چین سے معاہدے کیا تو 100 فیصد ٹیرف لگے گا؛ ٹرمپ کی کینیڈا کو دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو دھمکی دیتے دہوئے کہا ہے کہ اگر کینیڈا نے چین سے تجارتی معاہدہ کیا تو کینیڈا سے آنے والی تمام اشیا پر سو فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ ڈیل کینیڈا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ چین کینیڈا کو زندہ نگل جائے گا اور اس کی تجارت، سماجی ڈھانچے اور مجموعی طرز زندگی کو بھی تباہ کردے گا۔یہ بات انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہی۔
صدر ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ چین کینیڈا کو استعمال کر کے امریکی ٹیرف سے بچنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اگر ’گورنر کارنی‘ (کینیڈین وزیرِاعظم) یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کینیڈا کو چین کے لیے ایک ’ڈراپ آف پورٹ‘ بنا سکتے ہیں، جہاں سے چینی مصنوعات امریکا بھیجی جائیں، تو وہ سخت غلط فہمی کا شکار ہیں۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر کینیڈا نے چین سے معاہدہ کیا تو امریکا میں داخل ہونے والی تمام کینیڈین مصنوعات پر فوری طور پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کینیڈا کے خلاف سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ وہ گرین لینڈ کے اوپر مجوزہ امریکی میزائل دفاعی منصوبے ’گولڈن ڈوم‘ کی مخالفت کر کے شمالی امریکا کی سلامتی کو کمزور کر رہا ہے، جبکہ اس کے برعکس چین کے ساتھ قریبی اقتصادی تعلقات کو ترجیح دے رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کینیڈا کو
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔