اسلام آباد ، لاہور اور کراچی کے ائیرپورٹس پرائیویٹائزیشن پروگرام میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
سٹی 42: اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پرائیویٹائزیشن پروگرام میں شامل ہوگیا ۔
طویل مدتی رعایتی موڈ کے تحت اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پرائیویٹائزیشن پروگرام میں شامل کیا گیا ۔ نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ حکومت اسلام آباد کراچی اور لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آپریشنز کی آؤٹ سورسنگ کے لیے بہت سے ممکنہ طریق کار پر غور کر رہی ہے، جس میں انتظامی معاہدے اور طویل مدتی تجارتی مراعات بھی شامل ہیں۔اس میں حکومت کے بنیادی مقاصد کارکردگی کو بڑھانا، خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا، زیادہ سے زیادہ آمدنی پیدا کرنا، انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنا ہے ۔
سٹی @ 10 ,24 جنوری، 2025
اس میں ملکی اور بین الاقوامی نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔ اس میں متحدہ عرب امارات، ترکی، سعودی عرب کے ساتھ ساتھ دیگر بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز سمیت قابل قدر شراکت دار ممالک کے اداروں کے ساتھ تعمیری بات چیت شامل ہے۔نجکاری کمیشن نے کچھ گمراہ کن رپورٹس کا نوٹس لیا ہے۔اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے کسی مجوزہ معاہدے کو منسوخ کرنے' کی خبر کو تردید کرتا ہے۔متحدہ عرب امارات کے ساتھ لیز کا کوئی معاہدہ منسوخ کرنے کی خبریں حقائق کے منافی اور گمراہ کن ہے ۔
بائیک رائیڈر کا ’’دھوم‘‘ اندار میں اپنی محبوبہ کو پرپوزل، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت کسی بھی ہوائی اڈے کے لیے ایسا کوئی معاہدہ یا لیز پر دستخط نہیں کیے گئے۔حکومت نے تینوں ہوائی اڈوں کے لیے گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ موڈ سے اوپن بِڈنگ موڈ پر جانے کا فیصلہ کیا۔ اس مسابقتی عمل میں، تمام ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے پاس بولی کے عمل میں حصہ لینے کے لیے ایک برابر کا میدان ہوگا۔اس فیصلے کا کوئی سیاسی یا سفارتی پس منظر نہیں ہے ۔ہوائی اڈے کی آؤٹ سورسنگ کے لیے متعین کردہ مسابقتی عمل شمولیت کو ترجیح دے گا ۔قابل قدر شراکت دار ممالک اور اس سے باہر مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یکساں مواقع فراہم کرے گا۔
روس کا یوکرین کے توانائی کے نظام پر بڑا حملہ، شدید سردی میں لاکھوں صارفین بجلی سے محروم
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے
پڑھیں:
مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہونےوالی مون سون کی بارش نے جل تھل ایک کردیا۔لاہور میں مون سون کا سپیل زور شور سے جاری ہے اورعلی الصبح سے ہونے والی موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔واسا لاہور کی جانب سے اب تک ہونے والی بارش کا ریکارڈ جاری کردیاگیاہے جس کے مطابق جیل روڈمیں 28.5، ایئرپورٹ میں 263، ہیڈ آفس گلبرگ میں 52، لکشمی چوک میں 25، اپر مال کے علاقے میں 114.4، مغلپورہ میں 129، تاجپورہ میں 155، نشتر ٹاؤن میں 56.4، چوک ناخدا میں 62، پانی والا تالاب میں 27.2، فرخ آباد میں 23.4، گلشن راوی میں 18، اقبال ٹاؤن میں 54.2، سمن آبادمیں 32، جوہر ٹاؤن میں 81، ڈیفنس روڈ میں 45، شادی پورہ میں 132.4 ، سگیاں میں 22.2اور مناواں میں 106 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،سب سے زیادہ 263 ملی میٹر بارش ائیر پورٹ پر ریکارڈ کی گئی ہے ۔لاہور میں ہونےوالی موسلادھار بارش سےسیشن کورٹ میں سینئر قانون دان پیر مسعود چشتی سمیت2 وکلاء کے چیمبر گرگئے،پیر مسعود چشتی کا چیمبر کافی عرصے سے خالی پڑاتھا،چیمبر کی چھت بارش کے پانی کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اورگرگئی،شدید بارش کی وجہ سے ماتحت عدالتوں میں سائلین نہ پہنچ سکے۔ دوسری طرف آئی جی پنجاب نے پولیس کو حادثات اور ناگہانی صورتحال میں امدادی سرگرمیوں میں شرکت کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ پولیس افسران اور اہلکار بارش سے متاثرہ علاقوں میں انتہائی مستعد ہو کر ڈیوٹی انجام دیں،سپروائزری پولیس افسران بارش زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں خود مانیٹر کریں، بارش کے مزید امکانات کے پیش نظر پولیس افسران اور اہلکار الرٹ رہیں،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریسپانڈ کریں۔ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ضلع خیبر کے باڑہ اور جمرود کے علاؤہ وادی تیراہ کے پہاڑوں پر بھی ہونے والی بارش سے موسم خوشگوارہوگیا لیکن ندی نالوں میں طغیانی اور دریائے باڑہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے ،جولائی کے مہینے میں دسمبر جیسے سردی محسوس کی جارہی ہے،پہاڑی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے،ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ ندی نالوں کے قریب جانے پر پابندی کی خلاف ورزی پر دوافرادکو گرفتار بھی کرلیاگیاہے۔