ایران امریکا کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی پروازیں متاثر، عالمی ایئرلائنز الرٹ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے لیے فضائی سفر شدید متاثر ہو گیا ہے اور متعدد بڑی عالمی ایئرلائنز نے خطے کے لیے اپنی پروازیں معطل یا محدود کر دی ہیں۔
ڈچ ایئرلائن کے ایل ایم، جرمن ایئرلائن لفتھانزا اور فرانس کی ایئر فرانس ان نمایاں عالمی ایئرلائنز میں شامل ہیں جنہوں نے ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ کے لیے پروازیں روک دی ہیں۔ ان پابندیوں سے اسرائیل، دبئی اور ریاض جیسے بڑے بین الاقوامی مراکز بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: مظاہروں کے دوران امریکا ایران کیخلاف فوجی اقدامات پر غور کررہا ہے، سی این این کا دعویٰ
ایئر فرانس نے جغرافیائی و سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ عارضی طور پر دبئی کے لیے اپنی پروازیں معطل کر رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ مسافروں اور عملے کی سلامتی اولین ترجیح ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
دوسری جانب کے ایل ایم نے ان تمام پروازوں کو روک دیا ہے جن کے لیے ایران، عراق اور خطے کے دیگر ممالک کی فضائی حدود استعمال کرنا ضروری تھا۔ ڈچ ایئرلائن کے مطابق وہ اسرائیل، دبئی، دمام اور ریاض کے لیے پروازیں بھی معطل کر چکی ہے اور اس سلسلے میں ڈچ حکام سے قریبی رابطے میں ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور روم میں ہوگا، ایرانی نائب وزیر خارجہ
لفتھانزا گروپ نے اسرائیل کے لیے صرف دن کے اوقات میں محدود پروازیں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ ایرانی فضائی حدود کے استعمال سے مکمل گریز کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح یونائیٹڈ ایئرلائنز اور ایئر کینیڈا نے بھی تل ابیب کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
پروازوں میں اس اچانک خلل کی بنیادی وجہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ امریکا نے احتیاطی طور پر ایک بڑا بحری بیڑا ایران کی جانب روانہ کر دیا ہے، تاہم ممکن ہے اسے استعمال نہ کرنا پڑے۔
یہ بھی پڑھیے: سلامتی کونسل میں امریکا اور ایران آمنے سامنے، سخت بیانات کا تبادلہ
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی بحری بیڑے میں یو ایس ایس ابراہم لنکن پر مشتمل طیارہ بردار جنگی گروپ اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز شامل ہیں، جو جلد بحیرۂ عرب یا خلیج فارس کے علاقے میں پہنچ سکتے ہیں۔
فضائی ماہرین اور ایوی ایشن اداروں نے بھی خبردار کیا ہے کہ خطے میں میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات شہری ہوابازی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ایران نے ممکنہ امریکی کارروائی کے خدشے کے پیشِ نظر 4 گھنٹے سے زائد وقت کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھی، جس سے دنیا بھر کی پروازیں متاثر ہوئیں۔
عالمی ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ جب تک خطے میں صورتحال واضح نہیں ہو جاتی، پروازوں کی بحالی کا کوئی حتمی شیڈول طے نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران فضائی آپریشن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا ایران عالمی ایئرلائنز کے لیے اپنی
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ