کشمور، کچے کے متعدد ڈاکوؤں نے رینجرز اور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
کشمور کندھکوٹ ڈسٹرکٹ کے دریائی علاقے گہل پور میں پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائی کے دوران متعدد مطلوبہ ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال کر خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت کا کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن شروع کرنے کا اعلان، قومی دھارے میں شامل ہونے کا آخری موقع
ایس ایس پی مراد گھانگرو نے بتایا کہ کارروائی کے دوران گونٹکی، کشمور اور رحیم یار خان کے مختلف مقدمات میں مطلوبہ ڈاکو اکبر کوش اور جیئل کوش سمیت متعدد عناصر نے خود کو سرنڈر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی شَر، کوش اور دیگر بدنام زمانہ ڈاکو گینگز کے خلاف جاری ہے۔
پولیس کے مطابق اب تک 15 سے زائد ڈاکو پولیس کے سامنے سرنڈر کر چکے ہیں۔ ایس ایس پی گھانگرو نے کہا کہ ڈاکوؤں کے خلاف کارروائیاں تب تک جاری رہیں گی جب تک علاقے سے تمام مجرمان کا صفایا نہ ہو جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کچے کے ڈاکوؤں نے 4 شہریوں کو اغوا کرلیا، 60 بھینسیں بھی چھین کر فرار
پولیس حکام نے بتایا کہ پنجاب اور سندھ پولیس نے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا ہے۔ اس آپریشن میں ڈاکوؤں کے زیر قبضہ علاقوں کو گھیرے میں لے کر جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے پیش قدمی کی جارہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اب تک 62 انتہائی مطلوب ڈاکوؤں نے پولیس کے سامنے سرنڈر کیا ہے جبکہ 50 سے زائد سہولت کار بھی گرفتار ہو چکے ہیں۔ سرنڈر کرنے والوں میں لُنڈ، کوش، لتھانی اور سیکھانی گینگز کے بدنام زمانہ عناصر شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف بات کیوں کی؟ رکن پنجاب اسمبلی کو پولیس کی جانب سے قتل کی دھمکیوں کا انکشاف
ڈی آئی جی پولیس غازی صلاح الدین نے بتایا کہ اس آپریشن میں2 ہزار پولیس اہلکار، 8 ڈرون ٹیمیں، 6 بلیٹ پروف گاڑیاں اور درجنوں آرمرڈ کیریئرز شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس رینجرز کچے کے ڈاکوں کشمور کندھکوٹ ہتھیار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پولیس کچے کے ڈاکوں کندھکوٹ ہتھیار ڈاکوؤں کے خلاف ڈاکوؤں نے پولیس کے کچے کے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔