پنجاب کے صوبائی دارالحکومت میں شیر کے حملے میں 8 سالہ بچہ زخمی
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) پنجاب کے صوبائی دارالحکومت میں شیر کے حملے کا ایک اور واقعہ پیش آ گیا جس میں 8 سالہ بچہ زخمی ہوا ہے۔
پولیس کے مطابق لاہور کے علاقے سبزہ زار میں شیر کے حملے میں 8سالہ بچہ زخمی ہوا، واجد علی کھیلتے ہوئے شیروں کے قریب چلا گیا تھا، واقعہ نامناسب انتظامات اور مالکان کی غفلت کی وجہ سے پیش آیا۔
پولیس نے بتایا کہ بچے کو گنگا رام ہسپتال منتقل کر دیا ہے جبکہ فارم کے ملک عمر اقبال اور علی اقبال کو حراست میں لے لیا گیا۔
ڈی آئی جی آپریشنز کے ترجمان کے مطابق مالکان نے واقعے کو پولیس سے چھپانے کی کوشش کی، زخمی بچے کو ابتدا میں قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کے ساتھ آئے افراد نے ڈاکٹروں کو بتایا کہ بچے کا ہاتھ کسی مشین میں پھنس گیا تھا، تاہم بعد میں طبی عملے نے انکشاف کیا کہ زخم کسی جانور کے حملے کے باعث آئے تھے۔
ڈاکٹروں نے بچے کی جان بچانے کے لیے اس کا بازو کاٹنے کا فیصلہ کیا، آزاد ذرائع سے اطلاع ملنے پر ایس پی اقبال ٹاؤن کی سربراہی میں پولیس ٹیم ہسپتال پہنچی اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں۔
یاد رہے کہ دو دن پہلے بھی شیر کے حملے میں ایک بچی زخمی ہوئی تھی جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 16 شیر پکڑ لیے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شیر کے حملے
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔