آئی ایم ایف کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف، حکومت نے کونسی قابل تعریف معاشی اصلاحات کی ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جورجیوا نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں کی جانے والی معاشی اصلاحات کی کھل کر تعریف کی ہے۔
ڈیووس میں جاری عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وہ وزیراعظم شہباز شریف کی بہت عزت کرتی ہیں اور انہیں ’Man of His Word‘ یعنی وعدے کا پکا آدمی سمجھتی ہیں۔
مزید پڑھیں: ویون گروپ کا پاکستان میں سرمایہ کاری کا اعلان، معاشی اصلاحات پر عالمی اعتماد کا عکاس
ان کے بقول، پاکستان کی حکومت نے مشکل مگر ناگزیر معاشی اصلاحات کو سنجیدگی سے اپنایا ہے، جس کے مثبت نتائج اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ خاص طور پر بجٹ میں نظم و ضبط لانے کی بدولت وسائل کو عوام کی فلاح و بہبود اور زندگیوں کو بہتر بنانے کی طرف موڑا جا رہا ہے۔
کرسٹالینا جورجیوا نے زور دیا کہ پاکستان کی معیشت کو طویل مدتی استحکام اور لچک دینے کے لیے اسی اصلاحاتی رفتار کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
وی نیوز نے جاننے کی کوشش کی ہے کہ اب تک حکومت نے کونسی قابل تعریف معاشی اصلاحات کی ہیں؟
’حکومت اب تک کوئی قابل ذکر اصلاحات کرنے میں ناکام رہی‘معاشی ماہر شہباز رانا کا مؤقف ہے کہ آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جورجیوا کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی حکومت کی معاشی اصلاحات کی تعریف بنیادی طور پر سطحی اور محدود ہے۔ ان کے مطابق اب تک کی حکومت کوئی بھی قابل ذکر یا گہری معاشی اصلاحات متعارف کرانے میں ناکام رہی ہے۔
’ایک اہم کامیابی صرف یہ ہے کہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا گیا، لیکن اس کے علاوہ پاکستان کو ہر چند سال بعد دیوالیہ ہونے کے قریب لے جانے والی تمام بنیادی وجوہات آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ سرکاری اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، بلکہ پچھلے سال تو نقصانات میں 300 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔‘
شہباز رانا کے مطابق ٹیکس کلیکشن کے حوالے سے بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے زیادہ تر موجودہ ٹیکس پیئرز پر ہی انحصار کیا جا رہا ہے، نئے لوگوں کو شامل کرکے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے سمیت اخراجات پر بھی کوئی مؤثر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کی تعریف دراصل چند معاشی اشاریوں کی بہتری پر مبنی ہے، جیسے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، بجٹ خسارہ پہلے سے کچھ کم ہونا، اور ایم پی ٹیکس کلیکشن میں موجودہ ٹیکس پیئرز کی وجہ سے اضافہ۔ تاہم ایف بی آر کے اہداف اکثر پورے نہیں ہو رہے۔
’حقیقی اصلاحات جیسے ٹیکس نظام کی توسیع، اخراجات میں کمی، ساختیاتی مسائل کا حل اور پائیدار معاشی بنیادوں کی مضبوطی، ابھی تک حکومت کی جانب سے نہیں کی گئیں۔ یہ تعریف صرف عارضی استحکام اور کچھ اشاریوں کی بہتری کی عکاسی کرتی ہے نہ کہ حقیقی اور دیرپا تبدیلی کی۔‘
حکومت نے معاشی میدان میں اہم اصلاحت متعارف کرائیں، راجا کامرانمعاشی ماہر راجا کامران کے مطابق موجودہ حکومت نے معاشی میدان میں متعدد اہم اصلاحات متعارف کروائی ہیں، جن کے مثبت اثرات اب واضح طور پر نظر آ رہے ہیں اور ملک کی مجموعی معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
ان کے مطابق انفلیشن کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے جو اب سنگل ڈیجٹ میں داخل ہو چکی ہے اور قریباً 5 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ انفلیشن کے کنٹرول ہونے سے لوگ اب لانگ ٹرم ویو لینے لگے ہیں اور معیشت میں اعتماد بحال ہو رہا ہے۔
’انفلیشن کم ہونے کی ایک بڑی وجہ روپے کی قدر میں استحکام ہے، جو ایکسچینج مارکیٹ میں کی گئی اصلاحات کی بدولت ممکن ہوا۔ خاص طور پر اسمگلنگ اور افغانستان کی طرف ڈالر کے بہاؤ کو روکنے کے اقدامات نے اہم کردار ادا کیا۔‘
راجا کامران کا مزید کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایکسچینج کمپنیوں کے شعبے میں ساختیاتی اصلاحات کیں، جن میں کم از کم پیڈ اپ کیپیٹل کی حد کو 200 ملین روپے سے بڑھا کر 500 ملین روپے کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ کمپنیوں کے سائز بڑھانے، مرجرز کی حوصلہ افزائی اور بڑے بینکوں کو الگ ایکسچینج کمپنیاں قائم کرنے کی ہدایت کی گئی، جن کی کیپیٹل ایک ارب روپے یا اس سے زیادہ ہے۔
’ان اقدامات سے کرنسی مارکیٹ میں شفافیت اور استحکام آیا ہے۔ نتیجتاً روپے کی قدر میں بہتری ہوئی، امپورٹ اور ایکسپورٹ میں بیلنس بہتر ہو رہا ہے، ڈالرائزیشن کا رجحان قریباً ختم ہو گیا ہے، اور مارکیٹ میں ڈالر کے غیر ضروری خریدار کم ہو گئے ہیں۔‘
انہوں نے کہاکہ اس استحکام کی بدولت اسٹیٹ بینک مارکیٹ سے ڈالر خرید کر اپنے ذخائر میں اضافہ کررہا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، جنوری 2026 میں اسٹیٹ بینک کے پاس غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر قریباً 16.
انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ نجکاری کا عمل بھی دوبارہ فعال ہوا ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی پرائیویٹائزیشن دسمبر 2025 میں مکمل ہوئی، جہاں حکومت نے 75 فیصد حصص ایک نجی کنسورشیم (عارف حبیب کی قیادت میں) کو فروخت کیے۔
’یہ پاکستان میں نجکاری کے عمل کی طویل رکاوٹ کے بعد ایک اہم پیشرفت ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے اور معیشت کے بارے میں عوامی اور عالمی تاثر مثبت ہوا ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ حکومت ڈیجیٹلائزیشن پر بھی توجہ دے رہی ہے، خاص طور پر بینکاری اور مالیاتی شعبے میں، جس سے کرنسی کے بہاؤ، پیسے کی نقل و حرکت اور ٹریکنگ میں بہتری آ رہی ہے۔
’سرکاری اداروں میں ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دیا جارہا ہے‘راجا کامران نے کہاکہ سرکاری اداروں میں کیش کے بجائے ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دیا جا رہا ہے، جو شفافیت، کارکردگی اور کرپشن کی روک تھام میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
’ایف بی آر سمیت ٹیکس اداروں کی ساخت میں بھی بہتری لانے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کو بڑھایا جا سکے۔ جب یہ شرح بڑھے گی تو معیشت کی بنیادیں مزید مضبوط ہوں گی اور پائیدار ترقی ممکن ہوگی۔‘
راجا کامران کے خیال میں یہ تمام اقدامات انفلیشن کنٹرول، روپے کی قدر میں استحکام، ذخائر میں اضافہ، نجکاری کی بحالی اور ڈیجیٹلائزیشن مل کر پاکستان کی معیشت کو پائیدار اور خود انحصار بنانے کی طرف لے جا رہے ہیں۔ یہ اصلاحات عارضی نہیں بلکہ ساختیاتی نوعیت کی ہیں، جو طویل مدتی معاشی استحکام اور ترقی کی بنیاد فراہم کر رہی ہیں۔
حکومت نے سنجیدگی سے آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد کیا، عابد سلہریمعاشی ماہر عابد سلہری کے مطابق حکومتِ پاکستان نے اس بار سیاسی مصلحتوں کو ایک طرف رکھ کر آئی ایم ایف پروگرام پر سنجیدگی سے عملدرآمد کیا ہے، جو ملکی معیشت کے استحکام کے لیے ناگزیر تھا۔
انہوں نے کہاکہ پی آئی اے کی نجکاری، گندم اور چینی کے شعبوں کی ڈی ریگولیشن، ٹیکس نیٹ میں توسیع کی کوششیں اور بجلی کی لاگت کی مکمل ریکوری کے ذریعے توانائی کے شعبے میں سرکولر ڈیٹ کو کم کرنے جیسے فیصلے بلاشبہ مشکل تھے، مگر آئی ایم ایف پروگرام کو جاری رکھنے اور معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے یہ اقدامات ضروری تھے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی ایم ڈی آئی ایم ایف سے ملاقات، ادارہ جاتی اصلاحات پر پیشرفت سے آگاہ کیا
’اسی تناظر میں ایم ڈی آئی ایم ایف کی جانب سے حکومتِ پاکستان کی تعریف اس بات کا ثبوت ہے کہ اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد درست سمت میں جا رہا ہے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایم ایف ایم ڈی آئی ایم ایف حکومت پاکستان شہباز شریف معاشی اصلاحات وزیراعظم پاکستان وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف ایم ڈی ا ئی ایم ایف حکومت پاکستان شہباز شریف معاشی اصلاحات وزیراعظم پاکستان وی نیوز وزیراعظم شہباز شریف کی معاشی اصلاحات کی آئی ایم ایف کی ا ئی ایم ایف راجا کامران پاکستان کی کی جانب سے ہو رہا ہے جا رہا ہے کی تعریف کے مطابق نے کہاکہ حکومت نے انہوں نے ہیں اور کے لیے
پڑھیں:
امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔ ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔(جاری ہے)
جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔ قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔ جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔ وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔ تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔ سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔ خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔ دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔ 7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔ آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔