ایران؛ زائرین کی بس پر بم دھماکے کے جرم میں 2 ملزمان کو پھانسی دیدی گئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
ایران میں 2 داعش جنگجوؤں کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا جن پر بم دھماکے کا الزام تھا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 2023 میں ایرانی دارالحکومت سے عراقی سرحد کے قریبی علاقے الام جانے والی زائرین کی بس میں بم دھماکا ہوا تھا۔
اس بم دھماکے میں ایک چھوٹا بچہ جاں بحق جب کہ 10 سے زائد افراد شدید زخمی ہوگئے تھے جن میں سے ایک معذور ہوگیا تھا۔
بم دھماکے کی تحقیقات کے دوران ایک ملزم کو بس میں بم نصب کرنے اور دوسرے کو دھماکا کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔
دونوں ملزمان کا تعلق داعش سے تھا جنھوں نے تفتیش کے دوران اعتراف جرم کرلیا تھا جس پر عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔
بعد ازاں یہ کیس سپریم کورٹ تک بھی پہنچا جہاں سزائے موت کو برقرار رکھا گیا اور آج اس فیصلے پر عمل درآمد کردیا گیا۔
ایران نے پھانسی دیئے جانے والے مجرموں کی شناخت ظاہر نہیں کی تاہم آزاد ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دونوں ایرانی شہری تھے۔
یاد رہے کہ ایران دنیا میں چین اور سعودی عرب کے بعد سب سے زیادہ سزائے موت دینے والا ملک ہے جہاں عدالتی کارروائیوں کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔