سنبھل کے چیف جیوڈیشیل مجسٹریٹ کا تبادلہ عدلیہ کی آزادی پر حملہ ہے، کانگریس
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
پون کھیڑا نے اس معاملہ پر اپنی فکر ظاہر کرتے ہوئے پریس کانفرنس میں کہا کہ بی جے پی حکومت نے ایک بار پھر اس ملک کے جمہوری اداروں کو کھلے عام کمزور کر کے اپنا سب سے خطرناک، عوام مخالف، آئین مخالف، بربریریت و تاناشاہی والا کردار ظاہر کر دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس نے سنبھل کے چیف جیوڈیشیل مجسٹریٹ (سی جے ایم) وبھانشو سدھیر کے تابدلہ کو عدلیہ کی آزادی پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔ ہفتہ کے روز پارٹی کے میڈیا ڈپارٹمنٹ چیف پون کھیڑا نے پریس کانفرنس کر سپریم کورٹ اور الٰہ آباد ہائی کورٹ سے گزارش کی ہے کہ وہ اس معاملے کا از خود نوٹس لے۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بی جے پی نے اپنے سیاسی مفادات کو حاصل کرنے کے لئے عدالتی نظام کا اغوا کر لیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سی جے ایم وبھانشو سدھیر نے سنبھل تشدد معاملہ میں 9 جنوری کو اُس وقت کے پولیس سرکل افسر (سی او) انوج چودھری سمیت 20-15 پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے کچھ دن بعد ہی ان کا تبادلہ کر دیا گیا تھا۔
پون کھیڑا نے اس معاملہ پر اپنی فکر ظاہر کرتے ہوئے پریس کانفرنس میں کہا کہ بی جے پی حکومت نے ایک بار پھر اس ملک کے جمہوری اداروں کو کھلے عام کمزور کر کے اپنا سب سے خطرناک، عوام مخالف، آئین مخالف، بربریریت و تاناشاہی والا کردار ظاہر کر دیا ہے۔ سنبھل کے چیف جیوڈیشیل مجسٹریٹ وبھانشو سدھیر کا اچانک تبادلہ کوئی ایڈمنسٹریٹو کارروائی نہیں ہے، یہ عدلیہ کی آزادی پر براہ راست حملہ ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بی جے پی نے ایک خطرناک اور قابل مذمت فارمولہ ایجاد کیا ہے، اور وہ فارمولہ ہے، فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرو، تشدد پھیلاؤ، جرائم پیشوں کو بچاؤ اور پھر کسی بھی ایسے ادارہ کو کچل دو جو جوابدہی کا مطالبہ کرنے کی ہمت کرے۔
پون کھیڑا کا کہنا ہے کہ سنبھل معاملہ کوئی استثنیٰ نہیں ہے، بلکہ یہ قصداً اور گہری و خطرناک حکمت عملی کے تحت کی گئی کارروائی ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ سنبھل واقعہ اچانک نہیں ہوا تھا۔ یہ بی جے پی حکومت کی نفرت، پولرائزیشن اور سزا سے بچانے والی سیاست کا نتیجہ ہے۔ قانون پر عمل کرتے ہوئے آئینی انداز میں حکومت چلانے کی جگہ بی جے پی نے سرگرم طریقے سے فرقہ وارانہ تقسیم کو فروغ دیا، نفرت پھیلانے والوں کو بچایا اور تفریق آمیز و تشدد آمیز اقدام کئے، جس سے ہندو اور مسلم طبقات کے درمیان شگاف گہرے ہوگئے۔ کانگریس لیڈر کا کہنا ہے کہ نام نہاد "ڈبل انجن" بی جے پی حکومت بہت آگے بڑھ گئی ہے، جس نے عدلیہ کو ڈرانے، پالتو بنانے اور پھر اس پر قبضہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
پون کھیڑا نے نامہ نگاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وبھانشو سدھیر کا تبادلہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح برسر اقتدار پارٹی نے اپنے سیاسی مفادات کو حاصل کرنے کے لئے عدلیہ کا اغوا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہم سپریم کورٹ اور الٰہ آباد ہائی کورٹ سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ سنبھل کے چیف جیوڈیشیل مجسٹریٹ وبھانشو سدھیر کے منمانے اور بے حد پریشان کرنے والے تبادلہ کا از خود نوٹس لے۔ یہ معاملہ صرف ایک جیوڈیشیل افسر کے تبادلہ سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کی حکمرانی کو بنائے رکھنے، ادارتی خود مختاری کی حفاظت کرنے اور ملک میں جمہوری حکومت کے مزید زوال کو روکنے کے لئے وقت پر عدالتی مداخلت ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بی جے پی حکومت وبھانشو سدھیر کہ بی جے پی کرتے ہوئے انہوں نے ظاہر کر کہا کہ
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔