data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260125-03-5
غزہ ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی سفارتی تجربہ گاہ بنتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں امن کے نام پر ایسے فیصلے مسلط کیے جا رہے ہیں جن میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی قوم یعنی فلسطینیوں کی آواز ہی غائب ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے لیے قائم کیے گئے نام نہاد ’’بورڈ آف پیس‘‘ نے اسی تلخ حقیقت کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے کہ عالمی طاقتیں مشرقِ وسطیٰ میں امن نہیں بلکہ اپنے مفادات کا نقشہ ازسرِنو ترتیب دینا چاہتی ہیں۔ اس بورڈ کی تشکیل بظاہر غزہ کی تعمیر ِ نو، عبوری حکمرانی اور سیکورٹی کے استحکام کے لیے کی گئی ہے، مگر اس کے خدوخال، نامزد شخصیات اور فیصلہ سازی کا انداز اس منصوبے کو پہلے ہی متنازع بنا چکا ہے۔ سب سے نمایاں اور چونکا دینے والا پہلو یہ ہے کہ اس بورڈ میں فلسطینی عوام یا ان کی کسی مستند نمائندہ قیادت کو شامل کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی گئی۔ یہ امر بذاتِ خود اس منصوبے کی نیت اور سمت پر سوالیہ نشان ہے۔ ایک ایسے خطے کے مستقبل کا فیصلہ، جس نے دہائیوں تک قبضے، محاصرے، بمباری اور اجتماعی سزا کا سامنا کیا ہو، وہاں کے اصل وارثوں کے بغیر کرنا کسی بھی اخلاقی، سیاسی یا قانونی اصول سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ناقدین بجا طور پر اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ دراصل امن کا نہیں بلکہ کنٹرول کا ایک نیا فریم ورک ہے، جس کے ذریعے غزہ کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر بیرونی قوتوں کے زیر ِ اثر رکھا جائے گا۔

بورڈ میں شامل کی گئی شخصیات خود اپنی جگہ گہرے سوالات کو جنم دیتی ہیں۔ ٹونی بلیئر، جن کا نام عراق جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں مغربی مداخلت کی علامت سمجھا جاتا ہے، کی نامزدگی فلسطینیوں کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں۔ اسی طرح امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، عالمی مالیاتی اداروں سے وابستہ ارب پتی شخصیات اور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے نمائندے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس بورڈ کا جھکاؤ انسانی ہمدردی سے زیادہ سیاسی انجینئرنگ اور معاشی کنٹرول کی طرف ہے۔ امن اگر واقعی مقصد ہوتا تو سب سے پہلے فلسطینی سیاسی دھڑوں، سول سوسائٹی، ماہرین تعلیم اور مقامی قیادت کو اس عمل کا حصہ بنایا جاتا۔ امریکا کی جانب سے غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام اور ایک امریکی میجر جنرل کو اس کا کمانڈر مقرر کرنا بھی اس منصوبے کی عسکری نوعیت کو عیاں کرتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس خطے نے طویل عرصے تک فوجی قبضے اور سیکورٹی آپریشنز کا سامنا کیا ہو، وہاں مزید سیکورٹی فورسز امن کیسے لا سکتی ہیں؟ تاریخ شاہد ہے کہ غزہ میں تشدد کی بنیادی وجہ سیکورٹی کی کمی نہیں بلکہ سیاسی ناانصافی، قبضہ، محاصرہ اور خود ارادیت سے انکار ہے۔ ان بنیادی مسائل کو حل کیے بغیر کسی بھی ’’استحکام فورس‘‘ کا قیام محض ایک اور طاقت کا مظاہرہ ہوگا۔

اسرائیل کی جانب سے فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل کمیٹی پر اعتراض بھی اس پوری صورتحال کی پیچیدگی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ ایک طرف اسرائیل فلسطینی خود انتظامی ڈھانچے کو مسترد کرتا ہے، دوسری طرف امریکا ایک ایسا بورڈ قائم کر رہا ہے جو بظاہر غزہ کی مقامی انتظامیہ کے اوپر نگران ادارے کے طور پر کام کرے گا۔ اس تضاد سے واضح ہوتا ہے کہ غزہ کے مستقبل کے حوالے سے کوئی شفاف اور متفقہ وژن موجود نہیں، بلکہ ہر فریق اپنی شرائط مسلط کرنے کی کوشش میں ہے۔ فلسطینی مزاحمتی گروہوں کی جانب سے اس بورڈ پر تنقید اس امر کی غماز ہے کہ زمینی حقائق اور عوامی جذبات کو نظر انداز کر کے کوئی بھی عبوری نظام پائیدار ثابت نہیں ہو سکتا۔ اگر غزہ کے عوام اس نظام کو اپنے خلاف ایک نئے سازشی فریم ورک کے طور پر دیکھیں گے تو اس کی ساکھ ابتدا ہی سے مشکوک ہو جائے گی۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب امدادی بحران، تباہ شدہ انفرا اسٹرکچر، بے گھر آبادی اور مسلسل اسرائیلی کارروائیاں غزہ کی روزمرہ حقیقت بنی ہوئی ہیں، وہاں بیرونی منصوبہ سازوں کے وعدے کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ دعویٰ کہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ امریکی سرپرستی میں امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھائے گا، درحقیقت ایک ایسے امن تصور کی عکاسی کرتا ہے جو طاقت کے توازن اور اسٹرٹیجک مفادات پر مبنی ہے، نہ کہ انصاف اور مساوات پر۔ امن وہ نہیں جو بندوقوں کے سائے میں نافذ کیا جائے، بلکہ وہ ہے جو عوام کی مرضی، عزتِ نفس اور بنیادی حقوق کے اعتراف سے جنم لیتا ہے۔ فلسطینیوں کو غیر مسلح کرنے، مزاحمت کو کچلنے اور اقتصادی مراعات کے ذریعے خاموش کرانے کی سوچ تاریخ میں بارہا ناکام ہو چکی ہے۔

آخرکار سوال یہی ہے کہ کیا غزہ کے لیے بنایا گیا یہ ’’امن بورڈ‘‘ واقعی امن لا سکے گا یا یہ بھی ماضی کے بے شمار منصوبوں کی طرح ایک اور ناکام تجربہ ثابت ہوگا؟ جب تک فلسطینیوں کو اپنے مستقبل کے فیصلوں میں مرکزی حیثیت نہیں دی جاتی، جب تک قبضے اور محاصرے کا خاتمہ نہیں ہوتا، اور جب تک انصاف کو امن کی بنیاد نہیں بنایا جاتا، تب تک کسی بھی بورڈ، فورس یا فریم ورک سے پائیدار استحکام کی امید رکھنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ غزہ کو امن کی نہیں، انصاف کی ضرورت ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جسے عالمی طاقتیں مسلسل نظر انداز کرتی آ رہی ہیں۔

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بورڈ ا ف پیس کی جانب سے غزہ کے کے لیے

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف