حیدرآباد: ڈمپرا ور کار تصادم میں 4بچوں سمیت 8افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (نمائندہ جسارت)ڈمپر اورکار حادثے میں ہلاک ہونے والے 8افراد کی نماز جنازہ میں امیر جماعت اسلامی حیدرآباد سمیت سیاسی و سماجی رہنماؤںنے شرکت کی۔ تفصیلات کے مطابق انڈس ہائی وے پر کار اور ڈمپر کے درمیان تصادم کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے 8 افراد کو ان کے آ بائی قبرستان حیدرآباد ذیل پاک کالونی کے قریب سپرد خاک کر دیا گیا جب جاں بحق افراد کی میت ان کے گھر پہنچی تو علاقے میں کہرام مچ گیا۔ جاں بحق ہونے والے افراد کی تدفین اور نماز جنازہ میں امیر جماعت اسلامی حیدرآباد حافظ طاہر مجید، نائب امرا عقیل خان،
عبدالقیوم شیخ،صوبائی مشیر بحالی عبدالجبار خان ،ایم پی اے صابر قائم خانی،سنی تحریک کے عمران سہروردی سمیت دیگر نے شرکت کی۔ گزشتہ رات حیدرآباد سے ٹھٹھہ جاتے ہوئے کوٹری بھولاری گندم کے گودام کے قریب ڈمپر اور کار کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جن میں 10 سالہ طورا، 7سالہ شاہ زیب، 5 سالہ عالم، 5 سالہ جنت،50 سالہ غلام حیدر، 45 سالہ رضا خان، 40 سالہ ثمینہ اور 45 سالہ صالح شامل ہیں۔ حادثہ اتنا خوفناک تھا کہ کار میں موقع پر 6 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 2شدید زخمیوں کو سول ہسپتال جامشورو لے جایا جارہا تھا کہ انہوں نے راستے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا تھا،پولیس کے مطابق حادثہ تیز رفتاری کے باعث اوورٹیک کرتے ہوئے پیش آیا، حادثے کا شکار کار حیدرآباد سے ٹھٹھہ جارہی تھی جبکہ کار سواروں کا تعلق بھی حیدرآباد سے بتایا جاتا ہے۔ حادثے کے بعد کار کو کاٹ کر گاڑی میں پھنسی نعشوں کو نکالا گیا۔ علاقے کے لوگوں اور ریسکیو کے عملے نے بمشکل ان لاشوں کو نکالا، پہلے انہیں سول اسپتال حیدرآباد کے مردہ خانے میں رکھوایا گیا جس کے بعد ہفتے کی صبح تمام لاشوں کو ان کے ورثاء کے حوالے کردی جن کی سائٹ ایریا گلشن ذیل پاک کے قریب قبرستان میں تدفین کردی گئی، یہ حادثہ اتنا خوفناک اور دلخراش تھا کہ تاحال پورا علاقہ سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔