Islam Times:
2026-07-23@23:52:19 GMT

غزہ امن بورڈ: شمولیت یا جواز؟

اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT

غزہ امن بورڈ: شمولیت یا جواز؟

اسلام ٹائمز: مسئلہ فلسطین کسی تکنیکی ''امن بورڈ'' سے حل ہونے والا مسئلہ نہیں۔ یہ قبضے، استعمار اور مزاحمت کا مسئلہ ہے۔ فلسطینیوں کی آواز، ان کی مزاحمتی قیادت کا مؤقف اور امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی فکر ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر امن کوشش امن نہیں ہوتی، ہر شمولیت حکمت نہیں ہوتی اور ہر غیر جانبداری دراصل کسی ایک فریق کے حق میں ہوتی ہے لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان میز پر بیٹھے یا نہ بیٹھے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس کی میز ہے، ایجنڈا کس کا ہے اور قیمت کون ادا کرے گا۔ اسرائیل یا فلسطین؟ تحریر آغا زمانی

غزہ کے حوالے سے پاکستان سمیت بعض مسلم ممالک کی مجوزہ ''امن بورڈ'' میں شمولیت نے فکری اور سیاسی حلقوں میں ایک سنجیدہ بحث کو جنم دیا ہے۔ بظاہر یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ اگر پاکستان جیسے اصولی موقف رکھنے والے ممالک اس بورڈ میں شامل نہ ہوئے تو میدان مکمل طور پر صہیونی بیانیے کے لیے خالی ہو جائے گا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر میز پر موجود ہونا حکمت ہے یا بعض میزیں خود ظلم کو جواز فراہم کرنے کے لیے سجائی جاتی ہیں؟ اس سوال کا جواب ہمیں سب سے پہلے فلسطینیوں کے اپنے مؤقف، پھر ان کی مزاحمتی قیادت کے بیانیے اور بالآخر امام خمینی رضوان اللہ علیہ کی انقلابی فکر کی روشنی میں تلاش کرنا ہوگا۔

فلسطینی عوام کا مؤقف
مسئلہ امن نہیں، مسئلہ قبضہ ہے، فلسطینی عوام کی اکثریت، خواہ وہ غزہ ہو یا مغربی کنارہ، مسئلہ فلسطین کو کسی ''تنازع'' (conflict) کے طور پر نہیں دیکھتی بلکہ اسے نوآبادیاتی قبضہ (colonial occupation) سمجھتی ہے۔ ان کے نزدیک اصل مسئلہ جنگ بندی، نگرانی یا عبوری انتظامات نہیں بلکہ اسرائیلی قبضے کا خاتمہ، حقِ واپسی (Right of Return) القدس کی آزادی، مکمل خودمختار فلسطینی ریاست اسی لیے فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد ایسے بین الاقوامی فورمز کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے جن میں قبضہ کرنے والا فریق خود ثالث بنا بیٹھا ہو یا اس کے سرپرست فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہوں۔ فلسطینی عوام کا تلخ تجربہ یہ ہے کہ اوسلو سے لے کر کیمپ ڈیوڈ تک، ہر ''امن عمل'' نے ان کے زخموں میں اضافہ ہی کیا۔

فلسطینی مزاحمتی گروہوں کا موقف
امن کے نام پر ہتھیار ڈالنا قبول نہیں، حماس، اسلامی جہاد اور دیگر مزاحمتی دھڑے واضح طور پر یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ مزاحمت کوئی آپشن نہیں بلکہ قبضے کے خلاف فطری حق ہے، ایسے امن منصوبے جو مزاحمت کو ''دہشت گردی'' قرار دیں، ناقابل قبول ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی سیاسی عمل کی بنیاد طاقت کا توازن ہونا چاہیئے، نہ کہ یکطرفہ دباؤ، مزاحمتی قیادت کے نزدیک وہ بورڈ یا فورم جس میں نیتن یاہو جیسے جنگی مجرم یا اس کے حامی شامل ہوں، درحقیقت انصاف نہیں بلکہ مزاحمت کو غیر مؤثر بنانے کا ایک نیا طریقہ ہوتے ہیں۔ ان کے تجربے میں، عالمی ادارے اکثر طاقتور کی زبان بولتے ہیں اور کمزور سے ''لچک'' کا مطالبہ کرتے ہیں۔

امام خمینی (رح) کا مؤقف:
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے مسئلہ فلسطین کو نہ کبھی سفارتی نزاع سمجھا، نہ سرحدی تنازع۔ ان کے نزدیک۔ ''اسرائیل ایک غاصب ریاست ہے، جس کے وجود کو تسلیم کرنا ہی سب سے بڑی خیانت ہے۔'' امام خمینیؒ کے مطابق امریکہ اور مغرب کبھی غیر جانبدار ثالث نہیں ہو سکتے، اسرائیل کے ساتھ مذاکرات دراصل ظلم کو قانونی حیثیت دینا ہے، فلسطین کا حل صرف اور صرف مزاحمت اور امتِ مسلمہ کی عملی حمایت میں ہے۔ اسی فکر کے تحت انہوں نے یوم القدس کا اعلان کیا تاکہ فلسطین کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کے کمرۂ اجلاسوں کے بجائے عوامی ضمیر میں زندہ رہے۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک وہ امن، جو ظالم کو باقی رکھے اور مظلوم کو خاموش کرے، امن نہیں بلکہ سفید پوشی (Whitewashing) ہے۔

اہم سوال: کیا اس امن بورڈ میں شمولیت واقعی رکاوٹ بنے گی؟
یہ دلیل کہ ''اگر ہم میز پر نہ ہوں گے تو ہم مینو پر ہوں گے'' بظاہر دلکش ہے مگر ہر میز ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بعض میزیں فیصلہ سازی کے لیے نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ فیصلوں پر مہر لگوانے کے لیے ہوتی ہیں۔ اگر ایجنڈا پہلے سے مغرب طے کرے، مزاحمت کو سرے سے خارج کر دیا جائے، اسرائیلی جرائم پر بات ہی نہ ہو اور مسلم ممالک محض ''اعتدال پسند آواز'' بن کر بیٹھیں تو ایسی شمولیت رکاوٹ نہیں بلکہ جواز بن جاتی ہے۔

اصل معیار شمولیت نہیں، شرائط
اگر پاکستان، ترکی، قطر یا سعودی عرب واقعی اس فورم پر، اسرائیلی جارحیت کو جنگی جرم قرار دیں۔ مزاحمت کو دہشت گردی ماننے سے انکار کریں، مکمل فلسطینی ریاست کو غیر مذاکراتی شرط بنائیں اور کسی ایسے فیصلے کا حصہ نہ بنیں جو غزہ کو مستقل نگرانی یا غیر ملکی افواج کے زیر اثر دے تو ایسی شمولیت ایک حد تک قابلِ فہم ہو سکتی ہے لیکن اگر یہ ممکن نہیں، تو امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی فکر کے مطابق ظالم کے بنائے ہوئے فورم کا بائیکاٹ خود ایک مؤقف ہوتا ہے۔

آخری بات
مسئلہ فلسطین کسی تکنیکی ''امن بورڈ'' سے حل ہونے والا مسئلہ نہیں۔ یہ قبضے، استعمار اور مزاحمت کا مسئلہ ہے۔ فلسطینیوں کی آواز، ان کی مزاحمتی قیادت کا مؤقف اور امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی فکر ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر امن کوشش امن نہیں ہوتی، ہر شمولیت حکمت نہیں ہوتی اور ہر غیر جانبداری دراصل کسی ایک فریق کے حق میں ہوتی ہے لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان میز پر بیٹھے یا نہ بیٹھے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس کی میز ہے، ایجنڈا کس کا ہے اور قیمت کون ادا کرے گا۔ اسرائیل یا فلسطین؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ مزاحمتی قیادت مسئلہ فلسطین اللہ علیہ کی نہیں بلکہ مزاحمت کو نہیں ہوتی امن نہیں کے نزدیک یہ ہے کہ نہیں ہو کا مؤقف کے لیے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل