غزہ امن بورڈ: شمولیت یا جواز؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: مسئلہ فلسطین کسی تکنیکی ''امن بورڈ'' سے حل ہونے والا مسئلہ نہیں۔ یہ قبضے، استعمار اور مزاحمت کا مسئلہ ہے۔ فلسطینیوں کی آواز، ان کی مزاحمتی قیادت کا مؤقف اور امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی فکر ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر امن کوشش امن نہیں ہوتی، ہر شمولیت حکمت نہیں ہوتی اور ہر غیر جانبداری دراصل کسی ایک فریق کے حق میں ہوتی ہے لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان میز پر بیٹھے یا نہ بیٹھے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس کی میز ہے، ایجنڈا کس کا ہے اور قیمت کون ادا کرے گا۔ اسرائیل یا فلسطین؟ تحریر آغا زمانی
غزہ کے حوالے سے پاکستان سمیت بعض مسلم ممالک کی مجوزہ ''امن بورڈ'' میں شمولیت نے فکری اور سیاسی حلقوں میں ایک سنجیدہ بحث کو جنم دیا ہے۔ بظاہر یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ اگر پاکستان جیسے اصولی موقف رکھنے والے ممالک اس بورڈ میں شامل نہ ہوئے تو میدان مکمل طور پر صہیونی بیانیے کے لیے خالی ہو جائے گا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر میز پر موجود ہونا حکمت ہے یا بعض میزیں خود ظلم کو جواز فراہم کرنے کے لیے سجائی جاتی ہیں؟ اس سوال کا جواب ہمیں سب سے پہلے فلسطینیوں کے اپنے مؤقف، پھر ان کی مزاحمتی قیادت کے بیانیے اور بالآخر امام خمینی رضوان اللہ علیہ کی انقلابی فکر کی روشنی میں تلاش کرنا ہوگا۔
فلسطینی عوام کا مؤقف
مسئلہ امن نہیں، مسئلہ قبضہ ہے، فلسطینی عوام کی اکثریت، خواہ وہ غزہ ہو یا مغربی کنارہ، مسئلہ فلسطین کو کسی ''تنازع'' (conflict) کے طور پر نہیں دیکھتی بلکہ اسے نوآبادیاتی قبضہ (colonial occupation) سمجھتی ہے۔ ان کے نزدیک اصل مسئلہ جنگ بندی، نگرانی یا عبوری انتظامات نہیں بلکہ اسرائیلی قبضے کا خاتمہ، حقِ واپسی (Right of Return) القدس کی آزادی، مکمل خودمختار فلسطینی ریاست اسی لیے فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد ایسے بین الاقوامی فورمز کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے جن میں قبضہ کرنے والا فریق خود ثالث بنا بیٹھا ہو یا اس کے سرپرست فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہوں۔ فلسطینی عوام کا تلخ تجربہ یہ ہے کہ اوسلو سے لے کر کیمپ ڈیوڈ تک، ہر ''امن عمل'' نے ان کے زخموں میں اضافہ ہی کیا۔
فلسطینی مزاحمتی گروہوں کا موقف
امن کے نام پر ہتھیار ڈالنا قبول نہیں، حماس، اسلامی جہاد اور دیگر مزاحمتی دھڑے واضح طور پر یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ مزاحمت کوئی آپشن نہیں بلکہ قبضے کے خلاف فطری حق ہے، ایسے امن منصوبے جو مزاحمت کو ''دہشت گردی'' قرار دیں، ناقابل قبول ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی سیاسی عمل کی بنیاد طاقت کا توازن ہونا چاہیئے، نہ کہ یکطرفہ دباؤ، مزاحمتی قیادت کے نزدیک وہ بورڈ یا فورم جس میں نیتن یاہو جیسے جنگی مجرم یا اس کے حامی شامل ہوں، درحقیقت انصاف نہیں بلکہ مزاحمت کو غیر مؤثر بنانے کا ایک نیا طریقہ ہوتے ہیں۔ ان کے تجربے میں، عالمی ادارے اکثر طاقتور کی زبان بولتے ہیں اور کمزور سے ''لچک'' کا مطالبہ کرتے ہیں۔
امام خمینی (رح) کا مؤقف:
امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے مسئلہ فلسطین کو نہ کبھی سفارتی نزاع سمجھا، نہ سرحدی تنازع۔ ان کے نزدیک۔ ''اسرائیل ایک غاصب ریاست ہے، جس کے وجود کو تسلیم کرنا ہی سب سے بڑی خیانت ہے۔'' امام خمینیؒ کے مطابق امریکہ اور مغرب کبھی غیر جانبدار ثالث نہیں ہو سکتے، اسرائیل کے ساتھ مذاکرات دراصل ظلم کو قانونی حیثیت دینا ہے، فلسطین کا حل صرف اور صرف مزاحمت اور امتِ مسلمہ کی عملی حمایت میں ہے۔ اسی فکر کے تحت انہوں نے یوم القدس کا اعلان کیا تاکہ فلسطین کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کے کمرۂ اجلاسوں کے بجائے عوامی ضمیر میں زندہ رہے۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک وہ امن، جو ظالم کو باقی رکھے اور مظلوم کو خاموش کرے، امن نہیں بلکہ سفید پوشی (Whitewashing) ہے۔
اہم سوال: کیا اس امن بورڈ میں شمولیت واقعی رکاوٹ بنے گی؟
یہ دلیل کہ ''اگر ہم میز پر نہ ہوں گے تو ہم مینو پر ہوں گے'' بظاہر دلکش ہے مگر ہر میز ایک جیسی نہیں ہوتی۔ بعض میزیں فیصلہ سازی کے لیے نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ فیصلوں پر مہر لگوانے کے لیے ہوتی ہیں۔ اگر ایجنڈا پہلے سے مغرب طے کرے، مزاحمت کو سرے سے خارج کر دیا جائے، اسرائیلی جرائم پر بات ہی نہ ہو اور مسلم ممالک محض ''اعتدال پسند آواز'' بن کر بیٹھیں تو ایسی شمولیت رکاوٹ نہیں بلکہ جواز بن جاتی ہے۔
اصل معیار شمولیت نہیں، شرائط
اگر پاکستان، ترکی، قطر یا سعودی عرب واقعی اس فورم پر، اسرائیلی جارحیت کو جنگی جرم قرار دیں۔ مزاحمت کو دہشت گردی ماننے سے انکار کریں، مکمل فلسطینی ریاست کو غیر مذاکراتی شرط بنائیں اور کسی ایسے فیصلے کا حصہ نہ بنیں جو غزہ کو مستقل نگرانی یا غیر ملکی افواج کے زیر اثر دے تو ایسی شمولیت ایک حد تک قابلِ فہم ہو سکتی ہے لیکن اگر یہ ممکن نہیں، تو امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی فکر کے مطابق ظالم کے بنائے ہوئے فورم کا بائیکاٹ خود ایک مؤقف ہوتا ہے۔
آخری بات
مسئلہ فلسطین کسی تکنیکی ''امن بورڈ'' سے حل ہونے والا مسئلہ نہیں۔ یہ قبضے، استعمار اور مزاحمت کا مسئلہ ہے۔ فلسطینیوں کی آواز، ان کی مزاحمتی قیادت کا مؤقف اور امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی فکر ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر امن کوشش امن نہیں ہوتی، ہر شمولیت حکمت نہیں ہوتی اور ہر غیر جانبداری دراصل کسی ایک فریق کے حق میں ہوتی ہے لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان میز پر بیٹھے یا نہ بیٹھے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کس کی میز ہے، ایجنڈا کس کا ہے اور قیمت کون ادا کرے گا۔ اسرائیل یا فلسطین؟
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ مزاحمتی قیادت مسئلہ فلسطین اللہ علیہ کی نہیں بلکہ مزاحمت کو نہیں ہوتی امن نہیں کے نزدیک یہ ہے کہ نہیں ہو کا مؤقف کے لیے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔