ٹی20 ورلڈ کپ، بنگلہ دیش سے متعلق آئی سی سی کے فیصلے پر جیسن گلیسپی نے سوالات اٹھا دیے
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
آئی سی سی کی جانب سے بنگلہ دیش کی جانب سے ٹی20 ورلڈ کپ کے میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست مسترد کرنے اور بنگلہ دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کے فیصلے پر سابق آسٹریلوی کرکٹر جیسن گلیسپی نے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کو ایونٹ سے باہر کرنے کے بعد ٹی20 ورلڈ کپ کا نیا شیڈول جاری
سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر جیسن گلیسپی نے آئی سی سی کے فیصلے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کھل کر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’کیا آئی سی سی کی جانب سے یہ وضاحت دی گئی ہے کہ بنگلہ دیش اپنے میچز بھارت سے باہر کیوں نہیں کھیل سکتا؟‘
انہوں نے ماضی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’چیمپئنز ٹرافی کے دوران بھارت نے پاکستان میں میچز کھیلنے سے انکار کیا تھا، جس پر آئی سی سی نے بھارت کو اپنے میچز پاکستان سے باہر کھیلنے کی اجازت دی تھی‘۔ جیسن گلیسپی کے مطابق ایسی مثال موجود ہونے کے باوجود بنگلہ دیش کو یہی سہولت نہ دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔
Has there been an explanation from the ICC why Bangladesh could not play their games outside of India?
From memory, India refused to play Champions Trophy matches in Pakistan and they were allowed to play those games outside of Pakistan.
Can someone make this make sense?!?! https://t.co/iyV2ul6O7P
— Jason Gillespie (@dizzy259) January 24, 2026
آئی سی سی حکام کے مطابق اس فیصلے کی بنیاد ٹورنامنٹ کے شیڈول، لاجسٹکس اور براڈکاسٹنگ انتظامات کو قرار دیا گیا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ ایک ہی ملک میں میچز رکھنے سے سیکیورٹی اور انتظامی معاملات کو بہتر انداز میں سنبھالا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے آئی سی سی کی جانب سے مختلف ٹیموں کے ساتھ مختلف معیار اپنانا تشویش کا باعث ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی نے چیمپیئنز ٹرافی اور27-2024 تک کے تمام ایونٹس کے لیے ہائبرڈ ماڈل کا اعلان کر دیا
کرکٹ مبصرین کے مطابق یہ معاملہ بنگلہ دیش کے فیصلے سے زیادہ آئی سی سی کی پالیسی اور اس کے اطلاق پر سوال اٹھاتا ہے، اور جیسن گلیسپی کا بیان اسی تضاد کو اجاگر کرتا ہے جس کی واضح وضاحت اب تک سامنے نہیں آ سکی۔
یاد رہے کہ بھارت نے چیمپئنز ٹرافی 2025 کے میچز کھیلنے کے لیے پاکستان آنے سے انکار کیا تھا، جس کے باعث آئی سی سی نے چیمپئنز ٹرافی کے میچز دبئی اور سری لنکا منتقل کیے تھے، جس کے بعد آئی سی سی نے ہائبرڈ ماڈل کے تحت ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے پاکستان کے میچز سری لنکا منتقل کیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آئی سی سی اسکاٹ لینڈ بنگلہ دیش بھارت سری لنکا ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکاٹ لینڈ بنگلہ دیش بھارت سری لنکا ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی جیسن گلیسپی آئی سی سی کی ٹی20 ورلڈ کپ کی جانب سے بنگلہ دیش سری لنکا کے فیصلے کے میچز
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز