کوٹری کے قریب پیش آنے والے المناک ٹریفک حادثے میں کار اور ڈمپر کے درمیان شدید تصادم کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق ہو گئے۔

پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 3 بچیاں، 2 لڑکے، ایک خاتون اور 2 مرد شامل ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق متاثرہ خاندان حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد انڈس پہاڑی کا رہائشی تھا جو حیدرآباد سے ٹھٹھہ جا رہا تھا کہ راستے میں افسوسناک حادثہ پیش آیا۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ کار مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور اس میں سوار تمام افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کے فوراً بعد کار کی حالت اس قدر خراب تھی کہ لاشوں کو نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت کار کے مختلف حصے توڑ کر لاشیں نکالنے کی کوشش کی، تاہم گاڑی کے اندر پھنسے مسافروں کو نکالنے کے لیے بھاری مشینری کی ضرورت پیش آئی۔

بعد ازاں ریسکیو 1122 کا عملہ مطلوبہ آلات اور مشینری کے ساتھ جائے حادثہ پر پہنچا اور طویل جدوجہد کے بعد کار میں پھنسی لاشوں کو نکال کر قریبی اسپتال منتقل کیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق تمام افراد کی موت تصادم کے باعث شدید چوٹیں لگنے سے ہوئی۔

پولیس نے ڈمپر کو تحویل میں لے کر ڈرائیور کی تلاش شروع کر دی ہے جب کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔ ابتدائی طور پر تیز رفتاری اور لاپروائی کو حادثے کی ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل

پڑھیں:

ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا

سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔

ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔

انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد