جناح ایئرپورٹ: 3 اہم اداروں کی چیکنگ عبور کرنے والے عمرہ مسافروں سے ممنوع اشیاء برآمد
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
فوٹو بشکریہ رپورٹر
جناح ایئرپورٹ پر 3 اہم اداروں کی چیکنگ عبور کرنے والے عمرہ مسافروں سے ممنوع اشیاء برآمد کر لی گئیں، 5 مسافروں اور ان کے تین سہولت کاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق مسافر 3 اہم سیکیورٹی چیک پوائنٹس اے این ایف، کسٹم اور اے ایس ایف عبور کرنے کے بعد امیگریشن کلیئرنس کے لیے پہنچے۔ مسافروں میں شاہ فیصل، محمد ہاشم، اسداللّٰہ، وقاص اور محسن شیخ شامل ہیں جو پاکستانی پاسپورٹس پر عمرہ ویزا کے حامل ہو کر سعودی عرب روانہ ہو رہے تھے۔
امیگریشن کلیئرنس کے دوران جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کاؤنٹر افسران کی جانب سے مشکوک حرکات کے باعث مذکورہ مسافروں کو مزید جانچ پڑتال کے لیے انچارج اور جی آر او کے پاس ریفر کیا گیا۔ جانچ پڑتال کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ کسی بھی مسافر کے پاس ہوٹل بکنگ موجود نہیں تھی اور نہ ہی ان کے پاس عمرہ کی ادائیگی کے لیے مناسب مالی وسائل تھے۔
تفصیلی پوچھ گچھ کے دوران معلوم ہوا کہ مذکورہ مسافر امیگریشن کاؤنٹر تک پہنچنے سے قبل ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس، اینٹی نارکوٹکس فورس اور کسٹمز کے تین سیکیورٹی چیک پوائنٹس عبور کر چکے تھے۔
امیگریشن سیکشن میں تفتیش کے دوران مسافروں کا سامان معائنہ کے لیے طلب کیا گیا۔ معائنے پر ان کے قبضے سے سگریٹ، نسوار، تمباکو، ادویاتی کریمیں، چھالیہ (Betel Nuts) اور دیگر ممنوع اشیاء کی بھاری مقدار برآمد ہوئی۔
حکام کے مطابق مصدقہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر 3 سہولت کاروں کو بھی جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے احاطے سے حراست میں لیا گیا جنہوں نے غیر قانونی کاروبار میں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ تمام 8 گرفتار افراد کو مزید قانونی کارروائی اور تفصیلی تفتیش کے لیے کسٹمز حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق اس بات کی تحقیق کی جا رہی ہے کہ مسافر تین اہم اداروں کی چیک پوائنٹس سے بچ کر کیسے نکلے؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے دوران حکام کے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔