کرکٹرز سے مبینہ فراڈ، انویسٹمنٹ کمپنی مالک کا بیان سامنے آ گیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
کرکٹرز کے ساتھ مبینہ فراڈ کی خبر پر انویسٹمنٹ کمپنی کے مالک کا بیان سامنے آ گیا۔
انویسٹمنٹ کمپنی کے مالک کا کہنا ہے کہ کسی کرکٹر کے ساتھ فراڈ نہیں ہوا، کھلاڑیوں کے ساتھ تحریری معاہدے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ کرکٹرز کے پاس کمپنی کے گارنٹی چیک بھی ہیں، دبئی بیسڈ کمپنی ٹریڈنگ کا کام کرتی ہے۔
کمپنی مالک نے کہا ہے کہ کھلاڑیوں کی ادائیگیاں پہلی بارتاخیر کا شکار ہوئی ہیں، جو چند دن میں کلیئر کر دی جائیں گی۔
دوسری جانب متعدد کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ کوئی فراڈ نہیں ہوا، کمپنی رابطے میں ہے، مارچ تک تمام پیمنٹ کلیئر کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔
’جیو نیوز‘ سے گفتگو میں کھلاڑیوں نے کہا کہ صرف2 چیک باؤنس ہونے کے بعد اس طرح کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق چیئرمین کرکٹ بورڈ محسن نقوی کا بھی کھلاڑیوں سے رابطہ ہوا ہے۔
اس موقع پر کھلاڑیوں نے محسن نقوی سے کہا کہ ابھی تک کوئی مسئلہ نہیں ہے، کچھ ہوا تو بتادیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے ساتھ
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔