موٹرویز کی تعمیر سے معیشت کو تقویت، روزگار کے مواقع، ترقیاتی سرگرمیوںکو فرو غ ملے گا: سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
پشاور(بیورو رپورٹ)وزیر اعلیٰ خیبرپی کے محمد سہیل آفریدی نے پشاور ڈی آئی خان موٹر وے صوبائی وسائل سے تعمیر کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ محکموں کو تمام تر لوازمات 10 فروری تک مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔ سوات ایکسپریس وے فیز ٹو پر سول ورک 31 جنوری سے شروع کرنے کا بھی فیصلہ کرلیا۔ انہوں نے کہا کہ موٹر ویز کی تعمیر صوبائی حکومت کے سگنیچر منصوبوں میں شامل ہے۔ ان پر ٹائم لائنز کے مطابق پیشرفت یقینی بنائی جائے۔ ان منصوبوں پر عملدرآمد میں کسی قسم کی تاخیر کی گنجائش نہیں۔ ان کی ذاتی طور پر نگرانی کروں گا۔ خیبرپی کے حکومت عوامی مفاد کے منصوبوں کے لیے تمام تر وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرے گی۔ حکومت کسی بھی جماعت کی ہو، عوامی مفاد کا منصوبہ بلاتاخیر مکمل ہونا چاہیے۔ صوبے میں کاروبار، روزگار اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے صوبائی حکومت سڑکوں کا جال بچھا رہی ہے، نئی موٹر ویز کی تعمیر سے مقامی معیشت کو تقویت، روزگار کے نئے مواقع اور ترقیاتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، ریلی سے خطاب میں انہوں نے کہا پر امن احتجاج کر رہے ہیں، ہمارے قائد نے جو تربیت کی ہم اس پر کار بند ہیں،ایک گملا تک نہیں توڑا، پرامن ہیں اور پرامن رہیں گے، آئین ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے اور یہ حق ہم ضرور استعمال کریں گے، ہم ناحق قید اپنے قائدکی رہائی کے لیے سٹریٹ موومنٹ کو 8 فروری تک عروج پر لے کے جائیں گے اور اس وقت اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔