طالبان کا نیا فوجداری قانون افغان عدالتوں میں نافذ، انسانی حقوق گروپ کی سخت تنقید
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
افغانستان کی ایک انسانی حقوق تنظیم نے طالبان کے نئے فوجداری ضابطے کو افغان عدالتی نظام میں نافذ کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ نے حال ہی میں فوجداری مقدمات کے نئے طریقہ کار کی منظوری دی ہے اور اس ضابطے کو ملک بھر کے عدالتی اداروں میں نافذ کرنے کے لیے جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی فوجداری عدالت نے افغان طالبان کے امیر اور چیف جسٹس کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے
انسانی حقوق کی تنظیم رواداری نے کہا ہے کہ یہ ضابطہ اقلیتی طبقات کے خلاف امتیازی سلوک کو قانونی شکل دیتا ہے اور اس سے بنیادی انسانی آزادیوں پر شدید قدغنیں لگتی ہیں۔ تنظیم کے مطابق نئے ضابطے میں بلا وجہ گرفتاری اور غیر منصفانہ سزاؤں کی راہ ہموار کرنے والی شقیں شامل ہیں، جو عدالتی نظام کو بے رحمانہ اور غیر شفاف بنا دیتی ہیں۔
Press Release Regarding the Implications of the “The Criminal Procedure Code for Courts” Issued by the Taliban
Rawadari has recently obtained a copy of the “Criminal Procedure Code for Courts” (De Mahakumu Jazaai Osulnama) signed by the Taliban leader, Habatullah Akhundzada, and… pic.
— Rawadari رواداری (@rawadari_org) January 22, 2026
انسانی حقوق گروپ نے مزید کہا کہ یہ قانون بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات کے منافی ہے، کیونکہ اس میں ملزم کو وکیل رکھنے، خاموش رہنے یا ہرجانے کا حق دینے جیسی بنیادی ضمانتیں موجود نہیں ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ منصفانہ سماعت کے لیے ضروری دیگر حفاظتی اقدامات بھی اس ضابطے میں شامل نہیں کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: طالبان کا نیا قانون: رومانوی شاعری اور رہنما پر تنقید پر پابندی
رواداری نے خدشہ ظاہر کیا کہ ضابطے کی کچھ شقیں مخالفین کے خلاف غیر قانونی قتل کے امکانات بڑھا سکتی ہیں، اور اس میں طالبان پر تنقید کو جرم قرار دینے کی شق شامل ہے، جو آزادی اظہار پر پابندی ہے۔
تنظیم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ نئے فوجداری ضابطے میں سماجی طبقات اور غلامی کے تصور کو فروغ دینے والی شقیں موجود ہیں، جبکہ خواتین اور بچوں کے خلاف نفسیاتی اور جنسی تشدد کے معاملات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ تنظیم کے مطابق ضابطے کی امتیازی دفعات افغانستان میں اقلیتوں کو مزید خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: طالبان کے بین الاقوامی احتساب کا مطالبہ کیوں کیا گیا؟
انسانی حقوق گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ اس ضابطے کو فوری طور پر معطل کیا جائے اور اس کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے تاکہ انسانی حقوق کے عالمی معیارات کو مدنظر رکھا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news افغانستان تنقید رواداری طالبان عدالتیں فوجداری قانون
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان رواداری طالبان عدالتیں فوجداری قانون طالبان کے یہ بھی اور اس
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔