ایڈووکیٹ شمسا کیانی کا ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر تشدد اور گرفتار پر خصوصی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
اپنی خصوصی گفتگو میں شمسا کیانی کا کہنا تھا کہ ریاست ظلم پر اتر آئی ہے، فقط ٹویٹ کرنے کے الزام میں بےبنیاد کیسز بنانا اور سزا دینا زیادتی ہے، جس انداز میں گرفتار کیا گیا، وہ قابل مذمت ہے، وکلا تنظیموں کو ذاتی ایجنڈے سے باہر آنا پڑے گا۔ متعلقہ فائیلیںایڈووکیٹ شمسا کیانی تحریکِ انصاف کے لائرز ونگ کی رکن ہیں۔ جب ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کرکے تھانے لایا گیا تو شمسا کیانی بھی ان کے ساتھ تھیں۔ شمسا کا ماننا ہے کہ وکلا تنظیموں کی تقسیم کی وجہ سے آج ان دو معزز ممبران کو جیل جانا پڑا، ہمیں اپنے اختلافات بھلا کر آئین کی بحالی کے لیے متحد ہونا پڑے گا۔ سینیئر صحافی نادر بلوچ کے ساتھ ان کی ہونے والی گفتگو ملاحظہ فرمائیں۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شمسا کیانی
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔