سہیل خان سے علیحدگی پر سیما سجدیہہ کا پہلی بار کھلا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
اداکارہ سیما سجدیہہ نے کئی برسوں بعد اپنے سابق شوہر سہیل خان سے علیحدگی کی اصل وجوہات پر پہلی بار کھل کر بات کی اور بتایا کہ طلاق کے بعد ان کی زندگی کس طرح بدل گئی۔
سیما اور سہیل خان نے 1998 میں شادی کی تھی اور 2022 میں اپنی راہیں جدا کر لیں۔ ان کے دو بیٹے ہیں، نیروان اور یوہان، جن کی پرورش دونوں والدین مل کر کر رہے ہیں۔
ایک انٹرویو میں سیما نے ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں شادی کے وقت بہت کم عمر تھے اور زندگی کے بدلتے مراحل اور ذمہ داریوں کو مکمل طور پر سمجھ نہیں پائے تھے۔ انہوں نے بتایا:
جب ہماری شادی ہوئی تو میں صرف 22 سال کی تھی۔ وقت کے ساتھ ہم مختلف سمتوں میں بڑھتے گئے اور ہمارے خیالات بدل گئے۔ آخرکار ہمیں احساس ہوا کہ ہم میاں بیوی کے بجائے بہتر دوست ہیں۔”
سیما نے وضاحت کی کہ علیحدگی کا فیصلہ جلد بازی میں نہیں بلکہ سوچ بچار کے بعد کیا گیا۔ انہوں نے کہا:ناخوشگوار ساتھ سے زیادہ اہم گھر کا سکون ہے۔ روزانہ کی لڑائی سے بہتر تھا کہ ہم الگ ہو جائیں۔ ہم گھر کا ماحول خراب نہیں کرنا چاہتے تھے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ طلاق کسی بھی عورت کا خواب نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ خود پر مسلط کی جاتی ہے۔ سیما نے بتایا کہ اس دوران وہ ڈپریشن میں چلی گئیں اور یقیناً بچے بھی اس سے متاثر ہوئے ہوں گے۔ علیحدگی تک پہنچنے میں کئی سال لگے، اور خاص طور پر بچوں کے لیے صحیح وقت کا انتظار کیا گیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آخرکار فیصلہ کس نے کیا، تو سیما نے کہا کہ اس میں کسی پر الزام تراشی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
طلاق کے بعد کی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے سیما سجدیہہ نے کہا کہ عملی خودمختاری ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھی۔ انہیں مالی نظم و نسق، انشورنس اور روزمرہ کے معاملات سب کچھ نئے سرے سے سیکھنا پڑا۔
واضح رہے کہ سیما سجدیہہ اس وقت وکرم آہوجا کے ساتھ تعلق میں ہیں، جن سے ان کی منگنی سہیل خان سے شادی سے پہلے ہوئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سیما سجدیہہ سہیل خان کہا کہ
پڑھیں:
بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے اپنی اور صوبائی مشیر خزانہ کی بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی سے بجٹ پر رہنمائی حاصل کرنا ضروری‘ اس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ علیمہ خان کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں مزید دیوار سے لگانے کی کوشش اور ملاقات کا حق نہ دیا گیا تو 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پی کے میں حکومت عمران خان کی ہے، اسے ان کے سوا کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس نہ موثر داخلہ پالیسی ہے اور نہ ہی خارجہ پالیسی۔ آنے والا وفاقی بجٹ عوام پر ایک معاشی ایٹم بم ہوگا۔