رقمی اسلامک ڈیجیٹل بینک، پاکستان کی معاشی ترقی کی راہ میں ایک اور سنگ میل
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
ایس آئی ایف سی کے تعاون سے پاکستان کی معیشت پر عالمی شراکت داروں کا اعتماد مزید مضبوط ہونے لگا ہے۔
پاکستان کے مالیاتی شعبے میں ایک اور بڑی پیش رفت سامنے آئی جس میں کویت کے تعاون سے رقمی اسلامک ڈیجیٹل بینک کا آغاز ہوگیا۔
رقمی اسلامک ڈیجیٹل بینک اگلے ماہ پاکستان میں اپنے آپریشنز کا آغاز کرے گا، جس میں ابتدائی طور پر 10 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
رقمی اسلامک ڈیجیٹل بینک کویت انویسٹمنٹ اتھارٹی (KIA) کی معاونت سے قائم کیا گیا، رقمی بینک کا آغاز پاکستان کے مالیاتی شعبے کیلئے ایک بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی معیشت اور جاری اصلاحات پر عالمی اعتماد کا واضح ثبوت ہے، یہ سرمایہ کاری پاکستان کی معاشی سمت اور اصلاحاتی پالیسیوں پر بڑھتے بین الاقوامی اعتماد کی عکاس ہے۔
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان و کویت کے درمیان مالیاتی اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کا تعاون مضبوط ہو رہا ہے، یہ سرمایہ کاری پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی اور مالیاتی نظام کے استحکام میں اہم کردار ادا کرے گی۔
رقمی بینک مکمل طور پر ڈیجیٹل اسلامی بینک کے طور پر کام کرے گا۔ ڈیجیٹل بینکاری کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بینکاری نظام کو مؤثر بنانا اور زیادہ سے زیادہ افراد کو مالی نظام سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
ایس آئی ایف سی کی مؤثر سہولت کاری سے جدید اور پائیدار مالیاتی نظام کی راہیں ہموار ہو رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رقمی اسلامک ڈیجیٹل بینک سرمایہ کاری پاکستان کی
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔