استحکام و بقا … ثمرہ شمشاد
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
قانون قدرت ہے جب کوئی شے معرض وجود میں آتی ہے تو ابتدائی طور پر ضعف و ناتوانی اس کا خاصہ ہوتی ہے، لیکن ہر لحظہ پیش رفت کرتا وقت گزرتے لمحات کے ساتھ ہر آن چیزوں کو مضبوطی بخشتا ہے، یہاں تک کہ وہ ماحول کی درشتی اور اتار چڑھاؤ سے نمٹنے کے لیے قوت برداشت پا لیتی ہیں۔ پیڑکا نرم ہوا کے لطیف دباؤ سے جھک کر ٹوٹ جانے والا تنا وقت کے ساتھ تیز و تند طوفان کے تھپیڑوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے کی مضبوطی پا لیتا ہے۔
پروں کو بمشکل کھولنے کی سکت رکھنے والے پرندے بلند سے بلند ترین پروازوں کے اہل ہوجاتے ہیں۔ والدین کے انحصار پر زندہ رہنے والے بچے پہاڑوں کو سرکرنے، زمین کھوجنے اور آسمان چھونے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ گارے مٹی، سیمنٹ بجری سے بنی عمارتیں بھی تعمیری مراحل سے گزرکر موسموں کی تندی سے بے نیاز ہوجاتی ہیں۔ دنیا اس وقت افراتفری اور بے سکونی کا شکار ہے، گو کہ مسلم دنیا تو دہائیوں سے ظلم اور ناانصافیوں کا شکار ہے جس کی دلخراش مثالیں فلسطین اورکشمیر ہیں، لیکن اب قانونی بے اعتدالی کا دائرہ کار غیر مسلم دنیا تک بڑھ چکا ہے۔
عالمی منظر نامے سے نگاہ ہٹا کر وطن عزیز پر غورکیا جائے تو یہاں بھی امن و امان کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ اندرونی معاملات ہوں یا سرحدی صورتحال، معمول کے حالات گویا قصہ پارینہ ہوئے۔ سرحدوں پر پاک افواج بیرونی حملے سے نمٹنے کے لیے ہر دم کمر بستہ ہیں،گھمبیر مسائل ملک کے اندر ہیں، جن کے حل کی امید لیے بچے جوان ہوگئے اور جوان بڑھاپے کو پہنچ گئے، لیکن مسائل جوں کے توں رہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے قیام کے بعد اسے بیک وقت کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جن میں سرفہرست بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح جیسے عظیم، مخلص اور زیرک رہنما سے محرومی تھی۔
بقا کی جنگ کے مرکزی محاذ بھارتی ریشہ دوانیاں، سفارتی مشکلات، ناکافی وسائل اور اندرونی عناصر تھے۔ وقت اپنی مخصوص رفتار سے بہتا رہا، بہتری کی امیدیں پیدا ہونے لگیں کہ خارجی معاملات سدھرنے لگے تھے۔ دنیا کے نقشے پر نہ صرف بحیثیت ملک ابھرے بلکہ کئی میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا بھی منوایا۔ ملک کے اندر ادارے قائم ہوئے، نظام و نسق منظم ہوا اور انفرا اسٹرکچر کو بہ نسبت ماضی، جدت بخشی گئی، لیکن ان سب کے دوران خاموشی سے رونما ہونے والا سانحہ یہ تھا کہ روشن مستقبل کے خواب دیکھنے والی عوام مایوس ہوتے گئے۔ بھارت سے آنے والی پہلی نسل نے حب الوطنی کے تقاضوں پر پورا اترتے حوصلے بلند رکھے اور دیس کے کڑے وقت میں حرف شکایت لبوں پہ نہ آنے دیا۔
دوسری، تیسری نسل دلجمعی سے تعمیر و ترقی کے لیے کوشاں رہی لیکن عام آدمی کے طرز زندگی میں خاطر خواہ بہتری نہ آ سکی۔ المختصر اسلامی جمہوریہ پاکستان تشکیل کے مراحل سے نکل کر استحکام کی راہ پرگامزن نہ ہو سکا۔ ستم بالائے ستم کہ ایک تہائی صدی گزارنے کے بعد بھی اپنی غلطیوں کے ازالے کے لیے کام کرنا تو درکنار ہم اپنی ناکامیوں کے اسباب بھی نہ ڈھونڈ سکے۔ گزشتہ نسلوں کی ناکامیوں کا اثر ان کی اپنی زندگیوں سے زیادہ موجودہ نسل پر دکھائی دے رہا ہے۔
پہلے لوگوں نے اچھا وقت دیکھنے کی امید پر کام کیا لیکن آج کے بچوں کے پاس اس امید کا فقدان ہے،کیونکہ 78 سال پہلے کے مسائل کی آج بھی موجودگی یہ کہتی ہیں کہ یہاں کچھ بدلنے والا نہیں۔ نتیجتاً نوجوانوں پر مایوسی کا غلبہ ہے جب کہ مایوسی اس وقت ان تمام دشمنوں کے وار سے بڑھ کر مہلک ثابت ہو سکتی ہیں جو اول روز سے اس پاک سرزمین کا نام ونشان مٹانا چاہتے ہیں۔ مایوسی یا فرار مستقل حل نہیں۔ دنیا میں اس وقت جس قدر بے یقینی کی صورتحال ہے اور منظر نامے جس تیزی سے بدل رہے ہیں، عین ممکن ہے اپنا ملک چھوڑ کر آپ جہاں جائیں وہ سراب کے سوا کچھ نہ ہو۔
کیا پرائی زمین پر آشیانے سجانے سے بہتر اپنے وطن میں قدم جمانا نہیں؟ وقت گزرنے کے ساتھ جڑیں مضبوط ہونے والے اصول فطرت کے برعکس عمل وقوع پذیر ہونا نظام میں اصول قدرت کی خلاف ورزی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ہمت ہارنے کے بجائے یہ وقت اپنے نظام میں قواعد و ضوابط کی روگردانیوں کی نشاندہی کرتے درست سمت میں توانائیاں صرف کرنے کا ہے۔ یقیناً یہ راہ طویل اور کٹھن ہوگی لیکن جو سرزمین ہمیں ہمارے آباؤ اجداد کی زندگیوں کے عوض ملی، اسے مستحکم کرنے کے لیے ہمیں مشکلوں سے گزرنے کا عزم و حوصلہ رکھنا چاہیے۔
اس ضمن میں قائد اعظم کے فرمودات آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی پہلی سالگرہ کے موقع پر نوجوانوں کو ان کی ذمے داریوں کا احساس دلاتے ہوئے کہا ’’ آپ کی ریاست کی بنیادیں مضبوطی سے رکھ دی گئی ہیں۔ اب یہ آپ کا کام ہے کہ نہ صرف اِس کی تعمیر کریں بلکہ جلد از جلد اور عمدہ سے عمدہ تعمیر کریں۔ سو آگے بڑھیے اور بڑھتے ہی جائیں۔‘
‘اسی طرح 26 مارچ 1948 کو ڈھاکہ یونیورسٹی میں خطاب کے دوران نوجوانانِ پاکستان سے اپنی توقعات کا اظہارکیا۔ ’’ میرے نوجوانوں ! میں تمہاری طرف اس توقع سے دیکھتا ہوں کہ تم اس ملک کے حقیقی پاسبان اور معمار ہو۔‘‘ اس قابل تعظیم راہ کی کٹھنائیوں سے آگاہ کرتے ہوئے مزید کہا۔ ’’ آزادی حاصل کرنے کے لیے جنگجویانہ جذبات اور جوش و خروش کا مظاہرہ آسان ہے اور ملک و ملت کی تعمیر کہیں زیادہ مشکل۔‘‘ لٰہذا بالادست طبقے کو قائد اعظم کے یہ الفاظ ذہن نشین کرنے کی ازحد ضرورت ہے۔’’ آزادی کا مطلب بے لگام ہوجانا نہیں ہے۔ آزادی کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ دوسرے لوگوں اور مملکت کے مفادات کو نظر انداز کر کے آپ جو چاہیں کر گزریں۔ آپ پر بہت بڑی ذمے داری عائد ہوتی ہے اور پہلے سے زیادہ۔‘‘
عوام پاکستان کو چاہیے اپنی غلطیاں سدھاریں اورکسی کو خود کے ساتھ غلط مت کرنے دیں۔ مشکلوں سے گزرنے کے لیے تیار رہیں مگر جو حقدار نہیں، انھیں اپنے حصے کی آسانیوں پر قابض مت ہونے دیں۔ بیرونی عناصر کے ساتھ ساتھ اگر ہمارے ملک کی بدحالی میں کردار ہم وطن نما دشمنوں کا ہے تو ان سے بھی بیرونی دشمنوں کی طرح نمٹیں لیکن اس مقدس سرزمین کو گدھوں کے حوالے نہ کریں۔ بقول کلیم عثمانی ؎
یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
یہ وطن تمہارا ہے …
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
مجھے خوب یاد ہے کہ راقم نے سب سے پہلے اُن کی تحریر امریکا کے مشہور جریدے ’’نیویارکر‘‘ میں پڑھی تھی۔اِس تحریر کی معرفت میرا اُن سے پہلا تعارف ہُوا۔ یوں میں اُن کی تحریروں کا گرویدہ ہوتا چلا گیا ۔ وہ ہمیشہ مفصل لکھتی ہیں اور اپنا نکتہ نظر کھل کر اور بے دھڑک بیان کرتی ہیں ۔ اُنھی ایام میں گجرات میں ہندو دہشت گردوں اور بدمعاشوں نے دل کھول کر مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی تھی ۔
اِسی خونریزی میں مشہور گجراتی مسلمان سیاستدان و رکن پارلیمنٹ (احسان جعفری) کا خون بھی کر دیا گیا تھا۔اِسی نسل کشی اور مسلمانوں کی بے دریغ خونریزی پر مذکورہ مصنفہ نے ایسا انکشاف خیز آرٹیکل لکھا تھا کہ بھارتی حکومت اور گجرات کی ریاستی سرکار( جس کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی تھے) تھرّا اُٹھے تھے۔ راقم اُن دنوں امریکا میں مقیم تھا اور وہاں سے بھارتی جرائد و اخبارات حاصل کرنا سہل تھا ۔ نیویارک کے معروف علاقے ’’ جیکسن ہائٹس‘‘ میں ایک ہندو کی خاصی بڑی دکان تھی ۔ وہیں سے مَیں بھارتی جریدے خریدا کرتا تھا ۔ مثال کے طور پر: انڈیا ٹوڈے،آؤٹ لک ، فرنٹ لائن وغیرہ ۔اِن تینوں جرائد میں میری پسندیدہ لکھاری کی تحریریں باقاعدہ اور بکثرت شائع ہوتی تھیں ۔
میری اِس محبوب لکھاری کی تحریروں نے مجھے اتنا مسمرائز کررکھا تھا کہ اُن کا عالمی شہرت یافتہ پہلا ناول The God of Small Thingsسامنے آیا تو پہلی ہی فرصت میں نیویارک کی سب سے بڑی کتابوں کی دکان Barnes and Nobleسے خریدا اور ٹرین میں آتے جاتے اِسے پڑھا ۔ ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگز‘‘ ناول کی کہانی بھارتی صوبے ، کیرالہ، سے شروع ہوتی ہے ۔
اِس کہانی میں کیرالہ کے ایک قصبے میں رہائش پذیر ایک غریب خاندان کی دل شکستہ داستان بیان کی گئی ہے ۔ ناول میں کیرالہ کے ذات پات کے بندھنوں میں جکڑے خاندانوں اور اُن کی المناک کہانیوں کو الفاظ کی شکل میں فلم بنا کر دکھایا گیا ہے۔یہ ناول اشکبار اور افسردہ کر دینے والا ہے ۔ ناولسٹ کو اِس کی بے پناہ مقبولیت کی بِنا پر معروفِ عالم ادبی انعام ’’ بکر پرائز‘‘ سے بھی نوازا گیا ۔ یوں ناول نگار کو عالمی شہرت بھی مل گئی ۔
میری اِس محبوب بھارتی رائٹر کا نام ارُن دھتی رائے ہے ۔ اُن کی کئی عالمی شہرت یافتہ تحریروں کو اُردو میں ترجمہ کرکے کراچی کے سہ ماہی جریدے ’’آج‘‘ کے ذہین و فطین مدیر،اجمل کمال، شائع کر چکے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ اجمل کمال صاحب اپنے نام کی مانند باکمال مترجم بھی ہیں ۔ ارُن دھتی رائے کی شخصیت اور تحریریں خاصی سرکش ، مزاحمتی اور ریاست مخالف ہوتی ہیں۔
ہر بھارتی حکومت اِسی لیے انھیں ناپسندیدہ قرار دیتی ہے ۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کئی معروف بھارتی سیاستدان ( از قسم بی جے پی) متعدد بار ارُن دھتی رائے کو ’’غدارِ وطن‘‘ قرار دے چکے ہیں ۔ لیکن یہ درویش صفت خاتون دانشور اور مصنفہ ہر قسم کی سرکاری و غیر سرکاری مخالفتوں کے باوصف اپنے طے شدہ موقف سے ہٹتی ہیں نہ کوئی مخالف انھیں ہٹا سکا ہے ۔ ارُن دھتی رائے کی تحریروں میں جس طرح مظلوم بھارتی مسلمانوں اور زیر استبداد مقبوضہ کشمیریوں کی غیر مبہم حمائت کی جاتی ہے، اِن کی بنیاد پر اُن کے خلاف غداری کے کئی مقدمات بھی دائر ہو چکے ہیں ۔ مگر یہ سرکش مصنفہ کسی کے غچے اور غرّے میں آنے والی نہیں ہیں ۔
بھارتی مسلمانوں اور مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی پاسداری کا اِس محترم و عظیم خاتون نے جس عزیمت سے پرچم اُٹھا رکھا ہے، ہم پاکستانیوں کو شائد اِس لیے بھی ارُن دھتی رائے پسند ہیں ۔ بھارت میں خبثِ باطن کے حامل کئی افراد نے انھیں ’’پاکستان کی ایجنٹ‘‘ بھی قرار دے رکھا ہے ۔ حیرت ہے کہ ماضی قریب میں پاکستان کی بھی ایک ’’ارُن دھتی رائے‘‘ ہُوا کرتی تھیں : وہ باقاعدہ لکھاری تو نہیں تھیں مگر ایک معروف وکیل اور انسانی حقوق کی محافظ ہونے کے ناتے وہ ہر مستبد پاکستانی حکمران کی سخت ناقد رہا کرتی تھیں ۔ اُن کے ہر بیان اور اقدام کی اساس پر اُن کے نظریاتی و سیاسی و سماجی مخالفین انھیں ’’بھارت کی ایجنٹ‘‘ کے لقب سے یاد بھی کرتے تھے ۔
اگست2002کے سلگتے ایام میں ارُن دھتی رائے پاکستان تشریف لائیں تو ہم نے انھیں حیرت انگیز نظروں سے لاہور کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں خطاب کرتے دیکھا اور سُنا ۔ اُن کی سادہ شخصیت اور نہایت سادہ لباس اور بھی دَم بخود کر دینے والا تھا ۔ ایک نئی نئی سیاسی جماعت بنانے والے پاکستانی سیاستدان ( جو اَب مرحوم ہو چکے ہیں) اور ایک معروف صحافی (جو اَب مشہور ٹی وی اینکر ہیں) کی دعوتِ خاص پر ارُن دھتی رائے پاکستان آئی تھیں ۔ اور اب اِنہی ارُن دھتی رائے کی نئی کتابMother Mary Comes to Me شائع ہو کر سامنے آئی ہے تو ہم نے اِسے شوق، تجسس اور مسرت سے دیکھا اور پڑھا ہے ۔
اس کتاب میں مصنفہ کی سچائی ، سچ سے محبت، سماجی روایات سے بغاوت اور سرکشی اپنے عروج پر ہے ۔ جس نے بھی اِس کتاب کو پڑھا ہے،سناٹے میں آ گیا ہے کہ آیا کوئی مصنفہ بیٹی ہونے کے ناتے اپنے خاندان اور خاص طور پر اپنی والدہ بارے اتنے کڑوے سچ بھی بول اور لکھ سکتی ہے؟
یہ تازہ کتاب(Mother Mary Comes to Me) ارُن دھتی رائے نے دراصل اپنی آنجہانی والدہ (Mary) بارے لکھی ہے ۔ یہ درحقیقت والدہ بارے تلخ یادداشتیں اور سوانح ہیں ، مگر بین السطور یہ ارُن دھتی رائے کی سوانح حیات بھی ہے ۔ مصنفہ کے سیاسی و سماجی بھارتی ناقدین(خصوصی طور پر دائیں بازو کے بھارتی سیاستدان)کا کہنا ہے کہ ’’جو رائٹراپنی والدہ بارے یہ سخت الفاظ لکھ سکتی ہے ، اُس کے لیے غداری کا لفظ بھی کم ہے ۔‘‘زیر نظر کتاب میں مصنفہ نے اپنی والدہ کے ساتھ پیچیدہ ، ،مشکل اور جذباتی تعلقات کی داستان بیان کی ہے۔ ارُن دھتی رائے کے بچپن اور والدہ سے تعلقات کی یادداشتوں اور مضبوط حافظے کی داد دینا پڑتی ہے ۔ اُن کی والدہ ایک سخت گیر اور ڈسپلن کی پابند ماہر تعلیم تھیں ۔
اُنھوں نے کیرالہ میں جدید اسکول کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں بڑی شہرت کا حامل بنا ۔ Maryاِس اسکول کی ہیڈ مسٹرس بھی رہیں ۔ وہ ایک آزاد روش کی حامل ، باغی اور انقلابی ذہن کی حامل استاد اور سوشل ایکٹوسٹ بھی تھیں ۔ اُنھوں نے بھارتی سپریم کورٹ میں شامی مسیحی بچیوں کا مقدمہ بہادری سے جیتا اور تاریخ رقم کر گئیں ۔ سماج سے بغاوت اور آزادی سے جینے اور لکھنے کی خواہش کے عناصر ارُن دھتی رائے کو اپنی والدہ سے وراثت میں ملے ۔ حکومت ، سیاست اور سماج مخالف آزادانہ تحریروں کے باعث انھیں ’’اینٹی انڈیا‘‘ بھی کہا گیا ۔ بھارت سرکار کی جانب سے ایک بڑا ڈیم ( نرمدا ویلی ڈیم پراجیکٹ) بنانے کے چکر میں لاکھوں کی مقامی آبادی کو جس وحشت سے اکھیڑا گیا، اُرن دھتی رائے نے بھارت بھر میں اِن غریبوں کا مقدمہ لڑا اور بالآخر اُن کے حقوق دلوا ہی دیئے ۔
ارُن دھتی رائے نے جرأتمندی سے طاقتوروں سے سوال پوچھنے اور اُن کے سامنے ڈَٹ جانے کا سلیقہ اپنی والدہ سے سیکھا ۔ شائد اِسی بِنا پر مصنفہ نے اپنی اِس کتاب میں اپنی والدہ کو اپنی Gangster، Shelterاور My Stormبھی قرار دیا ہے ۔ اگر زیر نظر کتاب کے خلاصے کو دو چار الفاظ میں کوزے میں بند کیا جائے تو کہا جائے گا کہ ارُن دھتی رائے کے قلم سے یہUncompromising Memoirsکی بازگشت ہے ۔ اُنھوں نے اپنی ڈسپلن پسند والدہ بارے لکھا ہے کہ وہ اپنے دونوں بچوں سے سفاکی کی حد تک منظم زندگی ، مگر آزادانہ زندگی گزارنے کی طلبگار تھیں ۔
وہ لکھتی ہیں :’’ اور جب میری تحریروں کے باعث مجھے بھارت اور بھارت سے باہر شہرت ملنے لگی تو میری والدہ مجھ سے حسد کرنے لگی تھیں َ‘‘۔ارُن دھتی رائے بھارت اور دُنیا بھر میں اقلیتوں کے حقوق کی جس طرح علمبردار ہیں، اِسی طرح وہ دُنیا کے کسی بھی ملک کو جوہری ہتھیار رکھنے کی حامی نہیں ہیں ۔اُن کے یہ الفاظ اُن کی آزاد منش طبیعت اور باغیانہ روش کے مظہر کہے جاتے ہیں:’’ مجھے کہنے ، لکھنے اور بولنے کی مطلق آزادی چاہیے ۔ اِس کے لیے مجھے کسی خاص ملک کے قومی پرچم کی چھاؤں کی ضرورت نہیں ہے ۔ کسی بھی ملک کا قومی پرچم دراصل کپڑے کو وہ ٹکڑا ہے جو انسانوں کے دماغوں کو محدود بھی کرتا ہے اور اِنہیں سکیڑ کر رکھ دیتا ہے ۔‘‘