ایران پر ممکنہ حملہ، مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج تعینات، تہران میں ہائی الرٹ
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
اسرائیلی فوجی ریڈیو نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی تعداد اس ہفتے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے جوگزشتہ برس جون میں ایران کیخلاف کارروائی کے بعد سب سے زیادہ ہے جبکہ امریکی فوج کی مشرق وسطیٰ میں آئرن کلاد تعیناتی،812 ٹوماہاک میزائل فوری استعمال کے لیے تیار ہیں،یہ پیشرفت امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ بریڈ کوپر کے تل ابیب دورے کے دوران سامنے آئی۔
عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے تصدیق کی کہ دفاعی حلقے امریکی فوج کی اس تعیناتی کو ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے ممکنہ وسیع حملے اور دبائو ڈالنے کے لیے ایک مضبوط فوجی دھمکی کے طور پردیکھ رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کے ساتھ مسلسل رابطے کے باوجود ایران کے معاملے پر فی الحال کوئی آپریشنل ہم آہنگی موجود نہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حتمی فیصلے تک صورتحال غیر واضح ہے۔
دریں اثناء امریکا نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا، یہ بات امریکا کی تازہ ترین نیشنل ڈیفنس اسٹریٹیجی میں کہی گئی ہے۔
دستاویز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بارہا اس موقف کا اظہار کر چکے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی،نیشنل ڈیفنس اسٹریٹیجی میں کہا گیا ہے کہ ایران کی قیادت نے اس امکان کو رد نہیں کیا کہ وہ دوبارہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہے،واشنگٹن ایران کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
اس حوالے سے رائٹرز سے گفتگو میں ایک ایرانی عہدے دار نے امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا کہ ایران ہائی الرٹ پر ہے اور بدترین صورتحال کے لیے تیار ہے،انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی حملے کو ہمہ گیر جنگ تصور کیا جائے گا،محدود یا سرجیکل حملہ بھی ہوا تو سخت ترین جواب دینگے۔
مزید پڑھیںامریکا اسرائیل خبردار؛، فوج کی نگاہیں ہدف اور انگلی ٹرگر پر ہے؛ ایرانی چیف کمانڈر
قبل ازیں امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان مینیون ہیوسٹن نے واضح کیا کہ ایران کیخلاف کسی بھی فوجی کارروائی کا فیصلہ صرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیار میں ہے،صدر ٹرمپ ایرانی عوام کی حالت زار اور احتجاج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے مظاہرین کو سزائے موت دینے کا سلسلہ بند نہ ہوا، تو امریکا فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے درمیان، نئی رپورٹس سے امریکی سنٹرل کمانڈ کی موجودگی کے خوفناک حجم کا انکشاف ہوا ہے۔
اسرائیلی ویب سائٹ جے فیڈ کے مطابق امریکا نے خطے میں ایک مضبوط آئرن کلاد فورس تعینات کی ہے، جس کا مقصد کسی بھی بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی بحریہ کے پاس مشرق وسطیٰ میں ٹوماہاک میزائلوں سے لیس ایک طاقتور نظام موجود ہے،امریکی وزارتِ دفاع کے ادارے پینٹاگون نے خبردار کیا ہے کہ ایران نہ صرف روایتی فوجی صلاحیت کی تعمیر نو کی کوشش کر سکتا ہے بلکہ اس بات کا بھی امکان ہے کہ کسی بھی بامعنی مذاکرات کی عدم موجودگی میں وہ ایک بار پھر جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔
پینٹاگون کی نئی رپورٹ میں ایران کو اسرائیل کے وجود کے لیے خطرہ بتایا گیا ہے،دوسری جانب کئی ایئر لائنز نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے لیے پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی امریکی فوج ایران کی کے مطابق کہ ایران کسی بھی فوج کی کے لیے کیا کہ
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔