این ایف سی میں گلگت بلتستان کا حصہ نون لیگ کی اولین ترجیح ہے، فاروق میر
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
نون لیگ گلگت بلتستان کے سیکرٹری اطلاعات نے ایک بیان میں کہا کہ اس قومی نوعیت کے مطالبے پر گلگت بلتستان میں تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت نے بارہا رابطوں کے باوجود نظر انداز کیا، جو انتہائی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات فاروق میر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ این ایف سی سے گلگت بلتستان کے عوام اور نظام کے لیے فنڈز کے حصے کا حصول مسلم لیگ (ن) کی مرکزی اور صوبائی قیادت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائدین اس مقصد کے لیے مرکزی اور صوبائی سطح پر بھرپور کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں، کیونکہ مالیاتی خودمختاری گلگت بلتستان کے عوام کی ترقی اور خوشحالی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ فاروق میر نے کہا کہ اس قومی نوعیت کے مطالبے پر گلگت بلتستان میں تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت نے بارہا رابطوں کے باوجود نظر انداز کیا، جو انتہائی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا یہ رویہ سندھ حکومت کے بعد گلگت بلتستان میں بھی تنظیمی سطح پر این ایف سی سے گلگت بلتستان کے حصے کے فنڈز کے حصول کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سابق وزیر اعلیٰ اور صدر مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے اس اہم قومی مطالبے کے بیانیے کو آگے بڑھانے کے لیے گلگت بلتستان کے سینئر صحافیوں کے ساتھ طویل نشست کی، جس میں صحافیوں کی تجاویز کی روشنی میں پریس کلب کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس اور پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر کے ساتھ صوبائی سطح پر ملاقات کی تجویز دی گئی۔ فاروق میر کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر اور سیکرٹری اطلاعات کی سطح پر متعدد بار پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت سے رابطہ کیا گیا، تاہم اس اہم قومی سطح کے مطالبے پر نشست کے بجائے دیگر چھوٹے معاملات کو ترجیح دیتے ہوئے سیاسی ہم آہنگی کے لیے اس نشست سے گریز کیا گیا، جو انتہائی حیران کن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) نیشنل فنانس کمیشن سے گلگت بلتستان کے عوام کے لیے فنڈز کے حصول کے حوالے سے پُرامید ہے اور مستقبل میں پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی صوبائی قیادت سے توقع رکھتی ہے کہ وہ اس قومی نوعیت کے مطالبے کو سنجیدگی سے لے گی، گلگت بلتستان میں تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی کی کوششوں کا حصہ بنے گی اور اپنی سندھ اور مرکزی قیادت کو بھی گلگت بلتستان کے عوام کے اس جائز مطالبے پر قائل کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان کے عوام گلگت بلتستان میں کی صوبائی قیادت پیپلز پارٹی فاروق میر کے مطالبے مطالبے پر ہم ا ہنگی انہوں نے مسلم لیگ کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
گلگت: بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ دعا گو ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں کیونکہ خطے اور دنیا میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایران میں ایک اسکول پر میزائل حملے کے نتیجے میں معصوم بچوں کی شہادت افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا بوجھ صرف متاثرہ ممالک ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے عوام اٹھا رہے ہیں، اس لیے امن کی تمام کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک میں کوئی ایسا سیاستدان نہیں جس نے ان کی طرح ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ گلگت بلتستان کی ہر تحصیل تک پہنچے ہیں اور عوام کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔
انہوں نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کا واحد ایسا فلاحی پروگرام ہے جو براہِ راست غریب عوام تک پہنچتا ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کے خلاف کی جانے والی تمام سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانے میں ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کا تاریخی کردار رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو دفاعی اور معاشی دونوں لحاظ سے مضبوط ہونا چاہیے اور ایسی معاشی پالیسی اختیار کی جانی چاہیے جس سے عام آدمی کو فائدہ پہنچے۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو یقین دلایا کہ پیپلز پارٹی مقامی لوگوں کو ان کے وسائل پر حق ملکیت دلانے کے لیے کام کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی منصوبوں میں مقامی آبادی کو حصہ دار بنایا جانا چاہیے تاکہ ترقی کے ثمرات سب سے پہلے مقامی لوگوں تک پہنچ سکیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر عوام نے انتخابات میں ان کی جماعت پر اعتماد کیا تو گلگت بلتستان میں صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔