میئر کراچی کا گل پلازہ متاثرین سے اظہارِ یکجہتی، ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:سانحہ گل پلازہ کے افسوسناک واقعے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے متاثرہ خاندانوں کو یقین دلایا ہے کہ انہیں کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور حکومت تمام دستیاب وسائل شہریوں کی مدد اور بحالی کے لیے بروئے کار لائے گی۔ میئر کراچی نے گل پلازہ آتشزدگی سے متاثرہ افراد کے گھروں کا دورہ کیا اور لواحقین سے ملاقات کے دوران تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ گل پلازہ کا سانحہ کراچی کی تاریخ کے المناک ترین واقعات میں سے ایک ہے، جس نے پوری قوم کو غمزدہ کر دیا ہے، دکھ کی اس گھڑی میں حکومت متاثرہ خاندانوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا، سانحے کے متاثرین کو تنہا چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔
میئر کراچی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں شہریوں کے دکھ اور تکلیف پر بھی سیاست کی جاتی ہے جو نہایت افسوسناک عمل ہے، گل پلازہ سانحے کے ذمہ داران کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور تمام ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا تاکہ آئندہ ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ اس واقعے نے شہر میں فائر سیفٹی اور عمارتوں کے حفاظتی انتظامات پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں، تحقیقات مکمل ہونے کے بعد غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ کراچی میں گزشتہ ہفتے 17 جنوری کی رات شہر کے معروف تجارتی مرکز گل پلازہ میں خوفناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ اتنی شدید تھی کہ ریسکیو اداروں کو امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سُمعیہ طارق کے مطابق اب تک اس سانحے کے نتیجے میں 71 لاشیں اور انسانی باقیات مختلف اسپتالوں میں منتقل کی جا چکی ہیں۔ ان کے مطابق 22 جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل مکمل ہو چکا ہے، جن میں سے 6 لاشیں قابلِ شناخت تھیں جبکہ 15 لاشوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ممکن بنائی گئی۔ شناخت کا عمل تاحال جاری ہے جبکہ مزید ڈی این اے رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
سانحہ گل پلازہ نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا بلکہ شہر بھر میں خوف اور غم کی فضا قائم کر دی ہے۔ شہری حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایسے واقعات کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو سزا دی جائے اور فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میئر کراچی گل پلازہ جائے گا کیا جا
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔