متحدہ عرب امارات نے سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
اسلام آباد ائیرپورٹ کی آوٹ سورسنگ کے حوالے سے معاملات آگے نہ بڑھ سکے
اسحاق ڈار کے دورہ یو اے ای کے دوران 3 ارب ڈالر قرض پر بات چیت ،ذرائع
بیرونی سرمایہ کاری میں ریکارڈ کمی کے شکار پاکستان کیلئے بڑا دھچکا، متحدہ عرب امارات نے اسلام آباد ائیرپورٹ میں سرمایہ کاری کے معاملے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ ایکسپریس ٹریبون کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی بیرونی سرمایہ کے حصول کی کوششوں کو اس وقت شدید دھچکا پہنچا ہے جب اسلام آباد ائیرپورٹ کی آوٹ سورسنگ کے حوالے سے متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاملات آگے نہ بڑھ سکے۔بتایا گیا ہے کہ یہ معاملہ کافی عرصے سے تعطل کا شکار تھا۔ حالیہ روابط کے دوران متحدہ عرب امارات کے حکام نے پاکستان کو واضح کر دیا کہ امارات اسلام ائیرپورٹ کو ٹھیکے پر حاصل کرنے میں اب مزید دلچسپی نہیں رکھتا۔ اس پیش رفت کے بعد حکومت پاکستان نے اسلام آباد ائیرپورٹ کی بھی نجکاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔دوسری جانب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے دورہ متحدہ عرب امارات کے دوران 3 ارب ڈالر قرض پر بات چیت جاری ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان اس رقم کو سرمایہ کاری میں تبدیل کرنے کا خواہشمند ہے، یو اے ای کمپنی اتصالات کے ساتھ پاکستان میں سرمایہ کاری پر بھی گفتگو کی گئی۔اماراتی حکام ایک ارب ڈالر کے رول اوور کیلئے پاکستان سے پہلے ہی رابطے میں تھے۔ذرائع کے مطابق یو اے ای ایک ارب ڈالر کے بدلے پاکستانی کمپنی کے کچھ شیٔرز حاصل کرے گا، اس کے بعد ایک ارب ڈالر کی واجب الادا رقم ختم ہو جائے گی۔ باقی دو ارب ڈالر کے رول اوور سے متعلق بھی اماراتی حکام سے بات چیت ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: اسلام ا باد ائیرپورٹ متحدہ عرب امارات سرمایہ کاری ارب ڈالر
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔