طالبان رجیم میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کو قانونی حیثیت دے دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
طالبان رجیم کا ایک نیا منظور شدہ فوجداری ضابطہ سامنے آیا ہے جس میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔
لندن میں قائم افغان انسانی حقوق کی تنظیم رواداری نے افغان عدالت کے فوجداری ضابطے کی کاپی کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان میں مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔
نیا فوجداری ضابطہ بنیادی آزادیوں کو محدود کرتا ہے اور من مانی حراست اور سزاؤں کی اجازت دیتا ہے۔
راوداری نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے طالبان عدالتوں کے ضابطہ فوجداری کی ایک کاپی حاصل کی ہے جسے حال ہی میں طالبان رہنما ہیبت اللہ اخوندزادہ نے منظور کیا ہے اور عمل درآمد کے لیے ملک بھر کے عدالتی اداروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
راوداری نے کہا کہ مسودہ تین حصوں، 10 ابواب اور 119 آرٹیکلز پر مشتمل ہے جو براہ راست بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات اور منصفانہ ٹرائل کے اصولوں سے متصادم ہے۔ گروپ نے مزید کہا کہ یہ دفاعی وکیل تک رسائی، خاموش رہنے کے حق یا معاوضے کے حق کی ضمانت نہیں دیتا اور نہ ہی یہ منصفانہ ٹرائل کے لیے دیگر بنیادی تحفظات فراہم کرتا ہے۔
مزید برآں نیا نظام غیر حنفی اور اہل السنۃ و الجماعۃ سے مختلف عقائد کے پیروکاروں کو "بدعتی" کے طور پر درجہ بند کرتا ہے جس میں شیعہ، اسماعیلی، اہل حدیث، سکھ، ہندو اور دیگر مذاہب کے افراد شامل ہیں۔
گروپ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ مسودے میں "باغیوں" کو "بدعنوانی کے ایجنٹ" کے طور پر لیبل کیا گیا ہے اور ان کیلئے پھانسی کی سزا ناگزیر قرار دی گئی ہے۔ ایک اور شق میں کسی بھی مسلمان شہری کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ جب کسی شخص کو گناہ کرتے ہوئے دیکھیں تو وہ سزا دے سکتے ہیں۔
نیا ضابطہ سماجی درجہ بندی اور غلامی کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ عوام کو علماء، اشرافیہ، متوسط طبقے، نچلے طبقے، آزاد اور غلام کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ نگرانی کے بغیر اس پر عمل درآمد سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، جبر اور لاقانونیت میں اضافہ ہو سکتا ہے جو منظم زیادتیوں کے لیے ایک قانونی آلے کے طور پر استعمال ہوگا۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے ضابطے کو فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور عالمی برادری، اقوام متحدہ اور دیگر متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ اس کے نفاذ کو روکنے کے لیے تمام قانونی اقدامات کریں۔
گروپ نے کہا کہ وہ ضابطے کے نفاذ کی نگرانی جاری رکھے گا اور میڈیا، بین الاقوامی تنظیموں اور افغان شہریوں کو اس کے اثرات کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا۔
دوسری جانب طالبان نے اس رپورٹ پر کوئی حالیہ تبصرہ نہیں کیا ہے تاہم طالبان رجیم یہ کہتی آئی ہے کہ ان کے قوانین اور پالیسیاں اسلامی قانون کی تشریح مبنی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے طور پر کرتا ہے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔