یا قتل کے باعث پھانسی چڑھتے ہیں تو یہ سب قوائد و ضوابط کے تحت ہوتا ہے۔ 2026ء میں جو آپ بڑی تبدیلی دیکھیں گے وہ اقتصادی اور معاشی پیشرفت ہوگی جس کے نتیجہ میں عام لوگوں کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہونگی، یہ ہی ہمارا مشن ہے، اس حوالے سے ہم چاہیں گے کہ آپ ہماری مدد کریں تاکہ دونوں ممالک ترقی کی راہ پر گامزن ہوں۔
انہوں نے کہا کہ 2025ء میں پاک ایران افسران کے آپس میں بہت اچھے تعلقات رہے ہیں اور روابط سیاسی عسکری میدان میں آپس میں بات چیت ہوئی۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ 2026ء میں بھی یہ صورتحال قائم رہے گی، دونوں ممالک کے درمیان آگے بڑھنے کی بہت گنجائش ہے۔ میڈیا گروپ کا اس میں اہم کردار ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہ کیا ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو ختم کردے گا یا آگے بڑھائے گا، انہوں نے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پُرامن ہے اور وہ آج سے نہیں بلکہ پہلے سے ہے، ایران کا ایٹمی پروگرام میڈیکل اور انڈسٹریل مقاصد کے لیے ہے، اس کے مدنظر عالمی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاک ایران میڈیا کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام اور تعلقات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہ ایران کے ساتھ بادشاہ کے صاحبزادے جو کہ امریکہ میں مقیم ہیں، وہ وہاں تحریک چلارہے ہیں جبکہ کرد قوم بھی تحریک حیدری انہیں کیا آپ نظر انداز کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کرد قدیم زمانے سے ایران کا حصہ رہے ہیں اور وہ ایران کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، البتہ کچھ ایشوز ماضی میں دیکھنے میں آئے تھے، کردستان ایران کا پُرامن صوبہ ہے، وہاں کے رہنے والے پُرامن لوگ ہیں اور وہ خود کو ایران کا حصہ سمجھتے ہیں، جبکہ رضا شاہ پہلوی جو کہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد ایران سے بھاگ گیا تھا، اس کی کوئی پہچان نہیں ہے، وہ یہاں سے مال لوٹ کر بھاگ گیا اور وہ ایک پرتعیش زندگی گذار رہا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میڈیا کے حوالے سے الائنس بننا ضروری ہے، اس حوالے سے میڈیا سے مربوط اداروں کو اکٹھا ہونا ضروری ہے، سیاحت سے متعلق اداروں کو ملنا ہوگا۔
ایک اور سوال کے جواب میں قونصل جنرل نے کہا کہ پاکستان کی تمام قیادت نے موجودہ حالات میں ایران کو یقین دلایا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں، ہم امریکی ایجنسی کو جاسوسی کا اڈہ قرار دیتے ہیں، امریکہ کی مدد سے ماضی میں ایرانی صدر ڈاکٹر مصدق کو نامزد کیا گیا تھا، جب اسلامی جمہوری ایران قائم ہوا تھا۔ رضا پہلوی ایران سے بھاگ گیا تھا، ہم نے کوشش کی اُسے واپس لایا جائے، لیکن اس وقت امریکی حکومت نے اُسے بچالیا تھا، ایران کے صدر نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ ہم جنگ چاہتے ہیں، امریکہ دھمکیوں نے کبھی یہ نہیں مناسب سمجھا، ہم ملک کے خلاف کسی بھی سازش کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں، امریکہ کی ایران کے خلاف ایک خراب سیاست ہے جو منافقانہ ہے۔ امریکہ پابندیوں کو لے کر آگے بڑھ رہا ہے اور ایران کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
غزہ کی صورتحال کے بارے میں قونصل جنرل نے کہا کہ وہاں کی صورتحال بہت خراب رہی، فلسطین نامی آزاد ریاست لوگوں کے تعاون سے قائم ہو۔ کلب کے صدر مبشر میر کی جانب سے پوچھے گئے سوال میں کہ ایک ادارہ دس ممالک کا وجود میں آیا تھا، ایران، ترکی اور روس سمیت چھ ممالک شامل ہیں، لیکن وہ ادارہ کبھی کام کرتا ہے اور کبھی خاموش رہتا ہے، ایران میں میڈیا سرکار کے ماتحت ہے جبکہ پاکستان میں پرائیوٹ ہاتھوں میں ہے، کیا ایران میڈیا کو مناسب آزادی دینے کا سوچ رہا ہے کیونکہ خواتین کو پھانسی دینے پر بہت سے سوال اٹھے ہیں، کیا اس پرریفارم کرنے کے لیے سوچا جارہا ہے، ہمیں جب بہت خوشی ہوتی ہے جب ایران کی کامیابی ہوتی ہے جب ہماری کامیابی ہوتی ہے تو ایران خوش ہوتا ہے، چین نے جب ایران سعودی عرب کی دوستی کرائی تو ہمیں دلی خوشی ہوئی، اب سنتے ہیں کہ ایران اور ترکی کے درمیان دوستی مضبوط ہونے جارہی ہے، اس پر آگے کا لائحہ عمل کا ہوگا۔ 2026ء کے بعد کا ایران ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ ہم جمہوری ایران کے فارن سیکریٹری سے آزادی بیان کے حوالے سے بھی بات کرکے مدد لی جاسکتی ہے۔
کلب کے سیکریٹری جنرل منظر نقوی نے کہا کہ آج کی اس نشس کے لیے ہم آپ کے تہہ دل سے شکر گذار ہیں، ہمیں تفصیل سے ایران کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے حال ہی میں ایران کا سفر کیا تھا اور کافی تفصیلی معلومات ہوئی تھی، بڑی خوشی کی بات ہے کہ ایرانی قونصلیٹ میڈیا کے ساتھ تعاون کیا آپ نے غزہ کے حالات کی کافی تفصیلات بتائیں، ہمیں امید ہے کہ آپ ہم سے ہمیشہ اس ہی طرح تعاون کریں گے۔ ایران کے تمام میڈیا گروپ اچھی طرح سے کام کررہے ہیں، اگر کوئی نیشنل سیکورٹی کو نقصان پہنچا رہا ہے تو اس سے فوری نمٹا جاتا ہے، پھانسی کے حوالے سے میں پہلے ہی وضاحت کرچکا ہوں کہ پھانسیاں کیوں دی جاتی ہیں۔ 2026ء میں جو بڑی تبدیلی دیکھیں گے، ان کے عام لوگوں کی زندگی پر اچھے اثرات ہونگے، معاشی میدان میں ہم پڑوسیوں کے تعلقات کو بہتر کرنا چاہتے ہیں، ہم پاکستان کو خاص اہمیت دیتے ہیں، ایک سوال کے جواب میں کہ پاک بھارت جنگ میں ایران نے اپنا موقف بیان کیا تھا یہ حقیقت ہے کہ پاکستان ہمارا پڑوسی اور برادر ملک ہے، اس کی ترقی ہمارے لیے بہتری کی علامت ہے۔ پاکستان اور ایران کا سعودی عرب کی طرح کا کوئی دفاعی معاہدہ ہوسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ارباب اختیار کا ہے، میں اس پر کچھ نہیں کہوں گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ ایک اور سوال کے جواب میں ایک سوال کے جواب میں سوال کے جواب میں کہ پاکستان اور ایران ایک دوسرے کے ساتھ انہوں نے کہا کہ تعلقات کو بہتر ایران کے خلاف کہ ایران میں دونوں ممالک کے حوالے سے پاکستان کی کہ پاکستان کی جانب سے میں ایران چاہتے ہیں پاک ایران میڈیا کو میڈیا کے ایران کا ایران کی کہ میڈیا کرتے ہیں کے حالات یہ ہے کہ ہیں اور قائم ہو ہوتا ہے رہے ہیں گیا تھا اور وہ کے لیے رہا ہے ہیں کہ کہ پاک کے صدر اور ان کلب کے
پڑھیں:
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔
مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔
مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم